انسان زندگی کے نشیب و فراز اور دن رات میں ہر طرح کا منظر دیکھ لیتا ہے۔ کبھی بھوک اور ننگ کی تنگی، کبھی دولت کی فراوانی۔ میں نے دونوں جہان دیکھے ہیں۔ خالی ہاتھوں کی تلخی بھی چکھی، اور فراوانی کی چمک بھی۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک چیز تھی جسے میں نے کبھی ہاتھ سے جانے نہ دیا: صبر و قناعت کا دامن۔
جس کی وجہ سے مایوسی نے میرے دل میں ڈھیرا نہ ڈالا۔ انسان علم و ہنر سیکھے، محنت کرے اور مشقت اٹھاٸے، پھر جو کچھ مل جاٸے، اس پر راضی رہے،تو اس کی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ انسان مخلوق ہے، وہ اپنے خالق کی تقسیم پر خوش رہے تو اسے خوشیاں ملتی ہیں، ورنہ مایوسی اسے گھیر لیتی ہے اور اس کا سکون تباہ کر دیتی ہے۔اس لیے امید کا دامن کسی حال میں نہیں چھوڑنا چاہیے،امید میں زندگی ہے۔ تنگی نے مجھے شکوہ کرنا نہ سکھایا۔ دولت نے مجھے غرور میں مبتلا نہ کیا۔ ہر حال میں دل نے یہی کہا کہ جو ملا اس پر شکر، اور جو نہ ملا اس پر صبر۔ قناعت وہ خزانہ ہے جو امیر کو بھی بے نیاز کر دیتا ہے، اور غریب کو بھی بادشاہ بنا دیتا ہے۔اپنے رب ، رازق اللّہ کی عطا پر راضی رہنے میں عزت ہے۔
ساتھ ہی تحمل و برداشت کو اپنا شعار بنایا۔ تیز بولنے ، آواز کو اونچا کرنےسے بات نہیں بنتی، دلیل میں طاقت ہے،نیز برداشت سے رشتے نبھتے ہیں۔ جب دل آزاری ہوئی، تب بھی زبان سے تلخ لفظ نہ نکلے۔ کیونکہ میں نے سیکھا تھا کہ تحمل انسان کی اصل قوت ہے۔ طوفان آئیں تو صبر کی چٹان بن کر کھڑے ہو جاؤ۔انسان صبر و تحمل کی قوت سے ابتلا و آزماٸش سے آسانی سے گزر جاتا ہے،کامیابی و کامرانی مقدر بن جاتی ہے،ورنہ مذید مشکلات سے دوچار ہو جاتا ہے۔اس لیے بے صبری اور عدم برداشت کو اپنے پاس نہ آنے دیجیے۔
سب سے بڑھ کر حق و سچ کو کبھی نہ چھپایا۔ مصلحت کی آڑ میں جھوٹ بولنا مجھے کبھی نہ آیا۔ سچ کڑوا سہی، پر دل کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔ عاجزی و انکساری کو اپنایا کیونکہ بڑائی کا تاج صرف اللّہ کے سر سجتا ہے۔اللّہ ہی خالق، مالک، رازق، رب، اور حاکم ہے۔انسان مخلوق ہے،مخلوق کی عظمت عاجزی میں ہے، انسان جتنا جھکتا ہے، اتنا ہی بلند ہوتا ہے۔ تکبر اور غرور انسان کو پستی اور پاتال میں گر دیتا ہے۔ایثار و قربانی کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ جو کچھ اپنے پاس ہے، اس میں سے دوسروں کا حصہ نکال دو۔ یہی انسانیت ہے۔ اپنی خوشی قربان کر کے کسی کا چہرہ کھلا دو تو دل کو جو سکون ملتا ہے، وہ دولت سے نہیں ملتا۔
اگر اپنے پاس سے اپنا نہیں دے سکتے تو کم از کم اس کا حق تو اسے دے دو،کسی کا حق مارنا ظلم ہے،یہ ظلم تو نہ کرو،اللّہ کی مخلوق کو آسانیاں اور خوشیاں عطا کرنے میں تعاون کیجیے۔ظلم و زیادتی سے اجتناب کیجیے۔غرض یہ کہ بھوک دیکھی، ننگ دیکھا، دولت بھی دیکھی۔ مگر ان سب سے بڑھ کر صبر، قناعت، سچائی، عاجزی اور ایثار کو اپنا زیور بنایا۔ یہی زیور ہے جو قبر تک ساتھ جاتا ہے، اور یہی سرمایہ ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے۔انسانی معاشرے میں اجتماعیت پیدا کرتا ہے، اجتماعیت سے امن و سلامتی کا دَور دَورہ ہوتا ہے،انسانی معاشرہ تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے، خوشحالی کی راہ آسان ہو جاتی ہے۔خوشحالی آٸے گی تو بہار آئے گی۔
مرجھائے ہوئے چہرے شادابی پائیں گے،خوشیاں اور خوشبو پھیلیں گی،لیکن اس کے لیے ہم کو پھول، جگنو اور شاہین کی صفات اپنانی ہوں گی۔آٸیے ہم سب مل کر معاشرے میں موجود بگاڑ ختم کرنے کی کوشش کریں،خیر و بھلاٸی ،بناٶ اور اچھاٸی کو عام کرنے کی جہدِ مسلسل کریں۔



تبصرہ لکھیے