20-21 اپریل 2026 کو امریکہ کی 32 مختلف ریاستوں سے ایک ہزار مسلمان سیاسی رضاکار واشنگٹن ڈی سی میں دو دن کے لئےامریکی کانگریس کے نمائندگان سے ملنے کی خاطر جمع ہوئے۔ مگر کیوں؟
یہ جاننے سے پہلے آپ کے لئے درجِ ذیل معلومات سے واقف ہونا ضروری ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ تبدیلیوں کی زد میں ہے۔کچھ تبدیلیاں بہت مثبت ہیں اور یقیناً بہت دُور رس بھی۔
امریکہ کے بارے میں
یہ تاثر عام ہے کہ
• یہ گوری نسل کی متعصب اکثریت کا ملک ہے، جو کالے، پیلے اور گندمی رنگ و نسل کے لوگوں کو برداشت تو کر سکتی ہے، مگر امورِ مملکت میں انکی حقیقی شراکت انہیں کبھی قبول نہیں۔
• صلیبی جنگوں کے تاریخی پس منظر کے باعث ان امریکیوں کی ذہنی، سماجی اور مذہبی ساخت میں مسلم دشمنی (اسلامو فوبیا) کا کیڑا اُن کی سوچ میں ہمیشہ اضطراب کی حالت میں رہتا ہے۔
• امریکہ پرصیہونیوں کی مضبوط علمی،معاشی، معاشرتی اور سیاسی گرفت کے باعث یہ ملک ہمیشہ اسرائیل کے چنگل میں رہے گا اور یوں مسلم دنیا اُس کے قلب میں کانٹے کی طرح چُبتی رہے گی۔
یہ تینوں تصورات اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
• امریکی آبادی جس کی اکثریت گوروں پہ مشتمل تھی اب رنگین آبادی کے لوگوں کے برابر آچکی ہے اور آنے والی مردم شماری میں پچاس فیصد سے بھی کم ہو جائے گی ۔اس وقت یہ تناسب تقریباً ففٹی ففٹی ہے۔ شہروں کی سطح پر میونسپلیٹیز میں، ریاستی سطح پر سٹیٹ اسمبلیوں میں اور وفاقی سطح پر سینٹ اور کانگریس کے انتخابات میں یہ حقیقت اب مسلسل آشکار ہو رہی ہے۔باراک اوبامہ کی صورت میں کالی نسل کے پہلے صدر کے انتخاب نے اس تصور پر کاری ضرب لگا دی تھی۔
• امریکی معاشرت میں مسلم تہذیب و تمدن کاموثر تعارف پچھلی صدی کی چھٹی دہائی (1960) میں ہوا۔ اسلام دو مختلف سمتوں سےامریکی معاشرت میں داخل ہوا۔سیاہ فام آبادی کے ایک باشعور حصے میں یہ احساس عام ہوا کہ، غلام بن کر امریکی سرزمین پہ آنے سے قبل، افریقہ میں اُن کے آباء واجداد مسلمان تھے اور انہیں اپنی اصل کی طرف لوٹ آنا چاہئے۔چنانچہ سیاہ فاموں کو اسلام کی طرف پلٹ آنے میں کشش محسوس ہوئی اور بتدریج ایک بڑی تعداد مسلمان ہوتی چلی گئی۔ دوسری طرف مسلمان ملکوں سے حصولِ علم کے لئے آنے والی طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے امریکی یونیورسٹیوں کا رخ کیا۔ وہ اپنے دین اور تہذیب سے جڑے رہنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے تعلیمی اداروں کی سطح پہ منظم ہونے کا آغاز کیا۔ مسلم ممالک کے نا موافق سیاسی سماجی اور معاشی حالات کے باعث ان طلبہ کی اکثریت ،واپس جانے کی بجائے، امریکہ ہی میں قیام پزیر ہوتی چلی گئی۔ اکثر مسلم ممالک میں سیاسی جبر اورمعاشی مواقع نہ ہونے کے سبب نوجوانوں کی مزید ایک بڑی تعداد بھی امریکہ میں آنا اور آباد ہونا شروع ہو گئی۔ یوں شہر شہر مساجد، سنڈے سکولز اور مسلم سنٹرز کھلتے چلے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت امریکہ میں ساڑھے تین ہزار سے زائد مساجد،سینکڑوں تعلیمی ادارے اور کئی درجن مؤثر تنظیمات موجود ہیں۔ اس وقت امریکہ میں مسلمان آبادی پانچ ملین کے قریب قریب ہے۔ان میں ایک اچھی تعداد پڑھے لکھے اور پروفیشنل افراد پر مشتمل ہے۔
• ان امریکی مسلمانوں کی بڑی تعداد کو اسلامو فوبک رویوں کا مسلسل سامنا رہتا ہے۔ ایک بڑی وجہ یہودی اور عیسائی صیہونیوں کی طرف سے وہ پراپیگنڈہ ہے جو وہ مسلم تہذیب و تمدن کے خلاف کرتے رہتے ہیں۔اور دوسرا سبب مشرق وسطیٰ کے حالات اور خاص طور پر فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریکوں کی اثر پذیری کے سبب ہے۔ مگر مشکل حالات اور چیلنجز ہی دراصل بقا اور نشو و نما کا سبب بنتے ہیں۔
امریکی مسلمانوں اور انکی اہم تنظیموں نے ان مشکل حالات کا صبر، حوصلے اور دانش مندی سے مقابلے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مقامی سطح پر سیاسی عمل کا بھرپور حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُن کی جانب سےمختلف کمیونیٹیز کے ساتھ سیاسی اتحاد بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ فلسطینیوں کے جائز اور برحق سیاسی وانسانی حقوق کی حمایت، اس مہم کا اہم حصہ ہے۔ غزہ میں اسرائیلی بربریت اورنسل کشی کے بعد امریکی رائے عامہ میں بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں اور اِن میں یو ایس اے کی مسلم تنظیموں کی پرُ امن اور پُر مغر جدوجہد کا بہت اہم کردار ہے ۔
اسلامو فوبیا کے خلاف شعور بیدار کرنے، اپنے حقوق کے تحفظ اور اظہار کے حق کی آزادی کے لئے مشترکہ جدوجہد کی خاطر،آج سے دس سال قبل امریکی مسلمانوں کی اہم تنظیموں، نے “یو ایس کونسل آف مسلم آرگنائزیشنز” بنائی۔ یہ کونسل اپنے جواں سیاسی رضاکاروں کو سال بھر اس بات کی ٹرینگ دیتی ہیں کہ امریکی قانون سازوں (سینٹ اور کانگریس کے ارکان)کو مسلمانوں کے جائز حقوق سے کیسے آگاہ کرنا ہے اور پھر ہر سال اپریل کے آخری عشرے میں ان کے ساتھ واشنگٹن پہنچ کر قانون سازوں سے کیپیٹل ہل میں باقاعدہ وقت طے کر کے ملاقاتوں کا اہتمام کرتی ہے۔ یہ دن “مسلم کیپیٹل ہل ڈیز”کہلاتے ہیں۔ اپنا نقطہ نظر پہچانے، امریکی سیاسی عمل کو سمجھنے اور اپنی کمیونٹی کو اعتماد اور اعتبار دینے کا یہ ایک شاندار موقع ہوتا ہے۔
اس سال 20 اور 21 اپریل کو لگ بھگ بتیس امریکی ریاستوں سے ان مسلم تنظیمات کے تقریباً ایک ہزار رضاکار اس مہم کا حصہ بننے کے لئے کیپیٹل ہل واشنگٹن پہنچے۔
اکنا (اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ) اس تنظیم اور مہم کا ایک اہم حصہ اور دست و بازو ہے۔یہ اس مہم کا گیارواں سال تھا اور اس سال اکنا کے 450 رضاکار اس مہم کا حصہ بنے۔ امریکہ سے آئی یہ خبر کوئی عام سی خبر نہیں۔امریکہ کے جمہوری سیاسی عمل میں مسلمانوں کی شرکت کے عمل کو پختہ بنیادیں فراہم کرنے والی بظاہر چھوٹی سی خبر دُور رس مثبت اثرات کی حامل ہے
پاکستان اور مسلم دنیا کے سیاسی ورکرز کے لئے بھی اس سیاسی عمل میں سیکھنے کے بہت سارے پہلو ہیں۔


تبصرہ لکھیے