اقوام متحدہ نیویارک میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندہ عامر سعید اراوانی کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر دنیا کی نہایت اہم سمندری گزرگاہ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کو اجاگر کر دیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بحری نقل و حمل میں کسی بھی خلل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ایران نے نہ صرف اپنا سفارتی مؤقف واضح کیا ہے بلکہ اس خطے میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک کشمکش اور عدم اعتماد کو بھی نمایاں کیا ہے۔
اس کشیدگی کے مرکز میں آبنائے ہرمز واقع ہے، جو پرشین گلف کو گلف آف اومان سے ملاتی ہے۔ اپنی جغرافیائی تنگی کے باوجود یہ آبی راستہ عالمی سطح پر بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جو اسے عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ کے لیے ناگزیر بناتا ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی بدامنی یا رکاوٹ عالمی منڈیوں میں فوری اتار چڑھاؤ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل کا سبب بن سکتی ہے۔
ایران کا مؤقف خودمختاری اور دفاعی حکمت عملی پر مبنی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایک ساحلی ریاست ہونے کے ناطے اسے اپنی سمندری حدود میں سلامتی کو یقینی بنانے کا مکمل حق حاصل ہے۔
اس کے مطابق غیر ملکی افواج کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور عسکری سرگرمیاں خطے میں کشیدگی کا باعث بن رہی ہیں اور جہاز رانی کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ایران کے مطابق اس کے اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد اس اہم آبی گزرگاہ کو دشمنانہ مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے۔ تاہم یہ مؤقف عالمی سطح پر متنازع بھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی پابندیاں یا غیر یقینی صورتحال بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کے اصول کے خلاف ہے، جو عالمی بحری قوانین کا بنیادی ستون ہے۔ عالمی شپنگ انڈسٹری پہلے ہی بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث تشویش کا شکار ہے، اور ایسے اقدامات اس خدشے کو مزید بڑھاتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ خود کو بحری سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی کا ضامن قرار دیتا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق اس کی بحری موجودگی کا مقصد عالمی تجارتی راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھنا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے جہازوں کی ضبطگی اور مبینہ “سمندری ناکہ بندی” جیسے الزامات اس بیانیے کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خطہ طاقت کے مقابلے کا میدان بنتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ایک کلاسیکی “سیکیورٹی مخمصہ” کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ہر فریق اپنے اقدامات کو دفاعی اور ضروری قرار دیتا ہے جبکہ دوسرے کے اقدامات کو جارحانہ سمجھتا ہے۔ ایسے ماحول میں معمولی غلط فہمی یا حادثہ بھی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
مزید تشویش ناک پہلو اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل جیسے اداروں کا کردار ہے، جو اگرچہ مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں، مگر بڑی طاقتوں کے درمیان اختلافات کے باعث مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ دوہرے معیار اور سیاسی مفادات کے الزامات ان اداروں کی ساکھ کو مزید کمزور کر دیتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک توانائی کی ضروریات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ کسی بھی طویل تعطل سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
اس پیچیدہ صورتحال کا حل تصادم میں نہیں بلکہ تعاون میں پوشیدہ ہے۔ اعتماد سازی کے اقدامات، شفاف رابطہ کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خطے کے ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تاکہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کم ہو اور پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ آخرکار، یہ مسئلہ صرف دو ممالک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے۔ آبنائے ہرمز ایک عالمی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس کا محفوظ اور کھلا رہنا عالمی ذمہ داری ہے۔
اگر اسے تصادم کا مرکز بننے دیا گیا تو اس کے اثرات سرحدوں سے ماورا ہوں گے۔ ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی کئی بحرانوں سے دوچار ہے، اس اہم آبی گزرگاہ کا تحفظ نہ صرف ایک اسٹریٹجک ضرورت بلکہ عالمی ذمہ داری بھی ہے۔



تبصرہ لکھیے