ہوم << دہشت گرد وزیراعظم – ڈاکٹر تصور بھٹہ “اہل وفا کی بستی” سے ایک اقتباس
600x314

دہشت گرد وزیراعظم – ڈاکٹر تصور بھٹہ “اہل وفا کی بستی” سے ایک اقتباس

فلسطین میں ’’دہشت گردی کا جدِ امجد‘‘، منہیم بیگن – دہشت گرد سے وزیر اعظم تک اور دہشت گردی سے وزرات عظمیٰ اور وزرات عظمی سے امن کے نوبل انعام، تک کا سفر اس جدید انسانی تاریخ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔جسے انسانی حقوق کی چمپئین ہونے کا دعویٰ ہے ۔

میں جبل زیتون کی ڈھلوان پر لگی ریلنگ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے اپنے سامنے پھیلی وادی کیدرون کے ہوش ربا نظارے میں گم تھا ۔
میرے سامنے وادی میں صدیوں پرانی تاریخ کے انمول اوراق ہر طرف بکھرے ہوئے تھے ۔
یہ وادی صرف فطرت کا انتہائی حسین شاہکار ہی نہیں ہے تاریخ کا انوکھا عجائب گھر بھی ہے جس میں کھلے آسمان کے نیچے ہر قدم پر تاریخ یہ کہہ کر پیروں کی زنجیر بن جاتی ہے کہ
“ جا اینجا است”

اچانک حمزہ نے میری توجہ یہودیوں کے ایک گروہ کی طرف کروائی ۔ جو بس سے اتر کر وادی کی ڈھلوان کی طرف جا رہاتھا ۔
وہ ہمارے قریب سے گزرے اور اس طرف چل دیئے جہاں نیچے کچھ فاصلے پر بہت سے یہودی ایک قبر کے گرد جمع تھے .

“یہ کس کی قبر ہے ۔”
میں نے سوالیہ اندازمیں حمزہ کی طرف دیکھا ۔
“پتہ نہیں بابا چلیں آئیں چل کر دیکھتے ہیں ۔ “
اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا اور پھر میر ے جواب کا انتظار کئے بغیر بے تکلفی سے یہودیوں کے اس گروہ کے پیچھے چل دیا.
میں اسے روکتا ہی رہ گیا لیکن وہ آگے جا چکا تھا ۔ مجبوراً میں بھی اس کے پیچھے لپکا ۔

ایک یہودی نوجوان نے پیچھے مڑ کر ہماری طرف دیکھا اور ہمیں اپنی طرف آتا دیکھ کر رک گیا اور سوالیہ انداز میں ہماری طرف دیکھنے لگا ۔
حمزہ نے عبرانی میں اسے بوکر توو (گڈ مارننگ ) کہا تو اس کے چہرے پر ایک خوشگوار سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔ اس نے دوستانہ انداز میں جواب دیا ۔
حمزہ نے اس سے میرا اوراپناتعارف کروایا اور پوچھا کہ یہ قبر کس کی ہے جس کے گرد یہودی اکٹھے ہیں ۔
اور اس کا جواب سن کر سنسنی کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی ۔

وہ قبر منہیم بیگن کی تھی ۔

فلسطین میں دہشت گردی کا موجد .
فلسطین کی برطانوی گورنمنٹ کا سب سے مطلوب شخص،جس کے سر کی قیمت انہوں نے دس ہزار پاؤنڈ مقرر کر رکھی تھی ۔لیکن وہ کبھی بھی مفرور بیگن کو پکڑ نہ سکے ۔

منہئیم بیگن اسرائیل کا دہشت گرد وزیراعظم ۔۔ جس کی گردن پر صابرہ اور شتیلا کے بے گناہ تین ہزار فلسطینی پناہ گزینوں کے قتل کا الزام تھا ۔

جو دیر یاسین کے مظلوموں کا قاتل تھا جس کے حکم پر گہری نیند سوئے ہوئے اڑھائی بچے بوڑھے مرد وزن زندہ جلا دئیے گئے تھے ۔

وہی بیگن،میرے بچپن کے دورمیں جس کا بہت شہرہ تھا ۔ جس کا نام سن سن کر میں جوان ہواتھا
جیسے آج کے بچے اس کے شاگرد خاص نیتین یاہو کا نام صبح و شام سنتے ہیں ۔

ہگانہ ، ارگون اور لیہی نامی تین دہشت گرد تنظیمیں جو فلسطین کے برطانوی راج کے دوران ۱۹۲۰ ء اور ۱۹۴۸ ء کے درمیان سر گرم عمل رہیں جنہوں نے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ ان کا قتل عام کیا ،انہیں جبراً گھروں سے بے دخل کیا ۔ خواتین کی عصمت دری کی ۔ اسرائیل بننے کے بعد انہوں نے نام بدل لئے ۔ بن گوریان کی ارگون اسرائیلی فوج ( آئی ڈی ایف ) بن گئی ۔
منہیم بیگن کی ارگون اور یتزہک شامیر کی لہی موساد میں تبدیل ہو گئیں ۔

بن گوریان سے بنجمن نیتن یاہو تک اسرائیل میں اب تک چودہ وزراِئے اعظم آئے ہیں۔ان میں سے تین وزیر اعظم خود دہشت گرد تھے۔ دہشت گرد کاروائیوں کو منظم کرتے تھے ۔ مفرور تھے ان کے سروں پر برطانوی گورنمنٹ نے انعام مقرر کر رکھا تھا ۔ تینوں کا نظریاتی شجرہ صیہونی ترمیم پسند رہنما زیو جیوبٹنسکی سے جا ملتا ہے جو عربوں کی نسل کشی کا سب بڑا وکیل تھا ۔

منہیم بیگن ، یتزہک شامیر اور ایریل شیرون ۔
تینوں سزا یافتہ ، تصدیق شدہ اشتہاری مجرم ۔ اور تینوں بعد میں اسرائیل کے وزیراعظم بنے ۔

اور یہ قبر منہیم بیگن کی تھی ۔

دہشت گرد تنظیم ارگون کا بانی۔ ارگون ملیشیا کا لیڈر ۔ جس کی سر براہی کے دور میں لہی اور ارگون نے باہمی اشتراک کر کے فلسطین کے برطانوی راج کے خلاف دیشت گرد اور زمین دوز سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا تاکہ برطانیہ فلسطین یہودیوں کے حوالے کر کے خود رخصت ہو جائے ۔ یروشلم میں امیگریشن اور انکم ٹیکس دفاتر پر حملے ، یروشلم ریلوے سٹیشن کی تباہی ۔ قاہرہ میں برطانوی نائب سفیر لارڈ میون کا قتل ، برطانوی فوج پر حملے ، برطانوی فوجیوں کا قتل عام ۔ ایکر کی جیل پر حملہ کر کے چھبیس دہشت گردوں کو چھڑوانا یہ سب کاروائیاں بیگن کے سینے پر تمغے کی طرح سجی تھیں ۔

بائیس جولائی ۱۹۴۶ ء کو اس نے فلسطین کی برطانوی گورنمنٹ کے ہیڈ کوارٹر کو بم سے اڑانے کا حکم دیا تھا ۔ کنگ ڈیوڈ ہوٹل کی تباہی سے نہ صرف صیہونی دہشت گردی اور دہشت گردوں کا سار ریکارڈ تلف ہو گیا بلکہ اکیانوے ہلاکتیں بھی ہوئیں۔چھیالیس سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ اس پر مقدمہ چلا ۔ اسے مجرم ٹھہرایا گیا لیکن برطانوی گورنمنٹ اسے گرفتار نہ کر سکی اور وہ مفرور ہو گیا ۔ مفرور مینہم بیگن کے سر پر برطانوی انتظامیہ نے دس ہزار پاؤنڈ کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔ اسرائیل بننے تک وہ نام بدل بدل کر اور اپنی شناخت تبدیل کر کے ان دہشت گرد کاروائیوں کی قیادت کرتا رہا ۔

مجھے اپنے ٹیکسی ڈرائیور ابو قاسم کا آنسوؤں میں بھرا چہرہ یاد آگیا جس کا سارا ننھیال۔۔ اس کی ماں کا سارا خاندان ارگون اور لہی کی ظالمانہ اور بے رحمانہ کاروائی کی نذر ہو گیا تھا جب بیگن کے ہی حکم پر نو اپریل انیس سو اڑتالیس کی رات اپنے گھروں میں سوئے ہوئے دیر یاسین گاؤں کے اڑھائی سو سے زیادہ باشندوں کو آگ لگا کر زندہ درگور کر دیا گیا تھا ۔
انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل بنا اشتہاری بیگن اپنی روپوشی کی زندگی ترک کر کے منظر عام پر آگیا ۔

ارگون موساد بن گئی اور بیگن نے ہیروت پارٹی بنا لی ۔ دہشت گردی چھوڑ کر اس نے سیاست دان کا روپ دھار لیا ۔

اگلے ہی سال انیس سو انچاس میں وہ اسرائیل پارلیمنٹ کنیسٹ کا ممبر منتخب ہو گیا ۔اور پھر انیس سو تراسی تک مسلسل پارلیمنٹ ممبر رہا ۔ انیس سو تہتر میں ہیروت پارٹی نے دائیں بازو کے لیخود اتحاد کا روپ دھارا۔ انیس سو ستتر میں وہ اسرائیل کا وزیر اعظم بن گیا۔ وہی منہئیم بیگن جسے برطانوی گورنمنٹ نے دہشت گرد قرار دے کر اس کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی ۔ اس کے سارے گناہ معاف ہو گئے ۔اس پر عائد ساری پابندیاں ہٹ گئیں ۔ برطانیہ نے اپنے شہریوں کا قتل بھی اسے معاف کر دیا ۔ برطانیہ کی ملکہ نے اس کے اعزاز میں عشائیہ دیا ۔ بکنگھم پیلس کے باہر اسے گارڈ آف آنر دیا گیا ۔

دنیا نے بھی اس کے جرائم پر پردہ پوشی اختیار کر لی ۔ انیس سو اناسی میں اس نے امریکی صدر رونالڈ ریگن کی ثالثی میں مصر کے صدر انور سادات کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ سجھوتے پر دستخط کے بعد جزیرہ نما سینا مصر کو واپس کیا تو اسے اور انور سادات کو نوبیل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا ۔ ہزاروں انسانوں کا قاتل ۔ دہشت گرد امن کے سب سے بڑے انعام کا حقدار بن گیا ۔لیکن امن کا سب سے بڑا انعام بھی اس کی خون آشام فطرت نہ بدل سکا۔ وہ بدستور امن کا سب بڑا دشمن بنا رہا ۔ اس کے دور میں روس سے دس لاکھ یہودی اسرائیل منتقل ہوئے اسرائیل میں یہودی نو آبادیوں کی تعداد دگنی ہوگئی ۔ انیس سو سڑسٹھ میں شام سے چھینی گئی گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل میں ضم کیا گیا .

ستمبر انیس سو بیاسی میں بیگن نے اپنے وزیرِ دفاع ایریل شیرون کے ساتھ مل کر بیروت کے صابرہ و شتیلا کیمپوں میں تین ہزار فلسطینی پناہ گزینوں کا قتلِ عام کیا۔ایک عدالتی کمیشن نے بیگن کو بلاواسطہ اور شیرون کو براہ راست ذمے دار ٹھہرایا۔دونوں نے استعفی دے دیا۔ دس اکتوبر انیس سو تراسی کو بیگن مستعفی ہوا تو ایک اور دہشت گرد لہی کے بانی یتزہک شامیر نے وزارتِ عظمیٰ کی کرسی سنبھال لی۔ ایک اور اشتہاری دنیاکی نظروں محترم و مکرم ہو گیا بیگن نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بعد گوشہ نشینی اختیار کر لی اور اسی حالت میں نو مارچ انیس سو بانوے کو اس کا انتقال ہو گیا ۔ بیگن نے وصیت کی کہ اسے ماؤنٹ ہرزل میں دفن کرنے کی بجائے جبل زیتون کے یہودی قبرستان میں دفن کیا جائے ۔

بنجمن نتین یاہو کی لیخود پارٹی کا بانی ۔ اسرائیل کا چھٹا وزیراعظم منہئیم بیگن ۔یہاں دفن تھا ۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیالیکن یہ سچ تھا ۔ یہ سارے یہودی اس کی قبر پر اسے خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہی تو جمع تھے ۔ جو غالباً کسی یونیورسٹی کے طلبہ تھے ۔

ہم وہیں مٹر گشت کرتے رہے اور جب وہ سارے یہودی وہاں سے رخصت ہو گئے تو ہم اس کی قبر پر پہنچ گئے ۔ لیکن وہ اکیلا نہیں تھا ۔ ساری عمر دہشت گردوں کے بیچ زندگی گزارنے والا بیگن مرنے کے بعد بھی دہشت گردوں کے بیچ دفن ہے ۔ یہاں بھی دہشت ہی اس کے پڑوسی تھے ۔اس کے دائیں جانب اس کی بیوی علیزہ دفن تھی تو بائیں جانب ارگون کے دہشت گرد مائر فینسٹائین اور لہی کے موشے برزانی کی قبریں تھیں ۔ جنھیں اسرائیل کے قیام سے قبل انیس سو سنتالیس کو ایک برطانوی فوجی عدالت نے دہشت گردی کی پاداش میں سزاِئے موت سنائی تھی۔ دونوں نے اکیس اپریل انیس سو سنتالیس کو یروشلم کے روسی کمپاؤنڈ میں عین اُس دن جب انہیں پھانسی ہونے والی تھی ۔ تختہ دار پر جھولنے کے بجائے خود کو دستی بموں سے اڑا لیاتھا ۔

آج یہ سارے دہشت گرد اسرائیل کے ہیرو ہیں۔ نتین یاہو کئی بار اپنے عوامی خطاب میں انہیں یہودیوں کا محسن قرار دے چکا ہے ۔ اسرائیل کے سکولوں اور کالجوں یونیورسٹیوں کے طلبہ انہیں خراج عقیدت پیش کرنے ان کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں اور فلسطینیوں پر دہشت گردی کا الزام دھرتے ہیں ۔ میری آنکھوں کے سامنے بیگن کی زندگی کے واقعات فلم کی طرح گھوم رہے تھے اور کانوں میں اقبال کے الفاظ گونج رہے تھے

تری دوا نہ جنیوا ميں ہے ، نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے
سنا ہے میں نے ، غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment