ہوم << گوبر ٹیکس – حمیراعلیم
600x314

گوبر ٹیکس – حمیراعلیم

مریم نواز صاحبہ کی حکمرانی کا انداز دیکھ کر اکثر یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے کسی نو آموز اناڑی ڈرائیور کو فارمولا ون ریسنگ کار پکڑا دی گئی ہو۔ جسے یہ تو معلوم ہے کہ ایکسیلیٹر کہاں ہے اور رفتار کیسے بڑھانی ہے، مگر اسے یہ نہیں معلوم کہ بریک کب مارنی ہے اور اسٹیئرنگ کو توازن کے ساتھ کیسے سنبھالنا ہے۔

وہ اقتدار کے اس تختہ مشق پر انسانوں کے ساتھ ایسے تجربات کر رہی ہیں جن کی منطق سمجھنے سے عام آدمی قاصر ہے۔ کبھی سالہا سال کی محنت سے بنے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے تو کبھی مارکیٹوں پر بلڈوزر چلا کر معیشت کی دیواریں گرائی جا رہی ہیں . ​اب ان کی حیرت انگیز ذہانت کا تازہ ترین ثبوت گوالہ کالونیوں میں ہر بھینس پر روزانہ 30 روپے گوبر ٹیکس کا نفاذ ہے۔ اس حکم نامے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اب گوالوں کو بھینسوں کے پیچھے دستانے اور تھیلے لے کر پھرنا پڑے گا تاکہ گوبر زمین پر گرنے سے پہلے ہی سمیٹ لیا جائےیا پھر شاید اب بھینسوں کو باقاعدہ پوٹی ٹرینڈ کرنا ہوگا کہ وہ صرف ٹوائلٹ ہی استعمال کریں۔

حکومت کے ان اقدامات کو دیکھ کر اب یہ فکر لاحق ہو رہی ہے کہ کہیں کل کلاں مریم صاحبہ انسانوں پر بھی واش روم ٹیکس نہ لگا دیں جس کی کٹوتی براہِ راست بجلی کے بلوں کے ذریعے کی جائے۔ان کا اندازِ حکومت کسی ایسے مغل شہزادے جیسا ہے جو عوام کے دکھ درد سے بے خبر، اپنے محل کی بالکونی میں بیٹھ کر ایسے احکامات جاری کرتا ہے جس سے رعایا کا جینا محال ہو جائے۔ گھر مسمار کرنا ہو یا گوبر پر ٹیکس لگانا، ایسا لگتا ہے جیسے یہ کوئی سنجیدہ پالیسی نہیں بلکہ شاہی شوق کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ جہاں ہر صبح ایک نیا انوکھا تجربہ جنم لیتا ہے۔

پنجاب کی انتظامیہ اس وقت ایسے سرجن کے ہاتھ میں ہے جو اناٹومی سے ناواقف ہے۔ اور علاج کے نام پر مریض کا وہ عضو کاٹ دیتا ہے جس میں کوئی تکلیف ہی نہ ہو۔ کبھی تجاوزات کے نام پر غریب کا روزگار چھینا جاتا ہے تو کبھی گوالوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ عوام بے چارے ان تجربات کے لیے گنی پگ بن چکے ہیں۔ یہ صورتحال دیکھ کر ماضی کے مشہور مزاحیہ پروگرام ‘ہم سب امید سے ہیں’ کا وہ منظر یاد آ گیا جس میں دکھایا گیا تھا کہ سانس لینے، گھر کا دروازہ کھولنے اور بائیک اسٹارٹ کرنے اور دیگر کاموں کے لیے ایک مخصوص کارڈ درکار ہوگا۔

اور کارڈ میں رقم ختم ہونے کا مطلب زندگی کے تمام بنیادی افعال کی بندش ہوگا۔ سچ تو یہ ہے کہ بندر کے ہاتھ ڈگڈگی لگ چکی ہےاب دیکھیے عوام کو مزید کتنے تماشے دیکھنا نصیب ہوتے ہیں۔ اللہ اس قوم کے حال پر رحم فرمائے!

مصنف کے بارے میں

حمیرا علیم

حمیراعلیم کالم نویس، بلاگر اور کہانی کار ہیں۔ معاشرتی، اخلاقی، اسلامی اور دیگر موضوعات پر لکھتی ہیں۔ گہرا مشاہدہ رکھتی ہیں، ان کی تحریر دردمندی اور انسان دوستی کا احساس لیے ہوئے ماحول اور گردوپیش کی بھرپور ترجمانی کرتی ہیں۔ ایک انٹرنیشنل دعوی تنظیم کے ساتھ بطور رضاکار وابستہ ہیں اور کئی لوگوں کے قبول اسلام کا شرف حاصل کر چکی ہیں۔ کہانیوں کا مجموعہ "حسین خواب محبت کا" زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment