ہوم << حالیہ جنگ کا کچھ نقشہ – عبدالسلام فیصل
600x314

حالیہ جنگ کا کچھ نقشہ – عبدالسلام فیصل

حالیہ جنگ (فروری-اپریل 2026) سے اب تک میں ایران نے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں جن میں تیل کی تنصیبات (جیسے Ras Tanura ریفائنری، Yanbu، Al Jubail)، معاشی/توانائی ادارے، پورٹس اور ہوائی اڈوں کے قریب یا متعلقہ مقامات نشانہ بنائے گئے۔

یو این کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت(جو عالمی قانون کا بنیادی اصول ہے) سعودی عرب کو مکمل حق دیتا ہے کہ وہ اپنی ریاستی خود مختاری کا دفاع کرے۔ اگر “armed attack” ہو (یعنی ایران کی طرف سے میزائل/ڈرون حملے جو سعودی علاقے پر ہوں)، تو سعودی عرب کو فوری، ضروری اور متناسب (proportionate) جواب دینے کا حق ہے۔
یہ حملے تیل تنصیبات، معاشی اداروں اور ہوائی اڈوں پر ہونے کی وجہ سے “armed attack” شمار ہوتے ہیں (ICJ کے Oil Platforms کیس اور UNSC Resolution 2817 کے مطابق)۔ اور سعودی عرب ایرانی فوجی اہداف (جیسے IRGC کے میزائل لانچرز، ڈرون بیس، یا خارک آئی لینڈ جیسے اہم اڈے) پر حملہ کر سکتا ہے ۔

اس کے باوجود سعودی عرب سمیت کویت اور دوسرے اسلامی ممالک ایرانی بدمعاشی پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اور سوائے سفارتی بیان بازی کے ابھی تک کوئی عملی ایکشن نہیں لیا . لیکن ایران کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ وہ اپنے حمایتی ممالک کا اعتماد بھی کھو سکتا ہے ۔ پاکستان سر توڑ کوششوں سے سفارتی سطح پر صلح کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ ایسے میں ایران بھی سعودی عرب کی طرح صبر و تحمل کا مظاہرہ نہ کرے تو یقینی طور پر وہ پاکستان کے مفادات کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے ۔ پاکستان پہلے ہی یہ واضح کر چکا ہے اور بار بار واضح کر چکا ہے کہ پاکستان کا سعودی عرب سے مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے ۔ اگر پاکستانی مفادات کے تحفظ کا احترام بھی ایرانی حکومت یا فوج نہ کرے ۔تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر لحاذ سے کھڑا ہو گا ۔ ایران نے ابھی تک اہل غزہ اور فلسطینیوں کے لئے کیا مشکلات کھڑی نہیں کی ہیں۔

1: ابھی تک جنگ بندی معاہدوں میں غزاویوں پر بمباری روکنے کا مطالبہ سامنے نہیں آیا جو مطالبہ سعودی عرب آج بھی دہرا رہا ہے ۔

2: ابھی تک غزہ کی تعمیر نو اور انسانی بحالی کا کوئی مطالبہ ایران نے جنگ بندی معاہدے کے لئے نہیں کیا ۔ جبکہ تعمیر نو اور انسانی بحالی کی سب سے زیادہ کوششیں اور عملی اقدامات اس وقت سعودی عرب کر رہا ہے ۔

3: اگر ایران واقعی “فلسطینی حقوق” کے لیے لڑ رہا ہے تو اسے فوجی مزاحمت کے بجائے سفارتی دباؤ، proxies پر کنٹرول اور موجودہ جنگ بندی کی تعمیل کرنا چاہیے تھی۔ اس کے برعکس، علاقائی جنگ پھیلانے سے غزہ کا امن عمل رک گیا، فلسطینیوں کو مزید نقصان ہوا، اور سعودی عرب جیسے ممالک (جو فلسطین کی حمایت کرتے ہیں) کو نشانہ بنا کر اپنا سفارتی اعتماد کھو دیا ۔

پاکستان کو یقینی طور پر ایسے حالات میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا ۔ ایران کا سعودی معاشی مراکز پر حملہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس کے حملے قطعی طور پر خطے میں موجود امریکی دفاعی تنصیبات پر نہیں ہو رہے ۔۔ بلکہ یہ حملے اس کے معاشی مراکز پر ہو رہے ہیں. جب کہ سعودی عرب سفارتی سطح پر بار بار یہ واضح کر چکا کہ اس کی سرزمین ایران پر حملوں کے لئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی. یہ بھی عجیب منطق ہے کہ ایران کے معاشی مراکز پر حملہ اسرائیل کرے. اور اس کے جواب میں ایران سیدھا سعودی عرب کے معاشی اہداف کو نشانہ بنائے ۔ جبکہ ابھی تک ایران سعودی عرب کے سامنے کسی سفارتی ٹیبل پر ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے کہ سعودی عرب کی سرزمین ایران پر حملوں کے لئے استعمال کی گئی ۔

ایران نے ” سعودی عرب اور اسرائیل ” کو ایک لائن میں لا کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جو قطعی طور پر قابل قبول نہیں اور پوری مسلم دنیا میں کوئی بھی سچا مسلمان ایسا نہیں ہونے دے گا ۔ یہ بہانے بازی ہے ۔ اگر نقصان پہنچانا ہے تو سیدھا اسرائیل اور امریکہ کو نقصان پہنچائے ۔ ابھی تک یو اے ای امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے۔ تو کیا یہ مسلمانوں کے لئے نیک شگون ہو گا ؟

ہرگز نہیں ۔ پاکستان حرمین شریفین ، اور سعودی عرب کے دفاع میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا ۔ ایران جو فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کے لئے اس پورے خطے کو جہنم بنانے کے در پر ہے ۔ اس کا کسی صورت نہ دفاع کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کی اجازت دی جائے گی .ان شاء اللہ .

مصنف کے بارے میں

عبدالسلام فیصل

حافظ عبدالسلام فیصل کا تعلق پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ سے ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات اور فلسفہ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ہفت روزہ اہلحدیث سے بطور لکھاری وابستہ ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ الحاد پر انھیں گہرا درک حاصل ہے، اس کے خلاف تحریر کے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment