ہوم << جسٹس منصور علی شاہ اور اسلامی قانونِ نکاح و طلاق – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
600x314

جسٹس منصور علی شاہ اور اسلامی قانونِ نکاح و طلاق – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے نفقہ کے متعلق ایک تازہ فیصلہ جاری کیا ہے جسے جسٹس سید منصور علی شاہ نے لکھا ہے اور بنچ کے دوسرے جج جسٹس عقیل احمد عباسی نے ان کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ فیصلے میں اسلامی قانون کی وہ تعبیر پیش کی گئی ہے جو مغربی نظریات بالخصوص فیمینزم کے زیرِ اثر لوگوں، جیسے امینہ ودود، کی آرا پر مبنی ہے اور صاحبِ ہدایہ اور دیگر فقہائے کرام کے کام کو “پدر سری” کا اثر قرار دے کر ہلکا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس فیصلے پر تفصیلی تنقید کروں گا، ان شاء اللہ، لیکن سرِ دست ایک نکتے سے اندازہ لگائیے کہ اسلامی قانون کے متعلق بنیادی معلومات نہ رکھنے کے باوجود فاضل جج صاحبان کتنے بڑے دعوے کرتے ہیں!

اس مقدمے میں جس عورت کے لیے نفقے کا سوال تھا، اس کی نکاح کے بعد کبھی رخصتی ہوئی ہی نہیں تھی اور اسے اس کے شوہر نے رخصتی سے قبل ہی طلاق دے دی تھی، لیکن اس کے باوجود فاضل جج صاحبان نے اس کے لیے “عدت کی مدت کے لیے بھی” نفقہ اس کے سابق شوہر پر عائد کر دیا، یہ سوچے بغیر، بلکہ شاید یہ جانے بغیر، کہ جب رخصتی ہوئی ہی نہیں، دخول ہوا ہی نہیں، تو عدت کہاں سے آگئی، اور جب عدت ہی نہیں ہے تو عدت کے دوران کا نفقہ کہاں سے آگیا؟

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے!
(قرآن کریم نے سورۃ الاحزاب کی آیت 49 میں تصریح کی ہے کہ دخول سے پہلے طلاق ہو، تو عدت نہیں ہے۔)

شاہ صاحب چیف جسٹس نہ بن سکے، مجھے اس کا افسوس ہے، لیکن پچھلے کچھ عرصے میں انھوں نے اسلامی قانون کے متعلق جس طرح کے فیصلے دینے شروع کیے ہیں، ان کے بعد میرے افسوس میں کافی کمی آئی ہے، بلکہ میں ان کے چیف جسٹس نہ بننے کو ملک کے لیے، خصوصاً اسلامی قانون کی رہی سہی نشانیاں باقی رکھنے کے لیے، نیک شگون سمجھے پر مجبور ہوگیا ہوں۔

اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست بھی فوراً ہی عائد کرنی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام کیا اس فیصلے کے مضمرات پر غور کر کے، خصوصاً نکاح و طلاق جیسے امور میں، اسلامی قانون کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوشش کریں گے؟

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔قبل ازیں سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داری بھی انجام دی۔ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment