ہوم << کسان کا معاشی قتل - محمد احمد چشتی

کسان کا معاشی قتل - محمد احمد چشتی

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے۔پاکستان کا کل رقبہ 79.6ملین ایکڑ ہے جس میں 23.7ملین ایکڑ پر زراعت ہوتی ہے۔

پاکستان میں 75فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے منسلک ہے اورملک کی مجموعی قومی پیداوارمیں زراعت کا حصہ 21فیصد ہے۔
دنیا کی زراعت کے مقابلے میں پاکستانی زراعت اسی پرانے طریقوں پر چل رہی ہے۔کسان کیلے حکومت کی طرف سے کبھی ریلیف پیکجز کا اعلان نہیں ہوا اور نہ ہی کسانوں کو جدید مشینری یا زراعت کے جدید طریقوں پر باقاعدہ ٹریننگ فراہم کی گ?ی۔ جعلی اور مہنگی زرعی ادویات نے فصلوں کی پیداوار کو مزید متاثر کر دیا ہے۔

نہری پانی کا نظام بھی پاکستان میں بااثر اور بڑے جاگیرداروں کے تابع ہے۔ مختلف علاقوں میں فی ایکڑ نہری پانی کا جتنا وقت مقرر ہے اس سے تو نصف ایکڑ بھی سیراب نہیں ہوتا۔کسان کی فصل جب کھاد کی منتظر ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کھادیں بازار میں میسر ہی نہیں اور بلیک پر فروخت ہو رہی ہیں یا زرعی آفیسر کی ملی بھگت سے بڑے جاگیرداروں اور بڑے کاروباریوں کو کھادیں مل رہی ہیں اور وہ اپنی مرضی کے دام وصول کر رہے ہیں۔یہی حال ڈیزل مافیا کا ہے۔ اگر کسان ڈیزل خریدنے جاتا ہے تو فیول پمپس پر گھنٹوں ایسے لا?ن لگنا پڑتا ہے جیسے بھوک سے نڈھال لوگ پرساد لینے کیل?ے قطار لگتے ہیں۔

جب حکومت ڈیزل کی قیمت بڑھانے یا کم کرنے کا اعلان کرتی ہے تو فیول پمپس مالکان پٹرول و ڈیزل فروخت کرنا بند کر دیتے ہیں جس سے کسان کو شدید نقصان ہوتا ہے۔جب فصل پک کر تیار ہو جاتی ہے تو حکومت اپنا نرخ مقرر کرتی ہے جو کسانوں کی فصل کے خرچے بھی پورے نہیں کرتا اور مقامی اجناس خریدنے والے حکومتی نرخ سے بھی کم میں کسان کی فصل خریدتے ہیں۔
شوگر ملز مالکان بھی کسان کے معاشی قتل میں برابر کے ملوث ہیں۔

ایک سال بچے کی طرح پال پوس کر جب گنے کو جوان کیا جاتا ہے تو وہی گنا بیچنے کیل?ے کسان کو ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ شوگر ملز گنے کے پیسے مہینوں بعد دیتی ہیں اور گنے کی فی ٹرالی سے ک?ی من ناجا?ز کٹوتی بھی کرتے ہیں۔ گنے کا نرخ بھی بہت کم مقرر کیا جاتا ہے۔کسانوں کو زرعی قرضے بھاری سود پر دئیے جاتے ہیں جس سے ان پر قرض کا بوجھ بڑھتا ہے۔ حکومت کی طرف سے جدید مشینری یا کسان کیلے کوئی جدید ٹریننگ کا بندوبست نہیں ہے جس سے فصل کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیاجا سکے کیونکہ فصل کی فی ایکڑ پیداوار بہت کم ہے۔

پاکستانی نی کپاس دنیا کی بہترین کپاس تصور کی جاتی ہے اور پاکستان کپاس کے معیار کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اب کپاس کی پیداوار میں بھی کمی آ?ی ہے اور مہنگی سپرے و کھادوں کی وجہ سے کسان کپاس کاشت نہیں کرتے.فصلوں کے مقامی بیوپاری کسان کی فصل اپنی من پسند دام میں خریدتے ہیں۔ حکومتی نرخ کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔
پاکستان کا مستقبل تب اچھا ہو گا جب کسان خوشحال ہو گا۔کسان کو جدید مشینری فراہم کی جائے اور جدید سہولیات سے آراستہ پیشہ وارانہ مہارت سکھائی جائے تا کہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔

کسان کو آسان اقساط پر بلا سود قرض دیا جائے تا کہ وہ اپنی کاشت کو بہتر کر سکے۔ کھادوں سمیت زرعی ادویات بھی سستی کی جائیں اور جعلی ادویات بنانے والوں کا کریک ڈاؤن کیا جائے۔ اگر کسان کو خودمختار نہ کیا گیا اور کسان کا معاشی قتل عام بند نہ کیا گیا تو پاکستان کبھی خوشحال نہیں ہو سکے گا۔

Comments

Click here to post a comment