ہوم << عصر حاضر میں سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معنویت- حاجی محمد لطیف کھوکھر

عصر حاضر میں سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معنویت- حاجی محمد لطیف کھوکھر

عہد جدید میں جو عالمگیر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، ان کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ہے۔ دور جدید میں کچھ ایسے اہم انقلابات آئے جن کی وجہ سے دنیا کا فکری منظرنامہ اور ثقافتی افق، سماجی تنظیم، بین الاقوامی تعلقات سب کچھ بدل گیا۔

مواصلات کے ترقی یافتہ وسائل اور حمل و نقل کے انتہائی ترقی یافتہ ذرائع نے دنیا کو ایک گائوں میں بدل دیاہے۔ آج دنیا کی ہر مسافت چند گھنٹوں کی مسافت ہے اور کسی پیغام کا ایک سرے سے دوسرے سرے پر جانا چند لمحوں کا معاملہ ہے۔ اس طرح دولت کی فراوانی سے لوگوں کی آمد و رفت اور سیر وسیاحت، اسی طرح نقل و حرکت میں بے تحاشا اضافہ ہوگیاہے۔ ماضی قریب تک یہ ممکن تھا کہ ایک شخص اپنے ملک سے بلکہ اپنے شہر سے باہر قدم نکالے بغیر اپنی پوری حیات مستعار کا سفر ختم کرلے اور اس کا تعلق دوسرے مذہب، دوسرے تمدن اور اجنبی اقوام سے بالکل نہ ہو لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔

اب تو یہ دنیا خود ایک گائوں ہے، ایک شہر ہے، ایک ایسا شہر جہاں وہ سب کچھ ایک جگہ موجودہے جس سے کسی زمانے میں پوری دنیا کا تصور عبارت ہوتا تھا۔غور طلب معاملہ یہ ہے کہ موجودہ دور کی غیرمعمولی تبدیلیوں اور اس کے نتیجہ میں پیش آمدہ نئے مسائل کے سلسلے میں سیرت طیبہؐ سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے اور سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات جو ہر زمانے کے لیے او رہر تبدیلی کے لیے رہنما ہے، ان سے ہمیں کیا ہدایت ملتی ہے؟اگر ہم آج کے مسائل کی درجہ بندی کریں تو ان کو چند عنوانات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو سماجی تبدیلیاں ہیں جس میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں نیز مختلف مذاہب کے پیروکاروںکا آپسی رابطہ پہلے سے کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ اور اطلاعات اور مواصلات اورحمل و نقل کے وسائل نے انسان کو دنیا کے تمام مذاہب اور تہذیبوں سے براہ راست مربوط کردیاہے۔

دوسری بڑی تبدیلی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ہے جس نے کچھ ایسے مسائل اور مشکلات پیدا کر دی ہیں جن کا تصور پہلے کبھی نہیں تھا۔ اس کا سب سے بڑا پہلوماحولیاتی آلودگی ہے جس نے طرح طرح کے مسائل پیدا کردیے ہیں۔ تیسرا بڑا چیلنج شخصی سطح پر ہے آج کا انسان پہلے سے زیادہ مادہ پرست اور پہلے سے زیادہ صارفیت پسند ہوگیا ہے جس کی وجہ سے کرپشن، ظلم و زیادتی، علاقائی، مذہبی و قومی تعصبات بے انتہا بڑھ گئے ہیں، شخصی اغراض اور انفرادی تشخص کے امتیاز نے انسانی معاشرے کو شکست و ریخت کے دروازے پر لاکھڑا کیا ہے۔ایسے حالات میں سیرت طیبہؐ سے ہمیں بڑی ہدایات ملتی ہیں۔ مذاہب او رتہذیبوں کے مسئلہ میں اسلام کے تصور توحید سے رہنمائی ملتی ہے۔

اسلام کا یہ تصور کہ اس کائنات کا خدا ایک ہے اور انسانوں کی اصل بھی ایک ہے یہ ایک بڑامحرک ہے جو انسان کو سماجی مساوات اور مذہبی ہم آہنگی کا سبق دیتاہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا او راس سے اس کا جوڑا بنایا او رپھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت پیدا کیے۔ (النساء :1)اسی طرح مذہبی اور تہذیبی ہم آہنگی کے لیے اسلام کی ہدایت ہے کہ ’’تمام انسان شروع میں ایک ہی جماعت تھے پھر انہوں نے آپس میں اختلاف پیدا کیا۔‘‘(یونس: ) گویا انسان اپنی اصل میں ایک ہیں اور مذاہب بھی بنیادی طور پر ایک ہی اصل سے پھوٹے ہوئے برگ و بار ہیں۔ اس لیے انسانوں کے درمیان موجود نسلی اختلافات اور قوموں کے درمیان موجود فکری اور مذہبی اختلافات کو انگیز کرنا چاہیے اور ان کو مٹانے کی کوشش دراصل اس خدائی حکمت کے خلاف ہوگی جس نے ان کو بنایا ہے۔

یہ تہذیبی نیرنگیاں اور یہ بوقلمونی تو چمن کی زینت ہے۔ ان کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو انسانوں کی بہتری کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اس لیے اسلام نے یہ اصول دیا کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں اور یہ کہ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور ہمارے لیے ہمارا دین ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ اس عالمی گائوں میں جو مذہبی و تہذیبی بوقلمونی ہے، اس کو قبول کرنا ہے اور اسلام کو پورے طور پر اپنی زندگی کا رہنما بناتے ہوئے دیگر مذاہب کے لیے بھی احترام کا جذبہ اپنے دل میں رکھنا ہے، ان کو ایک سماجی ناگزیر ضرورت کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔ بلاشبہ مذہب تبدیل کرنے اور اسلام قبول کرنے کی آزادی ہے لیکن یہ آزادی انسان کے ارادہ و اختیار کے تحت ہے، زبردستی نہیں۔ مقصد ترسیل ہے، تنقید نہیں۔

بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی نے جو مسائل پیدا کیے ہیں، ان کے سلسلے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ دنیا میں انسان امتحان کے لیے آیا ہے اور اس امتحان میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ چیزوں کا استعمال توازن کے ساتھ کرے۔ مادی اشیا کا بے تحاشا استعمال اس کے مقصد حیات کے خلاف ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے کہ اگر کوئی نہر جاری کے کنارے پر ہو تب بھی اس کوبقدر ضرورت ہی پانی استعمال کرنا چاہیے۔ ترمذی کی ایک حدیث ہے کہ درہم و دینار کے بندے پر اللہ کی لعنت ہو، اس طرح بے تحاشا صرف و اخراج اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی مشکلات کا حل بھی رسول اللہؐ کی تعلیمات میں موجود ہے۔

اسلام کے مطابق یہ دنیا انسان کے پاس امانت ہے اور اس کی ضروریات کی تکمیل کے لیے دی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص اس سے بقدر ضرورت استفادہ کرتا ہے تو یہ عین تقاضائے امانت ہے لیکن اگر کوئی اس میں بے تحاشا صارفیت کا ارتکاب کرتاہے تو وہ خیانت کا مرتکب ہو رہا ہے، جو اسلام کی نظر میں سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ماحولیات میں آئے عدم توازن کے لیے اشیا کا بے دریغ استعمال بھی ذمہ دار ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ درخت لگائو، اگر کوئی شخص درخت لگائے تو اس سے جب تک کوئی انسان یا جانور فائدہ اٹھائے گا، اس وقت تک اس کو صدقے کا ثواب ملتا رہے گا۔ (بخاری شریف) اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور قیامت آجائے تب بھی وہ اس پودے کو زمین میں لگا دے۔(مسند احمد)

اشیاء کائنات کا متوازن استعمال اور درختوں کے لگانے اور فطری نظام کو باقی رکھنے والی ہدایات سے ایسی رہنمائی ملتی ہے کہ ان پر عمل پیرا ہوں تو آج کی دنیا بہت سے مستقل عذابوں سے نجات حاصل کرسکتی ہے اور ماحولیات میں جو عدم توازن پیدا ہورہا ہے وہ ایک بار پھر توازن کی طرف گامزن ہوسکتاہے۔اس دنیا کا متوازن استعمال اسلام کا مطلوب ہے اور اس کے متوازن استعمال سے ہی اس کا توازن برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ اس لیے توازن کا یہ تصور ماحولیات اور صارفیت کے پیدا کردہ بے شمار مسائل کا بہترین حل ہے۔ اور اس کا افادہ ساری انسانیت کے لیے۔آج کے عالمی گائوں اور سمٹتے ہوئے فاصلوں اور بڑھتی ہوئی صارفیت کے ماحول میں اسلام کی ہدایات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ایک ایسا قابل تقلید نمونہ ہے جس کی اتباع کر کے اس دنیا کو ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔

جس کے ذریعہ انسانوںکے مصائب دور ہوسکتے ہیں، ان ہدایات کا اہتمام کرنے سے خاندان کا شیرازہ پھر متحد ہوسکتاہے۔ بڑھتے ہوئے سماجی فاصلے پھر قربت اور ہم آہنگی کا عنوان بن سکتے ہیں۔ بڑھتا ہوا عدم توازن پھر توازن کی طرف گامزن ہوسکتا ہے او رسماجی اور ماحولیاتی انحطاط ایک بار پھر اخوت اور ہم آہنگی میں تبدیل ہوسکتاہے۔آج کے بدلتے ہوئے حالات میں ضرورت ہے کہ سیرت طیبہ ؐکے ان ساڑھے بائیس برسوں کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے۔ سیرت طیبہؐ سے متعلق ہمارے خطابات ہوں یا مضامین و مقالات ان میں عموماً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات یا آخرت میں آپ کی شفاعت اور اللہ کے نزدیک آپ کے مقام رفیع کا بیان ہماری توجہ کا مرکز ہوا کرتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان امور کے بیان سے ہمارے ایمان بالرسول میں تازگی اور پختگی کا سامان ہوتاہے، مگر ساتھ ہی ہمیں آج کے بدلتے حالات میں زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت طیبہ ؐکے ان گوشوں پر روشنی ڈالنا بھی ضروری ہے جن میں فرد کی اصلاح اور ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کی سمت سفر کا آغاز کیا جاسکے۔

آج مطالعہ سیرت کی جہت کے تعین میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے ان گوشوں کو تحریراً، تقریراً اور عملاً سامنے لانے کی ضرورت ہے جن کا براہ راست تعلق انسان کی ہدایت و رہنمائی سے ہے، آپ کا اخلاق، صبر و رضا، قناعت و توکل، دشمنوں سے آپ کا حسن سلوک، مصیبت زدہ اور آفت رسیدہ انسانوں پر آپ کی شفقت و نوازش،غیر مسلموں کے ساتھ آپ کا حسن معاملہ وغیرہ تاکہ ایک طرف تو ہم اپنی قوم کے افراد کیلئے آپ کی زندگی کو "اسوہ حسنہ" یا بہترین نمونہ کے طورپر پیش کرسکیں، جس پر عمل کرکے ہم اعلیٰ انسانی اقدار سے متصف ہوکر ابدی سعادتوں سے بہرہ مند ہوں۔

Comments

Click here to post a comment