ہوم << شہباز شریف کے سفید ہاتھی اور سیلاب - سعد الله شاہ

شہباز شریف کے سفید ہاتھی اور سیلاب - سعد الله شاہ

اے عشق تری بک بک نہ گئی گو دل بھی گیا دھک دھک نہ گئی ہم چھوڑ کے اس کو آ بھی چکے کانوں سے مگر بھک بھک نہ گئی معلوم نہیں آپ اس کیفیت سے گزرے ہیں کہ نہیں مگر اس واردات سے تو ضرور نبرد آزما ہوئے ہونگے گونجتے رہتے ہیں.

الفاظ مرے کانوں میں تو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ ۔جی ایسے ہی ہوتا ہے قوم کے رہنما قوم سے وعدہ کر کے بھول جاتے ہیں اور لوگ ٹرک کی بتی کے پیچھے ہانپتے رہتے ہیں ۔فی الحال تو میں اپنی بپتا سنائوں گا کہ اس کا تعلق سے براہ راست حکومت سے ہے یہ مہنگائی کے ضمن میں آتا ہے کہ ہم نے سقراط نما دوستوں کی مان لی اور سولر سسٹم چھت پر لگا لیا کہ ایک ہی مرتبہ کڑوا گھونٹ بھر لیتے یہں مگر یہ کڑواہٹ منہ سے جاتی نہیں اور اس میں شدت اس وقت آئی کہ جب سولر سسٹم کے باوجود بل بائیس ہزار روپے آیا اس سے پہلے بیس ہزار روپے آیا تھا۔ اس سے مجھے اپنے پیاے دوست طارق عزیز صاحب یاد آ گئے ہم پی ٹی وی پر بیٹھے تھے کسی نے آ کر خبر دی کہ لو جی طارق عزیز آج ساٹھ برس کے ہو گئے ہیں۔

طارق صاحب ہمارے سامنے بیٹھتے تھے میں نے کہا کمال ہے وہ لگتے صرف انسٹھ کے ہیں۔طارق صاحب شرماتے اور مسکراتے ہوئے بولے شاباش بھئی بڑی رعایت کی ہے سب نے لطف اٹھایا تو صاحبو لاکھوں روپے خرچ کر کے صرف تین ہزار روپے کا فرق مجھے تو لگتا ہے ہمارا سولر بھی بجلی سے چلتا رہا شکر ہے اب نیٹ میٹرنگ ہو گئی ہے یہ درست کہ مہنگائی نے غریبوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں مگر شہباز شریف مزے میں ہیں انہوں نے خان کے مشیروں کی طرح یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ آپ کی چیخیں نکل جائیں گی: ہماری آنکھ میں یہ دودگی ضروری تھی جلا تھا دل تو یہ آلودگی ضروری تھی حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں کہ شاید ان کو بتا دیا گیا کہ آپ اپنا کام جاری رکھیں کسی بھی خطرے سے بدکنے کی ضرورت نہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بجلی کی مد میں عوام کو لوٹنا شروع کیا ہے وہ کتنے آرام سے آئے روز پانچ روپے یونٹ بڑھا دیتے ہیں۔

حساب کتاب رکھنے والے دوست بتاتے ہیں کہ یونٹ پچاس روپے کے قریب پہنچ چکا یعنی ایڈجسٹمنٹ چارجز وغیرہ ڈال کے۔مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ یہ سولر ٹیکس بھی لگا دیں گے اصل میں پی ڈی ایم کی عموماً اور ن لیگ کی خصوصاً امیدیں خان کے نااہل ہونے پر مدارکرتی ہیں۔نہ جانے ان کو اس کا یقین سا کیوں ہے اور اس طرح وہ عوام کے غصے سے بھی نہیں ڈر رہے۔ ویسے حکومت ہو کہ اپوزیشن کسی کا بھی عمل سمجھ میں آنے والا نہیں۔اپوزیشن کی نظر بلکہ نظریں اقتدار پر ہیں۔وہ سیلاب زدگان کے پاس بھی صرف دکھاوا کرنے پہنچے ہیں 5ارب روپے اب دس ارب روپے ہو گیا ہے جو ٹیلی تھون سے آیا ہے مگر لوگ چلا رہے ہیں آواز دو کہاں ہو؟ اب اک نیا معاملہ شروع ہو گیا ہے اسے سمجھنے کے لئے آپ کو ایک مختصر سا واقعہ سننا پڑے گا کہ میرے ایک دوست جان کاشمیری سے میں نے کہا یار تین شادیوں کے بعد اب کیا کرو گے؟

ہنسنے کے بعد کہنے لگے یار بس اب دل بھر گیا ہے لیکن قسمت کا کچھ پتہ نہیں تاہم ان کی چوتھی شادی بھی ہو گئی۔ ۔شہباز شریف بھی اس پر کیوں انکار کریں گے وہ تو اب پاک صاف ہیں جیسے مومن حج کے بعد ہوتا ہے۔ نئی ملاقاتیں چل رہی ہیں اور ایسی پیش رفت ہو رہی ہے کہ فواد چودھری کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہوئی اور خان صاحب کچھ اور ہی بات کر دیتے ہیں اب وہ جے ٹی آئی کے سامنے بھی پیش ہو گئے ہیں اور ان کا فیصلہ بھی محفوظ کر لیا گیا ہے ۔خان صاحب اسلام آباد کے لئے کال دیں گے اور بقول ان کے مخالفین انہیں سنبھال نہیں سکیں گے ہو سکتا ہے میری بات غلط ہو مگر الیکشن شاید ابھی نہیں ہونگے شہبازصاحب مطمئن ہیں اور اب نواز شریف اور مریم بھی آرام سے ہیں کہ کہاں سے راستہ نکالا جائے شہباز پیپلز پارٹی سے وعدے نبھاتے ہوئے معاونین بڑھاتے جا رہے ہیں اور یہ کسی بھی سنگ دلی سے کم نہیں کہ سیلاب اور بربادی کے بعد آپ سفید ہاتھی پالتے جا رہے ہیں مجھے تو شہباز شریف اس مصرع کی عملی تصویر لگتے ہیں بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔

ہم اپنی جگہ خاموش ہیں کہ یہ کہہ کر خاموش ہو گئے تھے کہ: خود غرض ہے وہ تضادات کا مارا ہوا شخص آنکھ سے گر ہی گیا دل میں اتارا ہوا شخص بندہ اس وقت کیا کہے کہ جب کسی کا یقین ہی نہ ہو کہ وہ بھول کر ہی کبھی سچ بول دے گا۔اب یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ آپ فرما رہے ہیں کہ آئی ایم ایف نے ناک سے لکیریں نکلوائیں قبلہ وزیر اعظم شاید آپ کی آرزو پوری ہوئی آپ سابقہ حکومت کی خلاف ورزیوں کے خمیازے کی بات کرتے ہیں یہ سب کچھ آپ کے علم میں تھا۔آپ کیوں نہیں مانتے کہ آپ انہیں ریلیف دینے یا ان کی بلا اپنے سر لینے کے لئے آئے تھے اس کا معاوضہ آپ کو کیسز کے خاتمے کی صورت میں مل چکا۔ پھر آپ یہ فرماتے ہیں کہ مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کیسے؟

آپ تو عوام کی لکیریں نکلوا رہے ہیں ہائے ہائے یہ دیکھ کر شرم آتی ہے کہ تاجروں کی سچ کیسی ہے بچوں کے بسکٹ کا پیکٹ جو 15روپے کا تھا 30روپے کا ہو گیا بسکٹ کم بھی ہو گئے اور چھوٹے بھی پانچ روپے کے سکہ کی طرح سنا ہے 75روپے کا سکہ بھی آ رہا ہے آپ تو فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر ہم پر فیول پھینکتے رہتے ہیں سرمایہ داروں کی ذلالت دیکھیں کہ اسلام آباد کے کچھ تعلیمی اداروں میں طلباء سے فیول ایڈجسٹمنٹ لیا جانے لگا ہائے یہ ذہن رسا۔

بدمعاشی دیکھیے اور پھر کوئی پوچھنے والا نہیں ہائے ہائے کدھر جائیں سب ایک دوسرے کو لوٹنے لگے وہی کہ وہ بھوک ہے اعضا کہیں اعضا ہی نہ کھا لیں۔ایک شعر کے ساتھ اجازت: بخت کے تحت سے جب درد کے مارے اترے پھر تو پاتال میں سب چاند ستارے اترے

Comments

Click here to post a comment