ہوم << بیٹے کی قربانی اور ذبحِ عظیم – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
600x314

بیٹے کی قربانی اور ذبحِ عظیم – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مکتبِ فراہی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے خواب کی تاویل جس طرح ان احکام کے ذریعے کی جو اس واقعے کے صدیوں بعد نازل ہوئے، اس نے نہ صرف اس خواب کا صحیح مفہوم مسخ کردیا بلکہ اس عظیم الشان قربانی کے نتیجے میں مذہبی تصورات میں جو انقلابی تبدیلی آئی، اسے بھی صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا جاسکا۔

مولانا فراہی کی کتاب ’’ذبیح کون ہے؟‘‘ میں بہت سی قابلِ قدر معلومات ہیں لیکن ان معلومات سے جو نتیجہ نکالا گیا ہے، وہ کسی طور درست نہیں ہے اور اس کاوش پر وہی بات صادق آتی ہے جو اقبال نے نطشیکے متعلق کہی تھی کہ وہ ’’اپنے قلبی واردات کا صحیح اندازہ نہ کر سکا اور اس لیے اس کے فلسفیانہ افکار نے اسے غلط راستہ پر ڈال دیا۔‘‘

مسلمان اہلِ علم کے ہاں یہ بات مسلّم ہے کہ رویا بھی وحی کی ایک قسم ہے اور یہ کہ انبیائے کرام کو رویا کے ذریعے بھی وحی کی جاتی رہی ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی بھی یہ بات مانتے ہوئے کہتے ہیں:
’’یہ رویا نہایت واضح، غیرمبہم اور روشن صورت میں ہوتی ہے جس پر نبی کو پورا شرح صدر اور اطمینان قلب ہوتا ہے۔ اگر اس میں کوئی چیز تمثیلی رنگ میں بھی ہوتی ہے تو اس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر خود واضح فرما دیتا ہے۔ ‘‘

انبیاء کی رویا کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
ایک، جس میں مستقبل کے کسی واقعے کی پیش گوئی کی گئی ہو؛ اور دوسری، جس کے ذریعے کوئی شرعی حکم دیا گیا ہو۔ پہلی قسم میں یہ بحث ہوسکتی ہے کہ یہ عینی ہے یا تمثیلی؟
مثلاً سیدنا یوسف علیہ السلام کو رویا دکھائی گئی کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند ان کو سجدہ کررہے ہیں، اور پھر برسوں بعد اس کی تاویل سامنے آئی کہ گیارہ بھائی اور والدین ان کے آگے جھک گئے، تو گویا یہ رویا تمثیلی تھی۔

اسی طرح غزوہ بدر سے قبل رسول اللہ ﷺ کو رویا دکھائی گئی کہ کافر تعداد میں کم ہیں، جبکہ جنگ کے دن کافر تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود ایمان وعمل کی میزان میں کم نکلے اور اس بنا پر انھیں شکست ہوئی۔ البتہ ایسی رویا عینی بھی ہوسکتی تھی، جس کی مثال یہ ہے رسول اللہﷺکو رویا دکھائی گئی کہ آپ ساتھیوں سمیت پورے اطمینان سے مسجد حرام میں داخل ہورہے ہیں۔ 7ھ میں یہ رویا اللہ نے سچ کردکھائی۔

مولانا اصلاحی قرار دیتے ہیں کہ پچھلے انبیاء کو زیادہ تر شرعی احکام رویا کی دوسری قسم کے ذریعے دیے گئے، اور وہ اسے مزید دو قسموں میں تقسیم کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’یا تو رویا میں ان کو ایک بات دکھا دی جاتی تھی یا کوئی فرشتہ خداوندی ظاہر ہوکر مطلوب کام کی طرف رہ نمائی کردیتا تھا۔‘‘

اس رویا کا عینی ہونا ہی ضروری تھا اور اس کا تمثیلی ہونا ناقابلِ فہم ہے۔چنانچہ جب ابراہیم علیہالسلام نے جب رویا میں دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو ذبح کررہے ہیں، تو اس کی تاویل کرنے کے بجائے اس پر بعینہ عمل کے لیے اٹھے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو یہ رویا بار بار دکھائی گئی کیونکہ آپ نے اس کے لیے فعل مضارع استعمال کیا ہے (میں دیکھتا ہوں)۔

مولانا اصلاحی کہتے ہیں:
’’اگر ایک ہی بار نظر آیا ہوتا تو اس کے اظہار کے لیے’میں نے دیکھا‘کا اسلوب زیادہ موزوں رہتا۔‘‘پھر جب اپنے بیٹے کو خواب سنایا، تو انھوں نے بھی یہ کہنے کے بجائے کہ خواب ہی تو ہے ، فوراً کہا کہ ’’آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، اس پر عمل کریں۔‘‘
اس سوال کا کہ پہلی بار دیکھنے پر ہی رویا پر عمل کیوں نہیں کیا، جواب یہ ہے کہ چونکہ رویا میں واقعہ دکھایا گیا، اس لیے اس میں یہ احتمال تھا کہ یہ مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے واقعے کی خبر ہے، اور اس وجہ سے تعبیر کی محتاج ہے، اور یہ احتمال بھی تھا کہ یہ حکم ہے اور اس پر بعینہ عمل کی ضرورت ہے۔

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ جنھیں مخاطب کرکے خواب کا پورا قصہ بتایا اور ان کی رائے لی گئی، وہ بھی پیغمبر تھے اور انھوں نے بھی اسے ’’حکم‘‘ قرار دے کر اس پر بعینہ عمل کا کہا۔ اس مقام پر بیٹے کی قربانی کے حکم پر اٹھائے جانے والے اعتراض پر بحث ضروری ہے۔ قرآن کریم نے عہدِ جاہلیت میں بچوں کے مارے جانے کے تین اسباب ذکر کیے ہیں اور تینوں کو غلط کہا ہے: ایک یہ کہ انھیںبھوک کے خوف سے قتل کیا جاتا تھا؛ کبھی والدین کو خوف یہ ہوتا تھا کہ بچے کی پیدائش کے بعد ہم کیا کھائیں گے، اور کبھی یہ کہ یہ بچہ کیا کھائے گا؟

سورہ الانعام میں پہلی اور سورہ بنی اسرائیل میں دوسری صورت ذکر کی گئی ہے۔ دوسرا سبب جس کا شکار بچیاں ہوتی تھیں، جاہلی غیرت کی شدت تھی (سورہ النحل، سورہ الزخرف اور سورہ التکویر)۔ تیسرا سبب اولاد میں کسی ایک کو دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھانا تھا تاکہ باقی بچے ان کے غضب سے محفوظ رہ سکیں (سورہ الانعام)۔ابراہیم علیہالسلام کے دور میں ان کے وطن میں اور اردگرد کئی علاقوں اور اقوام میں لوگوں میں پہلوٹھی اولاد کو دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھانے کی رسم عام تھی۔ معترضین سوال کرتے ہیں کہ کیا ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی قربانی کے لیے دیا گیا حکم بھی اسی نوعیت کا تھا؟

مولانا فراہی نے یہ تاویل اختیار کی تھی کہ بیٹے کی قربانی کا مطالبہ ہی نہیں تھا، بلکہ رویا تمثیلی تھی اور اس کی تعبیر یہ تھی کہ آپ اپنے اکلوتے بیٹے کو خدا کے گھر کی خدمت کے لیے خاص کردیں۔ علامہ شبلی نعمانی نے بھی مولانا فراہی کی تحقیق پر انحصار کرتے ہوئے سیرت النبی ﷺ میں یہی رائے اختیار کی۔ اس تاویل کے لیے انھوں نے تورات کے ان احکام پر انحصار کیا جو خدا کے گھر کے لیے نذر کیے جانے والے فرد کے لیے تھے، حالانکہ ان احکام کا نزول اس واقعے کے کئی سو سال بعد ہوا۔ ہمارے نزدیک اس رویا سے حتمی مقصود اسی جاہلی رسم کا خاتمہ تھااور یہ تبھی ممکن ہوتا جب حکم ذبح ہی کا ہو لیکن اللہ تعالیٰ بیٹے کی جگہ مینڈھے کی قربانی قبول کرلے۔

فقہاء اس بنا پر کہتے ہیں کہ اب اگر کسی نے بچے کی قربانی کی نذر کر لی، تب بھی اس سے مطلوب مینڈھے کی قربانی ہوگی اور اس قربانی پر اس کی نذر پوری ہوجائے گی۔ دو پیغمبروں نے اس رویا پر بعینہ پر عمل کیا اور اپنی جانب سے اللہ تعالیٰ کیلیے سب کچھ تج دینے اور تسلیم و رضا کی خْو بھی آشکارا کی۔ اسی وجہ سے اللہ تعالی ٰنے اسے ’’کھلی آزمائش‘‘کہا اور پھر بیٹے کی جگہ مینڈھے کا فدیہ دے کر اسے ’’ذبح عظیم‘‘ کا نام دیا اور جانوروں کی قربانی کی عبادت رائج کردی۔

پس اس واقعے کا حتمی مقصود یہ بتانا تھا کہ خدا کو اولاد کی بھینٹ نہیں چاہیے، لیکن اس حتمی مقصود تک پہنچنے کا راستہ بہت کٹھن تھا جو صرف یہ دو جلیل القدرانبیاء ہی طے کرسکتے تھے۔

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔قبل ازیں سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داری بھی انجام دی۔ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment