ہوم << سننا بی بی سی اور پالنا ایک خواہش کا – عمیر محمود
600x314

سننا بی بی سی اور پالنا ایک خواہش کا – عمیر محمود

بی بی سی سننے لگتے تو مصیبت پڑ جاتی۔ ریڈیو ہاتھ میں پکڑ کر گھومتے رہو۔ ابھی اس رخ آواز صاف ہے، ابھی گڑبڑا جائے گی۔ پھر ریڈیو گھماؤ، ایریل گھماؤ،ریڈیو اور ایریل کے ساتھ خود بھی گھومتے رہو، وہ زاویہ ڈھونڈو کہ نشریات پکڑائی دیں۔ یہ سب کرنا اچھا خاصا امتحان ہوتا لیکن کبھی اس امتحان سے بھاگنے کا جی نہ چاہا۔

گاؤں میں دادا جان بھی بی بی سی ہی سنا کرتے۔ صحن کے وسط میں چارپائی بچھی ہوتی، اس پر بیٹھ کر وہ ریڈیو کی ناب گھماتے اور بی بی سی ٹٹولتے۔نشریے سے پہلے وہ کیف آگیں دھن بجا کرتی جو جھنجھنا کر رکھ دیتی۔ اس کے بعد سحر طاری کرنےوالی آواز آتی، یہ بی بی سی لندن ہے۔۔سے خبریں سنیے۔ خبروں سے پہلے پاکستان، بھارت اور لندن کا مقامی وقت بتایا جاتا۔ خبریں سنانےوالے بدلتے رہتے، لیکن اس دھن اور آواز سے وابستہ سحر قائم رہتا۔

تب مجھے خبروں اور حالات حاضرہ کی کچھ سمجھ نہ تھی، پھر بھی بی بی سی سننے دادا جان کے پہلو سے لگ جاتا۔ تب روس افغانستان سے نکل چکا تھا، یا نکل رہا تھا۔۔۔مجاہدین کی آپس میں لڑائیوں کی خبریں آتیں، کسی معاہدے کا بار بار ذکر کیا جاتا۔۔۔مجھے کسی بات کی کچھ سمجھ نہ آتی لیکن پھر بھی خاموشی سے سنتا رہتا، اور دادا جان کا چہرہ دیکھتا رہتا۔وہ چہرہ بتاتا کہ خبر اچھی ہے یا بری ہے۔ گھمبیر ہے یا ہلکی پھلکی ہے۔ دل چسپ ہے یا غیر دل چسپ ہے۔شہر میں والد صاحب صبح دفتر کے لیے تیار ہو رہے ہوتے توبھی گھر میں بی بی سی گونج رہا ہوتا۔ تب انٹرنیٹ نہیں تھا، کم کم گھروں میں ڈش اینٹینا ہوتا۔ کیبل تو کسی بھی گھر میں نہیں تھی۔ ٹیلے وژن چینل کے نام پر صرف پی ٹی وی تھا۔ خبر اتنی تیزی سے نہیں ملتی تھی۔

جب صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کی تھی تو یہ خبر ہم نے صبح چھ بجے بی بی سی پر سنی تھی، اور حیرانی کے عالم میں رشتہ داروں کو فون کر کر کے سنائی تھی۔کارگل جنگ کا تمام احوال بھی والد صاحب کے ساتھ بیٹھ کر بی بی سی پر ہی سنا تھا۔اس وقت میرے پاس اپنا بھی ایک پاکٹ ریڈیو تھا لیکن اس پر بی بی سی پکڑتے پکڑتے پسینے چھوٹ جاتے۔ یونیورسٹی گیا تو ہاسٹل کی چھت پر جا کر اسی پاکٹ ریڈیو پر بی بی سی سنتا۔ بعد میں ایک ڈیجیٹل ریڈیو یہ سوچ کر لیا کہ ہندسہ بہ ہندسہ بی بی سی کی فریکوئنسی ٹیون کر دی تو آواز صاف آئے گی۔ یہ بھی دھوکا نکلا۔ مسئلہ فریکوئنسی نہیں، سگنلز کا ہوتا تھا۔ پھر دادا جان اور والد صاحب کے ریڈیو جیسا چمڑے کی جلد والا ریڈیو بھی لیا لیکن بی بی سی صاف اور بغیر گھبراہٹ سننے کی حسرت ہی رہی ۔

یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ بچپن سے سنتے سنتے، بی بی سی میرے لیے معیار بن گیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ جیسے خبر بی بی سی سنا سکتا ہے، ویسے اور کوئی بھی نہیں سنا سکتا۔ جب عملی صحافت میں آیا تو بھی خواہش یہی تھی کہ بی بی سی میں نوکری کریں گے۔ وسعت اللہ خان، مہ پارہ صفدر اور علی رضا عابدی کی طرح خبریں پڑھیں گے، پروگرام کریں گے۔دفتر کے ساتھیوں کو مذاق میں کہتا، یہ تو میری جگہ نہیں۔ میری جگہ تو بی بی سی ہے۔بی بی سی کی جانب سے کسی بھی متعلقہ نوکری کا اشتہار آتا، تو ضرور درخواست دیتا۔ میری سب درخواستیں بالکل ابتدائی مرحلے پر ہی رد کر دی جاتیں۔ ای میل آ جاتی کہ آپ مطلوبہ معیار یا اہلیت پر پورا نہیں اترتے۔ ہر بار اپنے سی وی کو نوکری کے اشتہار کے مطابق ترتیب دیتا، اور ہر بار ہی مسترد کر دیا جاتا۔

2007میں ٹیلے وژن چینل کی نوکری شروع کی تھی، اور جب جب بی بی سی نے نوکری کا کوئی اشتہار دیا، جو میری قابلیت اور تجربے کے لحاظ سے متعلقہ ہوتا، میں نے تب تب وہاں نوکری کےلیے درخواست دی، اور ہر بار بالکل پہلے ہی مرحلے پر ناک آؤٹ ہو گیا۔مسترد کیے جانے کی یہ ای میل، درخواست دینے کی مقررہ تاریخ گزرنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد آ جایا کرتی۔مسلسل ناکامیوں سے میرے پائے استقلال میں لرزش نہ آئی، میں اپلائی کرتا گیا، کرتا گیا، یہاں تک کہ 2016 آ گیا ۔۔ اور اس معمول میں ایک تبدیلی آئی۔

ہوا یہ تھا کہ 2016 میں بھی بی بی سی کی ایک نوکری کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔ ایک ہفتہ گزرا، دو ہفتےگزرے۔۔مسترد کیے جانے کی وہ ای میل نہ آئی جو مقررہ تاریخ گزرنے پر ایک ہفتے میں ہی آ جایا کرتی تھی۔ لگنے لگا کہ اب کی بار کوئی مختلف ہی نتیجہ آئے گا، ہیجان بڑھنے لگا۔ تیسرے ہفتے ای میل آئی، کہ مجھے اگلے مرحلے کے لیے منتخب کر لیا گیا تھا۔ مجھے فلاں تاریخ اور وقت کو، بی بی سی لاہور کے دفتر میں تحریری امتحان دینا تھا۔لگا کہ اب صبر کا پھل ملنے والا ہے۔ مسلسل نو سال مسترد ہونے کی اذیت سہنے کے بعد، اب قبول کیے جانے کا وقت آ گیا ہے۔

امتحان کے لیےگھر سے نکلنے لگا تو تیز ہوا چل رہی تھی۔گاڑی باہر نکال رہا تھا تو گھر کا داخلی دروازہ ہوا کے زور پر گاڑی سے آن ٹکرایا۔ نتیجتاً گاڑی کے دروازے میں ڈینٹ پڑ گیا۔یوں لگا کہ قدرت بی بی سی میں نوکری کی صورت مجھے جو انعام دینے جا رہی ہے، گاڑی کے دروازے پر ڈینٹ ڈال کر اس کا بھتہ پہلے ہی وصول کر لیا ہے۔ خیر، امتحان دیا، اپنی طرف سے سب سوالوں کے ٹھیک ٹھیک جواب دیے۔ ایک انگریزی تحریر کا اردو میں ترجمہ کرنا تھا، وہ کیا۔ ایک مضمون لکھنا تھا، وہ بھی لکھا۔

اگلی ای میل آئی کہ آپ کو ایک موضوع اور کچھ معلومات دی جائیں گی، پھر اسی سے متعلق کچھ سوال ہوں گے۔ آپ نے کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر یوں جواب دینے ہیں جیسے رپورٹنگ کررہے ہوں۔ یہ مرحلے بھی سر کیا۔جس قدر میں بی بی سی کےعشق میں مبتلا تھا، اور بی بی سی میں نوکری کےلیے جتنا طویل انتظار کر چکا تھا، مجھے لگتا تھا کہ قدرت اور بی بی سی دونوں ہی اب مہربان ہونے کو ہیں۔ لیکن اس بار بھی وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا آیا تھا۔ مجھے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد کے برسوں میں بھی یہی روایت قائم رہی۔ 2021 میں پھر انٹرویو کے مرحلے تک پہنچا اور مسترد کردیا گیا۔

اسے “انگور کھٹے ہیں” کہہ لیجیے یا کچھ اور۔۔۔کہ اتنے سال گزرنے اور اتنی ناکامیاں سہنے کے بعد اب بی بی سی کی نوکری کی وہ چاہ نہیں رہی۔ زندگی جس ڈھب پر اب گزر رہی ہے، اگر اسی طرح چلتی رہی تو شاید کبھی بی بی سی میں نوکری کی درخواست دوں ہی نہ۔ لکھنے کا مقصد بس اپنی کہانی بیان کرنا ہے، ہم دردی سمیٹنا بالکل بھی نہیں۔ اور ایسا بھی ذہن میں کبھی نہ آیا کہ میں تو بہت قابل تھا، بی بی سی نے مجھے مسترد کر کے غلط کیا۔ سب لکھنے کایہ مطلب بھی ہر گز ہر گز نہیں ہے کہ بی بی سی والوں نے میرے ساتھ زیادتی کی۔

اب تویہ بھی لگنے لگا ہے کہ شاید میں بی بی سی کےلیے بنا ہی نہیں تھا، اگر نوکری ہو جاتی تو ایڈجسٹ نہ کر پاتا۔ جس کو اتنا چاہا تھا، اسے پا کر بھی عدم اطمینان کا شکار رہتا توارمانوں کی کرچیاں ہو جاتیں۔ شاید قدرت کچھ ارمان صرف اس لیے پورے نہیں کرتی، کہ پورے ہونےکے بعد وہ ٹوٹ نہ جائیں۔اور ابھی تو آپ کو وہ بھی بتانا ہے جو وائس آف امریکا اردو کی نوکری لیتے لیتے مجھ پر بیتی۔

مصنف کے بارے میں

عمیر محمود

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment