ہوم << پی ٹی وی کے لیے لکھنا – عمیر محمود
600x314

پی ٹی وی کے لیے لکھنا – عمیر محمود

عمر کی 40بہاریں دیکھ چکا، یادوں کی ایک پوٹلی ساتھ ہے جسے کندھے پر اٹھائے پھرتا ہوں۔ نہ کوئی ہنر، نہ کوئی کارنامہ ایسا جو بتاتے ہوئے فخر ہو اور سننے والے کی آنکھوں میں تحسین آئے۔ زندگی میں کچھ بھی تو غیر معمولی نہ کیا۔ چند ایک ارمان پالے، وہ بھی تشنہ ہی رہے۔

پھر بھی جانے کیوں، لوگوں کےسامنے پوٹلی کھول دیتا ہوں، اس میں بندھا خستہ بوسیدہ مال دکھاتا ہوں۔ کچھ بیگانگی کی نظر ڈالتے ہیں، سر جھٹکتے ہیں، اور چل دیتےہیں۔کچھ مہربان ایسے بھی ہیں جو مارے مروت سن لیتے ہیں۔آج پوٹلی کھولی تو وہ قصہ نکلا ہے جب میں نے پی ٹی وی کےلیے کچھ لکھا ۔ یونیورسٹی میں شور مچا کہ پی ٹی وی کے کوئی پروڈیوسر آئے ہیں۔ نام منصور ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق پروگرام بنا رہے ہیں۔ جو کوئی تجاویز وغیرہ دینا چاہے وہ آ کر مل لے۔ یہ بات سن 2000 کے آخر، یا پھر 2001 کے شروع کی ہے۔ میں ان دنوں نسٹ (نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی) سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کررہا تھا۔

تب تک میں ڈرامہ الفا ، براوو، چارلی دیکھ کرجی میں یہ بھی ٹھان چکا تھا کہ اس ڈرامے کے ہدایت کار شعیب منصور کی طرح، مجھے بھی ہدایت کاری کے شعبے میں ہی آنا ہے۔ نسٹ کے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تو داخلہ صرف اس لیے لیا تھا کہ معلوم ہی نہ تھا ہدایت کاری کی تعلیم کہاں سے ملتی ہے۔ یہ وہ دور تھا کہ گوگل کا نام بھی کوئی نہ جانتا تھا۔ سرچ کےلیے یاہو یا پھر آلٹا وسٹا نامی سرچ انجن استعمال کیے جاتے۔ ان سرچ انجنز پر بھی کسی پاکستانی شخصیت کے بارے میں کوئی معلومات نہ ملتیں۔ یعنی میں شعیب منصور کے صرف نام اور کام سے واقف تھا، ان کے چہرے کی پہچان نہ تھی۔

جب یونیورسٹی میں منصور صاحب کی آمد کا علم ہوا تو ان سے جا کر پوچھا، کیا آپ شعیب منصور ہیں؟ جواب میں مسکراتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ شعیب منصور نہیں، بلکہ راجہ منصور ناصر ہیں۔ میں نے پوچھا تھا، کیا آپ میری شعیب منصور سے ملاقات کرا سکتے ہیں؟ اب ٹھیک سے یاد نہیں کہ انہوں نے حامی بھری تھی ، انکار کیا تھا یا کوئی ملی جلی بات کی تھی۔میں نے راجہ منصور ناصر صاحب کا ای میل ایڈریس لے لیا اور میرا ان سے رابطہ ہونے لگا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب موبائل فونز طالب علموں کی دسترس میں نہیں آئے تھے۔ ای میل کےلیے بھی یونیورسٹی لیب میں موجود کمپیوٹر استعمال کیے جاتے،یا پھر انٹرنیٹ کیفے کا رخ کیا جاتا۔

راجہ منصور ناصر صاحب نے پی ٹی وی اسلام آباد سے انفارمیشن ٹیکنالوجی پر ایک پروگرام شروع کیا، جس کا نام تھا سائبر ورلڈ ۔ یا شاید میں بھولتا ہوں، پروگرام کا نام آئی ٹی آئی تھا(آئی ٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی والا، اور پھر آئی آنکھ والا۔ IT Eye)۔یا پہلے اس کا نام سائبر ورلڈ تھا اور بعد میں بدل کر آئی ٹی آئی رکھ دیاگیا۔ 22سال گزر چکےہیں، سرسری سی باتیں ہی یاد ہیں۔ یہ آدھے گھنٹے کا ہفتہ وار پروگرام تھا۔ میری خواہش پر مجھے اس کے کچھ حصوں (سیگمنٹس) کا اسکرپٹ لکھنے کی ذمہ داری دی گئی۔

اس پروگرام کے توسط سے میری پی ٹی وی تک رسائی ہوئی۔ راجہ منصور ناصر صاحب سے ملنے چلا جاتا۔ ان کے کمرے میں دو اور پروڈیوسرز کی میزیں بھی تھیں۔ان کی آپس کی گفتگو سے بھی مجھ جیسے کم علم کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا۔ کمرے کی کھڑکی سے مارگلہ کی پہاڑیاں نظر آتیں۔ اگر بھولتا نہیں ہوں تو اس وقت پی ٹی وی اسلام آباد کی کینٹین کی چائے اور پکوڑوں کا شہرہ تھا۔ انہی سے میری بھی تواضع کی جاتی۔ اپنی اس پذیرائی پر خوشی سے دیوانہ ہوا پھرتا۔

راجہ منصور صاحب جب پروگرام کی ریکارڈنگ کرتے تو درخواست کر کےمیں بھی ہمراہ ہو جاتا۔ وہ پروگرام راولپنڈی اسلام آباد کی یونیورسٹیوں میں ، آئی ٹی کےشعبہ جات میں جا کر ریکارڈ کیا جاتا۔پس منظر میں طلبہ کمپیوٹرز پر کام کررہے ہوتے، سامنے اینکر اپنا اسکرپٹ پڑھتیں۔ ایک بار دل چسپ واقعہ ہوا۔ وہ یہ کہ اینکر کیمرے کو دیکھ کر اپنے جملے بول رہی تھیں۔ پیچھے طلبہ کمپیوٹرزپر بیٹھے کام کررہے تھے۔ ایک طالب علم کے جی میں جانے کیا آئی، وہ مڑ کر کیمرے کو دیکھنے لگا، اور پھر دیکھتا ہی گیا۔

کیمرہ مین اس وقت یہ بات نوٹ ہی نہ کر سکے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بھی تھی، کہ ان دنوں جو کیمرے آؤٹ ڈور ریکارڈنگ کےلیے استعمال ہوتے تھے، ان میں سارا منظر صرف ایک ننھے سے ویو فائنڈر کے ذریعے ہی دیکھا جا سکتا تھا۔ آؤٹ ڈور کیمروں سے منسلک ایل سی ڈی ڈسپلے کا زمانہ چند سال بعد آنا تھا۔ تو ویو فائنڈر سے دیکھتے ہوئے کیمرہ مین کا دھیان منظر کے مرکزی کردار (یعنی اینکر) پر ہی رہا۔ وہ لینس کو گھورتے طالب علم کی طرف توجہ ہی نہ کر سکا۔ نشان دہی اس وقت ہوئی جب پروگرام کی ایڈیٹنگ ہو رہی تھی۔

حل کےلیے کیمرے کو گھورتے طالب علم کے اوپر ایک گرافکس کارڈ لگایا گیا جس پر پروگرام کا نام درج تھا۔ (جو لوگ گرافکس کارڈ کی اصطلاح سے ناواقف ہیں وہ یوں سمجھ لیں کہ کیمرے کو گھورتے طالب علم کو ایک کاغذ سے چھپا دیا گیا اور کاغذ پر پروگرام کا نام لکھ دیا گیا۔) انفارمیشن ٹیکنالوجی پر پروگرام کے چند حصوں کا اسکرپٹ لکھتے لکھتے، میں نے شوق ہی شوق میں ایک ڈرامے کا اسکرپٹ بھی لکھ مارا۔ یہ خیال بھی رہا کہ اسکرپٹ نے اپنے میرٹ پر جگہ بنائی تو بنائی ، میں راجہ منصور ناصر صاحب سے نہیں کہوں گا کہ اسکرپٹ کسی ڈرامہ پروڈیوسر کو دکھا دیں۔

تو اپنی ڈرامہ نگاری کے زعم میں ایک روز پی ٹی وی کی ریسیپشن پر پہنچا اور کہا، مجھے مینیجنگ ڈائیریکٹر (ایم ڈی) صاحب سے ملنا ہے۔ گویا وہ ایم ڈی صاحب صرف مجھ سے شرف ملاقات کے لیے ہی بھرتی کیے گئے تھے۔ پوچھا گیا کہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے؟ انہیں خاکی لفافے میں لپٹا پلندہ دکھاکر کہا، یہ اسکرپٹ لکھا ہے۔ ایم ڈی صاحب کو دکھانا ہے۔ریسیپشن والوں نےوہیں سے ٹالنے کے بجائے ایم ڈی صاحب کے اسسٹنٹ سے بات کی، اور آپ دیکھیے کہ وہ کیا زمانے تھے، مجھے اندر بلا بھی لیا گیا۔ اسسٹنٹ صاحب مجھے قطعاً نہ جانتے تھے۔

انہوں نے مجھ سے اسکرپٹ لے لیا۔ وعدہ بھی کیا کہ متعلقہ شعبے یا حکام تک پہنچا دیں گے۔تب شاید پی ٹی وی میں اسکرپٹ پروڈیوسر یا اسکرپٹ ایڈیٹر کی کوئی اسامی ہوتی تھی (شاید اب بھی ہوتی ہو)۔ مجھے بتایا گیا کہ متعلقہ فرد کو میرے اسکرپٹ میں کوئی جان محسوس ہوئی تو وہ رابطہ کر لے گا۔شاید مجھ شوقین کی وہ تحریر میں ہی جان نہ تھی۔۔ اس لیے اسکرپٹ منظوری کی کال کبھی بھی نہ آئی۔
اب وہ قصہ بھی پڑھ لیجیے جب میں خود ٹی وی پر آیا:

2003تک مجھے احساس ہو چلا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم اپنے بس کا روگ نہیں۔ من میں تو کب سے شعیب منصور کی طرح ہدایت کار بننے کا سودا سمایا تھا۔ ایک روز والدین میرے ممکنہ تاریک مستقبل پر غور و فکر کررہے تھے۔ یعنی غور کرنے کےساتھ ساتھ فکر میں ڈوبتے جا رہے تھے، کہ پنجاب یونیورسٹی میں داخلوں کا اشتہار نظرمیں آیا۔ شعبہ ابلاغیات میں اس سے پہلے صرف ایم اے کی سطح پر داخلےہوتےتھے۔ لیکن 2003میں بی ایس آنرز کی کلاسز بھی شروع کی گئی تھیں۔ تو میں نے اپلائی کیا اور منتخب کر لیاگیا۔

2003 کے بعد میں نےلاہور کا رخ کیا اور ابلاغ عامہ (ماس کمیونی کیشن) پڑھنا شروع کیا۔ تب غالباً بسنت پر نئی نئی پابندی لگائی گئی تھی۔ ایک روز پی ٹی وی لاہور کا تقاضا آیا کہ بسنت پر پابندی سے متعلق ایک مباحثہ ہے، اپنے طلبہ کو بھیجیے ۔ علامہ اقبال کے نواسے یوسف صلاح الدین اس پروگرام کے مرکزی مہمان تھے اور پابندی کے خلاف اپنا موقف رکھتے تھے۔ ترتیب کچھ یوں تھی کہ پہلے پروگرام کا میزبان یوسف صلاح الدین سے سوال کرے گا، پھر طلبہ کو بھی سوال پوچھنے کی اجازت دی جائے گی۔

پروگرام پر جانے سے پہلے ہم کلاس فیلوز مل کر بیٹھے اور سوچا کہ کیا کیا سوال کیے جائیں گے۔ وہیں ایک کلاس فیلو نے رائے دی، کہ علامہ اقبال تو کہتے ہیں شمشیر و سناں اول۔۔طاؤس و رباب آخر۔ پھر علامہ اقبال کےنواسے کس بنیاد پربسنت جیسے تفریحی کھیل کو یوں فوقیت دے سکتے ہیں۔ تفریح بھی وہ جس کی وجہ سے کئی لوگوں کے گلے کٹتے ہیں، اور کئی چھتوں سے گر کر جان سے جاتے ہیں۔ پہلے ہم شمشیر و سناں کے میدان میں تو کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کر لیں، پھر طاؤس و رباب سے شغل کرتے بھی اچھے لگیں گے۔

اتفاق یہ ہوا کہ وہ کلاس فیلو پروگرام کی ریکارڈنگ میں نہ جا سکیں، لیکن ان کا سوال میں نے یوسف صلاح الدین سے پوچھ لیا۔ صاحبو، اس سوال پر تو تالیاں پٹ گئیں، ان کلاس فیلو کے حصے میں جو داد آنی چاہیے تھی، وہ میں نے سمیٹ لی۔ یوسف صلاح الدین بھی کچھ خفیف سے ہوئے، پروگرام کے میزبان (جو غالباً نعیم بخاری تھے) بھی مسکرا دیے۔ اب یہ یاد نہیں کہ سوال کا جواب کیا آیا تھا۔لیکن تب پی ٹی وی کس قدر دیکھا جاتا تھا، اندازہ اس بات سے ہوا کہ وہ پروگرام میرے کئی جاننے والوں کی نظروں سے گزرا اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ہم نے تمہیں ٹی وی پر دیکھا تھا۔

پھر ایک بار اور بھی ہمارے شعبے کے طلبہ کو پی ٹی وی لاہور کا بلاوا آیا اور میں گیا۔ اس پروگرام کے میزبان بھی غالباً نعیم بخاری ہی تھے اور مہمان چودھری پرویز الٰہی تھے جو تب بھی وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ موضوع جمہوریت تھا۔ وہاں میں نے سوال کیا، پرویز الٰہی صاحب! آپ بات جمہوریت کی کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی کہتے ہیں کہ باوردی صدر مشرف کو سو بار منتخب کرائیں گے۔ کیا آپ کی گفتگو اور عمل میں تضا د نہیں (تب تک سہیل وڑائچ صاحب کا ایک دن جیو کےساتھ شروع نہیں ہوا تھا، یا مقبول نہیں ہوا تھا۔ ورنہ میں پوچھتا، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟)

اس سوال پر بھی خوب تالیاں پٹیں تھیں۔ پرویز الٰہی صاحب نے اپنے موقف کے حق میں کچھ دلائل بھی دیے تھے۔ میرا خیال تھا پی ٹی وی والے یہ سوال سینسر کر دیں گے، لیکن انہوں نے جانے دیا۔ اس پر بھی مجھے کئی جاننے والوں نے بتایا کہ ہم نے آپ کو ٹی وی پر دیکھا تھا۔اس وقت کیبل گھر گھر نہیں پہنچی تھی ، ڈش اینٹینا کا بھی رواج محدود تھا۔ لوگ اپنے گھروں پر سادے اینٹینے کےذریعے پی ٹی وی ہی دیکھا کرتے تھے۔

مصنف کے بارے میں

عمیر محمود

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment