خصائصِ نبوت - مفتی منیب الرحمن

امام فخرالدین رازی فرماتے ہیں: علامہ حلیمی نے اپنی کتاب’’ المنہاج‘‘ میں ذکر کیا ہے: انبیائے کرام کا عام انسانوں سے جسمانی اور روحانی قوتوں میں ممتازہونا ضروری ہے ۔ قوتِ جسمانیہ دوہیں:قوت مدرکہ اور قوتِ محرکہ ،پھرقوتِ مدرکہ کی دوقسمیں ہیں:ایک وہ جس کا تعلق ظاہری حواسّ کے ساتھ ہے اور دوسری وہ جوباطنی حواسّ سے تعلق رکھتی ہے ،ظاہری حواسّ کی پانچ اقسام ہیں:قوتِ باصرہ،سامعہ،لامسہ ،ذائقہ اورشامّہ۔ انبیائے کرام ان تمام قوتوں کے اعتبار سے باقی تمام انسانوں سے ممتاز ہوتے ہیں،(تفسیر کبیر،ج:8،ص:199)‘‘ ،امام رازی کی اس عبارت کو شیخ بدرعالم میرٹھی نے بھی نقل کیا ہے،(ترجمان السنۃ، ج:3، ص: 242)۔

انبیائے کرام کی قوتِ باصرہ کا امتیاز یہ ہے کہ عالَم اعلیٰ و اسفل اور مشارق ومغارب اُن کی نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں،حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’نُبوّت کی ایک خصوصیت یہ ہے ،نبی کی بصارت اتنی روشن اور قوی ہوتی ہے کہ وہ زمین کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی چیزوں کو دیکھتا ہے،(فتح الباری، ج: 12،ص:366)‘‘۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے متعلق فرمایا:’’اور اِسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمینوں کی نشانیاں دکھاتے تھے کہ وہ عین الیقین والوں میں سے ہوجائیں،(الانعام:75)‘‘۔اس کے تحت مفسرین نے لکھا ہے : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم کی بصارت کو اتنا قوی فرمادیا تھا کہ اُنہوں نے عوالمِعُلْوِیَّہ وسفلیہ میں تمام نشانیاں دیکھ لیں۔

نبی کریمﷺنے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نے میرے لیے تمام روئے زمین کو سمیٹ دیا،پس میں نے اُس کے تمام مشارق ومغارب کو دیکھ لیا ، ( مسلم:2889)‘‘، نیز آپﷺنے فرمایا:’’میں نے ان تمام چیزوں کو جان لیا جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں،(ترمذی:3233)‘‘۔نبی کریمﷺاپنی پیٹھ کے پیچھے سے اسی طرح دیکھتے تھے جس طرح اپنے سامنے دیکھتے تھے،چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا:اللہ کی قسم !میں اپنے پسِ پشت بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح میں اپنے سامنے دیکھتا ہوں، (مسلم: 426)‘‘۔ نبی کریمﷺاپنے پیچھے کھڑے نمازیوں کے ظاہری احوال اور قلبی کیفیات کو بھی جانتے تھے ، آپﷺ نے فرمایا:’’اللہ کی قسم!مجھ پر نہ تو تمہارا خشوع پوشیدہ ہے اور نہ تمہارا رکوع، بیشک میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں، (بخاری: 418)‘‘،یعنی تمہارا ظاہر اور باطن میرے سامنے عیاں اور بیاں ہے‘‘۔

شیخ بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں:’’اپنے سامنے کی چیز دیکھ لینا تو ہر انسان کا خاصہ ہے ،لیکن رسول وہ ہوتے ہیںجن کو اللہ تعالیٰ سامنے اور پیچھے دیکھنے کی یکساں طاقت عنایت فرمادیتا ہے ،اگر آنکھ میں اپنے سامنے دیکھنے کی طاقت عام طور پر نہ ہوتی تو کیا کوئی انسان صرف عقلِ سلیم سے یہ حکم لگاسکتا تھا کہ اس عضو میں دیکھنے کی طاقت ہونی چاہیے تھی۔ پس جس نے آنکھ میں صرف سامنے کی سَمت دیکھنے کی طاقت عام طور پر رکھ دی ہے ،کیا اس کو قدرت نہیں کہ وہ کسی کے حق میں مخالف سَمت میں دیکھنے کی طاقت بھی پیدا فرمادے ۔قرآن کریم میں قیامت کے دن انسانی اعضاء کابولنا ثابت ہے اور جب انسان اپنے خلاف ان کی شہادت کو سن کر تعجب سے کہے گا:تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی،تو وہ جواب میں کہیں گے :ہمیں اُسی اللہ نے قوتِ گویائی عطا کی ہے ، جس نے ہر چیز کو عطا فرمائی ہے ۔صحابہ کرام کا بیان ہے : ہم اپنے سامنے رکھے ہوئے کھانے کی تسبیح خود سنتے تھے اوررسول اللہ ﷺنے اپنے کھانے میں سے بکری کی دستی اُٹھا کر یہود سے فرمایا تھا : مجھے کھانے میں زہر ملانے کی خبر اس نے دی ہے ،جب ان اعضاء میں نُطق کی طاقت پیدا ہوجانا ممکن ہوا ،تو آنکھ میں صرف بینائی کی طاقت کا مزید ترقی کرجانا ناممکن کیوں سمجھا جائے ،(ترجمان السنہ،ج: 3،ص: 246)‘‘۔

قوتِ سامعہ کے اعتبار سے انبیائے کرام کے امتیازکے حوالے سے حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:’’نبی کی سماعت اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ زمین کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی چیزوں کو سنتاہے،جسے دوسرے لوگ نہیں سنتے،(فتح الباری، ج:12، ص:366)‘‘۔

حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے یہ قوت عطا فرمائی تھی کہ وہ پرندوں کی بولیاں سمجھتے تھے اورکئی میل سے اُنہوں نے چیونٹی کی آواز سنی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’حتیٰ کہ جب وہ چونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا:اے چیونٹیو! اپنے بِلوں میں داخل ہوجائو، مبادا سلیمان اور ان کا لشکر بے شعوری میں تمہیں روند ڈالے، حضرت سلیمان اُس کی یہ بات سن کر مسکرائے، (النمل:18)‘‘۔

نبی کریمﷺنے فرمایا:’’میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے،آسمان چرچرارہا ہے اور اسے حق ہے کہ چرچرائے، آسمانوں میں ایک قدم کی جگہ بھی نہیں ہے مگر اس میں کوئی نہ کوئی فرشتہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہے ، (ترمذی: 2312)‘‘۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ آسمانوں کے چرچرانے کی آواز سنتے ہیں اور آپ آسمانوں میں فرشتوں کوسجدے کی حالت میں دیکھتے ہیں۔نبی کریمﷺکو اللہ تعالیٰ نے اُونٹ، بھیڑیے ، ہرن،گوہ اور دیگرحیوانات کے کلام کو سننے اور سمجھنے کی قدرت عطا فرمائی اور آپ نے اُن سے کلام فرمایا،(المعجم الاوسط: 5547،5996،المعجم الصغیر:948)۔

شیخ بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں:’’بیمار اور غم رسیدہ انسانوں کی آہ وبکا تو ہر بشر سنتا ہے ،لیکن رسول وہ ہوتے ہیں جو مردہ انسانوں کے نالہ وفریاد بھی سُن لیتے ہیں،چونکہ ان کے یقین کے عالم میں عقیدہ اور چشم دید حالت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا ،اس لیے جو باتیں وہ جانتے ہیں اس کو دیکھنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں،عام انسانوں میں یہ بات نہیں ہوتی ، اس لیے بعض شنیدہ واقعات کے دیکھنے کی ان میں طاقت نہیں ہوتی ،(ترجمان السنہ، ج: 3،ص:246)‘‘۔

نبی کی قوتِ لامسہ کے ممتاز ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو وہ آگ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی ، (الانبیاء :69)‘‘۔

نبی کریمﷺکے صحابی حضرت ابومسلم الخولانی کو اسود عنسی نے دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا ،لیکن اُن کے جسم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا،حضرت ابوبکرصدیق اُنہیں دیکھتے اور اُن پر رشک کرتے ہوئے فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے اُمت محمد یہ میں بھی ایسے لوگوں کو پیدا کیا ہے جنہیں حضرت ابراہیم جیسا کمال عطا کیا گیا ہے،(اَلْخَصَائِصُ الْکُبْریٰ، ج:2، ص:134)‘‘۔

جنگِ بدر میں حضرت عکاشہ اورجنگ اُحد میں حضرت عبداللہ بن جحش کی تلوار ٹوٹ گئی، وہ نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے اُنہیں کھجور کی ٹہنی دی جو اُن کے ہاتھ میں تلوار بن گئی ۔ پس نبی کریمﷺکے لَمس کی برکت سے لکڑی کی حقیقت تبدیل ہوگئی اور وہ لوہا بن گئی،(دلائل النبوۃ،ج1:ص:610)‘‘۔آپ ﷺنے حضرت جابر کی لاغر اُوٹنی پر اپناہاتھ پھیراتو اُس میں اتنی طاقت اور تیز رفتاری آگئی کہ اُس نے تمام اُونٹیوں کو پیچھے چھوڑ دیا،(بخاری:2967)‘‘۔

حضرت اُم معبد،حضرت معاویہ بن ثور اور حضرت انس کی بکریوں کے خشک تھنوںپر ہاتھ پھیراتو اُن میں دودھ اُتر آیا، (الشفاء ،ج1: ص:333)‘‘۔

حضرت عمیر بن سعد کے سر پر آپ نے اپنا ہاتھ پھیرا اور اُن کے لیے برکت کی دعافرمائی،چنانچہ اُن کی عمر اَسی برس ہونے کے باوجود اُن کے سر میں ایک بال بھی سفید نہیں تھا۔ حضرت سائب بن یزید کے سر پر آپ نے ہاتھ پھیرا ،تو پوری زندگی اُن کے بال سیاہ رہے،(الشفاء ، ج:1، ص:334)‘‘۔

حضرت حنظلہ بن حذیم کے سر پر آپ نے اپنا ہاتھ مبارک رکھااوراُن کے لیے برکت کی دعا کی ،اس کا اثر یہ ہوا کہ جس شخص کے جسم میں ورم ہوجاتا یا جس بکری کے تھنوںمیں ورم آجاتا تو اُس حصے کو نبی کریمﷺکی ہتھیلی کی جگہ رکھا جاتا تو وہ ورم ختم ہوجاتا،(مسنداحمد:20665)‘‘۔

نبی ﷺکی قوت شامہ کے حوالے سے حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:’’نبی کی قوتِ شامہ بہت قوی ہوتی ہے،جیسا کہ حضرت یوسف کی قمیص کے متعلق حضرت یعقوب کاواقعہ قرآنِ کریم میں ہے،(فتح الباری،ج:12،ص:366)‘‘۔ حضرت یوسف نے کہا: میری قمیص لے جائو اورمیرے والد حضرت یعقوب کے چہرے پر ڈال دو، قافلہ وہ قمیص لے کر روانہ ہوا تو حضرت یعقوب نے فرمایا:’’بیشک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں، (یوسف: 94)‘‘ ، حضرت یعقوب نے حضرت یوسف کی قمیص کی خوشبو کئی دن کی مسافت سے سونگھ لی،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کی قوت شامہ عام انسانوں کی قوت شامہ سے اعلیٰ اور ممتاز ہوتی ہے۔

نبی کی قوتِ ذائقہ کا عالَم یہ ہے کہ جب نبی کریمﷺنے گوشت کا ایک ٹکرا چکھا تو فرمایا : اس میں زہر ملا ہوا ہے، (بخاری:3169)‘‘۔

ایک خاتون نے آپ کوکھانے پر بلایا ،آپ نے لقمہ زبان پررکھتے ہی فرمایا: یہ کسی ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اُس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کیا گیا ہے، آپ نے لقمہ نوش نہ فرمایا،بات صحیح تھی ،کیونکہ اُسے مالک کی اجازت کے بغیر اُس کی بیوی سے حاصل کیا گیا تھا،(مسنداحمد:14785)‘‘۔

شیخ بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں:’’تلخ وشیریں میں تمیز تو عام بشر کی زبانیں بھی کرلیتی ہیں،مگر نبی ورسول وہ ہوتے ہیں جن کی زبان حرام وحلال میں تمیز کرتی ہے ،(ترجمان السنۃ،ج:3ص:243)‘‘۔

نبی کریمﷺکے لعاب دہن کی برکتوں اور خصوصیات کے واقعات بے شمار ہیں،غزوہ خندق کے موقع پر آپ نے ہنڈیا اور آٹے میں اپنا لعاب دہن ڈالا ،اس کی برکت سے چند آدمیوں کا کھانا ایک ہزار لوگوں نے کھایا ، کھانے میں کوئی کمی ہوئی اور نہ روٹیوں میں،ہنڈیا بدستور بھری رہی اور آٹا جوں کا توں اپنے حال پر رہا،( بخاری:4102)‘‘۔حدیبیہ کے خالی کنویں میں آپ نے اپنا لعابِ دہن ڈالا تو وہ پانی سے لبریز ہوگیا،( بخاری:4151)‘‘۔حضرت علی کی آنکھوں میں لگایا تو آنکھوں کی تمام تکلیف دور ہوگئی، (بخاری:2941)‘‘۔حضرت ابوبکر صدیق کے سانپ کے ڈسے جانے کی جگہ آپ نے لعابِ دہن لگایا تو زہر کا اثر زائل ہوگیا۔

باطنی حواسّ ودیگر قویٰ کے اعتبار سے انبیائے کرام کے امتیاز کی بابت امام رازی فرماتے ہیں:’’ایک باطنی حسّ حافظہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’عنقریب ہم آپ کو پڑھائیں گے، پس آپ نہیں بھولیں گے ،(الاعلیٰ : 6)‘‘اورایک قوتِ ذکاہے، حضرت علی فرماتے ہیں:’’مجھے نبی کریمﷺنے علم کے ایک ہزار باب سکھائے ہیں اور میں نے ہر باب سے ہزار باب مستنبط کیے ہیں‘‘ ،پس جب ایک صحابی اورامام الاولیاء کی ذکاوت کا یہ عالَم ہے تو امام الانبیاء کی ذکاوت کا کیا حال ہوگا۔

امام رازی فرماتے ہیں:قوتِ محرکہ کے اعتبار سے انبیائے کرام کے امتیازکی مثال نبی ﷺکی معراج ہے اور حضرات عیسیٰ ، ادریس اور الیاس علیہم السلام کا آسمانوں پر زندہ اُٹھایا جانا ہے اور حضرت سلیمان کے ایک صحابی کے بارے میں فرمایا:’’ جس کے پاس کتاب کا علم تھا،اُس نے کہا:میں آپ کے پاس اُس(تختِ بلقیس)کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آئوں گا،(النمل:40)‘‘، (تفسیرکبیر،ج:8،ص:200)‘‘۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */