عقاب کا ایک اور امتحان - احسن سرفراز

مکس مارشل آرٹس (MMA) دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہونے والا کھیل ہے۔ جب کرونا کی تباہ کاریوں سے پوری دنیا بند تھی تو مکس مارشل آرٹس کے مقابلے کروانے والی سب سے بڑی اور مقبول کمپنی UFC ہی تھی جس نے بغیر تماشائیوں کے مقابلے منعقد کروا کر کسی بھی نوعیت کے کھیل کی واپسی کروائی۔

مکس مارشل آرٹس (MMA) کے مقابلے اپنی تیز رفتاری اور خونریزی کیلیے مشہور ہیں۔ آٹھ کونے والے جنگلے میں منعقدہ اس مقابلے میں جب دو حریف مدمقابل اترتے ہیں تو ہزاروں سال پہلے کے یونانی اکھاڑے یاد آ جاتے ہیں جہاں گلیڈیٹرز کہلوانے والے جنگجو آمنے سامنے آ کر ایک دوسرے کے خون سے عوام کو محظوظ کرتے تھے۔ اسی طرح مارشل آرٹس کے تمام طریقوں اور داؤ پیچ کو سموئے ہوئی MMA کے مقابلے بھی شائقین سانس روکے دیکھتے ہیں۔

یو ایف سی کی مختلف وزن کلاسز میں لائٹ ویٹ ڈویژن (155 پاؤنڈز) کھلاڑیوں کے ٹیلنٹ کے تناظر میں سب سے بھرپور ڈویژن سمجھا جا رہا ہے اور اسکا موجودہ چیمپئن داغستانی شیر اور محمد علی کے بعد کھیلوں میں امت مسلمہ کے دلوں کی دھڑکن عقاب کے لقب سے مشہور حبیب نورمحمد اوف کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ حبیب دنیائے MMA میں واحد کھلاڑی ہے جو اٹھائیس مقابلوں کے بعد بھی ناقابل شکست ہے، علاوہ ازیں حبیب ان تمام مقابلوں کے تقریباً ہر راؤنڈ کو جیت کر مکمل بالادست کھلاڑی بھی کہلاتا ہے۔

اس ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب عرب امارات میں لائٹ ویٹ چیمپئن حبیب اور عبوری لائٹ ویٹ چیمپئن جسٹن گیچی کے درمیان ٹائٹل کے حصول کی جنگ ہونے جا رہی ہے۔ امریکی ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والا اکتیس سالہ گیچی جنگلے میں اپنے حریفوں کیلیے دہشت کی علامت کہلاتا ہے۔ گیچی کا سٹائل حریف کو تباہ کر دینے یا پھر خود تباہ ہو جانے والا ہے۔

گیچی چار سال کی عمر ہی سے حبیب کی طرح ریسلنگ کی ٹریننگ حاصل کرتا رہا اور آل امریکن ڈویژن ون سرکٹ میں امریکہ بھر میں ساتویں نمبر کا ریسلر کہلاتا تھا۔ لیکن مکس مارشل آرٹس کے مقابلوں میں گیچی اپنی ریسلنگ کا استعمال بطور جارح کے نہیں محض دفاع کیلیے ہی کرتا ہے، جبکہ گیچی کی اصل پہچان اسکے فولادی مکے اور مخالف کی ٹانگیں توڑ دینے والی اسکی نچلی ککس ہیں۔ ابھی تک گیچی چوبیس میں سے بائیس مقابلوں کا فاتح رہا جبکہ دو میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اپنی بائیس جیت میں سے گیچی نے انیس مقابلوں میں حریف کو ناک آؤٹ کیا جبکہ ایک حریف کو ہار ماننے پر مجبور کیا۔ گیچی، حبیب کے سخت ترین حریف مانے جانے والے ٹونی فرگوسن کو ہرا کر عبوری چیمپئن بنا اور فرگوسن کے ساتھ اسکا مقابلہ اب تک اسکے کھیل کی معراج سمجھا جاتا ہے، جسمیں گیچی نے مسلسل تیرہ مقابلوں میں ناقابل شکست فرگوسن کو بری طرح پیٹا اور بالآخر ریفری کو فرگوسن کی حالت دیکھتے ہوئے مقابلہ روکنا پڑا۔ جبکہ گیچی کو جب عبوری چیمپئن کی بیلٹ پیش کی گئی تو اس نے وہ بیلٹ ایک طرف پھینکتے ہوئے کہا کہ ابھی حبیب مستقل چیمپئن ہے اور وہ حبیب کو ہرا کر اصل بیلٹ حاصل کیے بغیر چین سے نہ بیٹھے گا۔

اس ٹائٹل فائٹ کی خاص بات یہ ہے کہ پہلا مقابلہ ہے جو کہ حبیب کے والد اور MMA کوچ عبدالمناف نورمحمداوف کی وفات کے چند ہی ماہ بعد منعقد ہو رہا ہے۔ دنیا دیکھنا چاہتی ہے کہ اتنے بڑے جذباتی نقصان کے بعد آیا کہ وہی حبیب جنگلے میں اترے گا کہ جو حریفوں کیلیے خوف کی علامت ہے یا پھر باپ کی وفات نے حبیب کو توڑ ڈالا ہے؟

حبیب کے مطابق بلاشبہ اسکے والد کی وفات ایک ایسا سانحہ ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا لیکن ایک مسلمان کی حیثیت سے وہ اسے اللہ کی رضا سمجھتا ہے۔ حبیب کہتا ہے کہ گیچی جیسا کھلاڑی ایک سخت حریف ہے لیکن ہر سخت حریف اسکی کھیل میں دلچسپی کو مزید بڑھاتا ہے اور وہ ان سخت سے سخت حریفوں کو ہرا کر ہی دنیا کو اپنے کھیل کی بلندی دکھا سکتا ہے۔ اگر یہ سخت حریف نہ رہے تو کھیل میں اسکی دلچسپی قائم نہیں رہ سکتی۔

حبیب کے مطابق وہ اپنے گزشتہ تمام حریفوں کی طرح گیچی کو بھی اپنی کشتی کے داؤ پیچ اور زمین پر لٹا کر مارنے جیسی تکنیک کے ذریعے خوب تھکائے گا اور پھر تیسرے یا چوتھے راؤنڈ میں اپنے مشہور گردن توڑ داؤ کے ذریعے اسے ہار ماننے پر مجبور کر دے گا۔ جبکہ گیچی کے مطابق ابھی تک حبیب کا پالا اسکی طرح کشتی کے داؤ پیچ جاننے والے حریف سے نہیں پڑا۔ اسکے پاس حبیب کے ہر داؤ کا توڑ موجود ہے جبکہ اسکے فولادی مکے حبیب کو پہلی دفعہ لہولہان کر دیں گے اور اسکی ٹانگیں توڑ دینے والی ککس حبیب کیلیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہونگی۔

گیچی جسے اسکے طوفانی سٹائل کی وجہ سے ہائی لائٹ کہا جاتا ہے کہتا ہے کہ وہ جنگلے میں حبیب، اپنے اور حبیب کے مشترکہ مینجر علی عبدالعزیز، حبیب کے کوچ ہاوئیر مینڈیز، UFC کے سربراہ ڈینا وائٹ سب کے مستقبل کے منصوبوں کو تباہ و برباد کرنے اترے گا اور جب وہ حبیب کو ہرائے گا تو یہ سب اسکا نام ہائی لائٹ کی بجائے 2020 رکھ دیں گے۔ کیونکہ جس طرح اس سال نے دنیا بھر کے منصوبوں کو کرونا کی وجہ سے تہہ و بالا کر ڈالا وہ بھی ان سب کے منصوبوں کو خاک میں ملا ڈالے گا۔ گیچی کے مطابق حبیب پچیس منٹس کی اس فائٹ کے ہر ہر لمحے میں اسکے خطرے کو محسوس کرے گا اور وہ جنگلے میں کبھی ہار نہ ماننے کیلیے ہی حبیب کے مقابلے میں اترے گا۔

پاکستانیوں کیلیے خوشخبری ہے کہ ہم سب اس تاریخی مقابلے کو ہفتے کی رات گیارہ بجے سے ٹین سپورٹس پر براہ راست دیکھ سکتے ہیں جبکہ مرکزی مقابلہ غالباً رات ایک بجے تک شروع ہو گا۔ دعا ہے کہ حبیب گذشتہ مقابلوں کی طرح اس مقابلے میں بھی بھرپور کامیابی حاصل کرے اور اپنے بہترین کردار، خوبصورت داعیانہ باتوں اور سنہری اصولوں پر مبنی زندگی کے ذریعے اسلام کا بہترین سفیر ثابت ہوتا رہے۔ اللہ حبیب کی صحت، ایمان، رزق اور عمل میں برکت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */