کیا پولیو کا کوئی علاج ہے؟

کراچی : گو کہ ہر شخص کے لئے یہ خطرہ موجود ہے لیکن پولیو زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے ایسے بچوں کو متاثر کرتا ہے جنہیں پولیو سے بچاؤکے قطرے نہ پلائے گئے ہوں۔

پولیو کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟

نمبر ایک : پولیو سے متاثر ہونے والے ہر 200 افراد میں سے ایک ناقابل علاج فالج (عموماً ٹانگوں میں) کا شکار ہوجاتا ہے۔

نمبر دو : فالج کا شکار ہونے والوں میں سے 5 فی صد سے 10 فی صد وائرس کی وجہ سے اپنے سانس کے پٹھوں کی حرکت بند ہوجانے کی وجہ سے موت کے منہ میں بھی چلے جاتے ہیں۔

نمبر تین : پولیو ٹانگوں اور بازوؤں کو مفلوج کرنے کی وجہ بنتا ہے جس کا علاج ممکن نہیں ہے اور یہ بچوں کو زندگی بھر کے لئے معذور بنا دیتا ہے، کچھ مریضوں میں جب وائرس سانس لینے کے عمل کو مفلوج کر دے تو پولیو موت کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

کیا پولیو کا کوئی علاج ہے؟

نہیں، پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے، پولیو کو صرف حفاظتی قطروں کے ساتھ ہی روکا جا سکتا ہے، اس کے لئے محفوظ اور مؤثر ویکسین موجود ہے، منہ کے ذریعے پلائے جانے والے پولیو کے قطرے او پی وی یعنی اورل پولیو ویکیسن بچوں کو پولیو کے خلاف تحفظ دینے کے لئے ضروری ہے، کئی مرتبہ پلانے سے یہ بچے کو عمر بھر کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔

کیا پولیو ویکسین محفوظ اور حلال ہے؟

پولیو ویکسین محفوظ ہے اور دنیا بھر کی اسلامی شخصیات الاظہر یونیورسٹی کے عظیم شیخ تنتاوی، سعودی عربیہ کے مستند مفتی اوراسلامی مشاورتی گروپ، قومی اسلامی مشاورتی گروپ اور دیگر معروف اسلامی اداروں سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد علماء کرام نے اس کے حلال ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔

خوراک پینے کے باوجود کچھ بچے پولیو کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں؟

پولیو وائرس کے خلاف بچے میں قوت مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت کا انحصار بشمول دوسرے امور اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ اس کے ارد گرد کا ماحول کیسا ہے۔ اچھے حالات یعنی صفائی ستھرائی اور صحت کے بہترین نظام کی موجودگی میں ایک بچے کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لئے پولیو ویکسینکی کم از کم تین خوراکیں درکار ہوتی ہیں۔

گرم اور مرطوب آب و ہوا والے ممالک یا ایسے ترقی پذیر ممالک جہاں بچوں میں غذائی کمی اور دستوں کی بیماری عام ہو، صفائی ستھرائی کا نظام اچھا نہ ہو اور حفظان صحت کی سہولیات بڑی سطح پر میسر نہ ہوں، وہاں بچوں میں پولیو کے خلاف مضبوط قوت مدافعت کے حصول کے لئےOPVکی بہت سی خوراکوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

بہت سے بچے جو ویکسین کی کئی خوراکیں لینے کے بعد بھی پولیو کا شکار ہو جاتے ہیں،یہ وہ بچے ہوتے ہیں جنہوں نے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول کے تحت پلائی جانے والی خوراکیں نہیں لی ہوتیں یا پھر کبھی ویکسین کی خوراک لی ہی نہیں ہوتی یا پھر ناکافی خوراکیں لی ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ دو سال قبل تک پاکستان کے مختلف علاقوں میں پولیو وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا تھا تاہم 24 ماہ کے قلیل عرصے میں مربوط حکمت عملی اپناتے ہوئے اور ایک نئے عزم کے ساتھ نہ صرف پولیو وائرس کی بے قابو لہروں کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے بلکہ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام اور اس کے تدارک کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا بھی سد باب کیا جا رہا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */