حیاکا معنی،اُس کے تقاضے اور ثمرات (حصہ اول) - مفتی منیب الرحمن

انسان کے خالق کی طرف سے اُس کے نفس میں ایک ایسی قوت واستعداد ودیعت کی گئی ہے ،جس کی وجہ سے انسان خیر وصلاح کے کاموں کی طرف پیش قدمی کرتا ہے اور شروبرائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے ،اس قوت یا ملکہ کا نام حیاہے۔خیر وشر کے باطنی جذبات پوشیدہ اُمور ہیں جو صرف اپنی علامات اور نشانیوں سے ہی پہچانے جاتے ہیں،خیر کی بہترین علامت شرم وحیا ہے اور شر کی علامت بے حیائی ہے ،چنانچہ ایک عربی شاعر کہتا ہے:

لاَ تَسْاَلِ الْمَرْئَ عَنْ خَلاَئِقِہٖ

فِیْ وَجْہِہٖ شَاہِدٌ مِنَ الْخَبَرِ

یعنی انسان سے اُس کے اخلاق کی بابت نہ پوچھ،خود اس کے چہرے پر اُس کے اخلاق کی شہادت موجود ہے۔

ابوحیان اُندلسی صفت حیاکی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ معیوب اور قابلِ مذمت افعال صادر ہونے کے خوف سے انسانی طبیعت میں انقباض اور گھٹن کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، اسے حیاکہتے ہیں، اس کا منبع دل ہے اور اس کا مظہر چہرہ ہے ، یہ حیات سے مشتق ہے اور اس کی ضد اَلْقِحَۃُ یعنی بے حیائی اورغیر پسندیدہ کاموں کے ارتکاب پر جری ہوناہے، (البحر المحیط، ج:1،ص: 191)‘‘۔ حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی فرماتے ہیں:’’جس کام کے ارتکاب کی صورت میں کسی شخص کو ملامت کاخوف ہو اور اس بناپر اس کام کو کرنے میںانقباض اور گھٹن کی کیفیت پیدا ہو تو اُس کیفیت کو لغت میں حیا کہاجاتا ہے اور شریعت کی نظر میں حیاکا معنی ہے:’’ایساوصف جو انسان کو بُرے کاموں سے اجتناب پر برانگیختہ کرے اور حق داروںکے حقوق میں تقصیروکوتاہی سے روکے ، اِسی وجہ سے حدیث میں آیا ہے : حیا پوری کی پوری خیر ہے،(فتح الباری:ج:1،ص:55)‘‘۔علامہ ابن علان صدیقی فرماتے ہیں:’’شریعت کی اصطلاح میں حیا اس خُلق کو کہتے ہیں کہ جو انسان کو قبیح اقوال وافعال اوربرے اخلاق کے ترک پر برانگیختہ کرتا ہے اور حقدار کے حق میں کوتاہی اور تقصیر سے روکتا ہے اور کہا گیا ہے : حیانفس کی ایک ایسی کیفیتِ راسخہ کا نام ہے کہ جو نفس کو حقوق کی ادائیگی پراور قطع ِرحمی اور نافرمانی سے اجتناب پر برانگیختہ کرتی ہے،(دَلِیْلُ الْفَالِحِیْن لِطُرُقِ رِیَاضِ الصَّالِحِیْن،ج:5،ص:150)‘‘۔

بنیادی طور پر حیا کی دو قسمیں ہیں:حیا کی ایک قسم تو نفسانی ہے،حیاکی یہ صفت اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی درجے میں تمام نفوس میں پیدا فرمائی ہے ، جیساکہ لوگوں کے سامنے شرمگاہ کھولنے اور صحبت ومجامعت سے حیاکرنا اور دوسری قسم ایمانی ہے ،وہ یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کے خوف کی بناپر گناہوں کے ارتکاب سے رُک جائے،(التعریفات،ص:94)‘‘ ۔ حیاکے مختلف درجات ہیں اور اس کا کامل ترین درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے خالق ومالک سے حیا کرے اور اس کی تشریح یوں کی گئی ہے:’’وہ تمہیں ایسی جگہ موجود نہ پائے جہاں قدم رکھنے سے اُس نے تمہیں منع کیا ہے اور اُس جگہ سے تمہیں غیر حاضر نہ پائے جہاں حاضر ہونے کا اُس نے تمہیں حکم دیا ہے، (شَرْحُ الزُّرْقَانِی عَلَی الْمَوَاہِبِ الَّلدُنِّیَّۃِ بِالْمَنَحِ الْمُحَمَّدِیَّۃِ،ج:6،ص: 91)‘‘۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:(1)’’کیا وہ(انسان)نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے،(العلق:14)‘‘۔(2)’’بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے، (النساء :1)‘‘۔ لہٰذا کسی بندے کا گناہوں کی پروا نہ کرنا، شریعت کے احکام کی خلاف ورزی کرنا،بندگانِ خدا کی حق تلفی اور اُن کی دل آزاری کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کی عظمت و ہیبت سے خالی ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے حیا کی کوئی رمق موجود نہیں ہے۔

حیائے ایمانی کی وضاحت ان احادیث سے ہوتی ہے:’’حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں:رسول اللہ ﷺنے فرمایا:اللہ تعالیٰ سے حیاکرو جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے ، ہم نے عرض کی:یارسول اللہ!الحمد للہ!ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں ، آپﷺنے فرمایا:حیا کا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے حیا کرنے کا حق یہ ہے کہ تم اپنے سر (اور دماغ )میں موجود تمام افکار کی حفاظت کرو اور تم اپنے پیٹ اور جو کچھ اس کے اندر ہے ،اُس کی حفاظت کرو اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے کو یاد کرو اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زینت کو ترک کر دے ، پس جس نے اس طرح کیاتو حقیقت میں اسی نے اللہ تعالی سے حیا کی جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے، (ترمذی:2458)‘‘۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکیزہ انسان اپنی سوچ کو بھی پاکیزہ رکھتا ہے ، بطن اور باطن کی حفاظت کے معنی یہ ہیں کہ وہ لقمہ حلال کھاتا ہے اور شہوت پرستی نہیں کرتا۔

حضرت معاویہ بن حیدہ القشیری بیان کرتے ہیں:میں نے رسول اللہﷺسے عرض کی:یارسول اللہ!ہماری شرمگاہوں کی حدود کیا ہیں، آپﷺنے فرمایا:اپنی منکوحہ بیوی کے سوا ہر ایک سے اپنی شرمگاہ کوچھپائو،اُنہوں نے عرض کی:انسان کبھی دوسرے شخص کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے ،آپﷺنے فرمایا:تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے،میں نے عرض کی:انسان کبھی تنہائی میں ہوتا ہے،آپﷺنے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اُس سے حیا کی جائے،(ترمذی:2769)‘‘۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان تنہائی میں بھی تلذُّذ کی نیت سے اپنی شرمگاہ کونہ دیکھے اور بلاضرورت کشفِ عورت نہ کرے ،اگر کوئی نہ بھی دیکھے ، اللہ تودیکھ رہا ہوتا ہے ، تو سب سے زیادہ حیا تو خالق ومالک کی ذات سے ہونی چاہیے۔

حضرت سعید بن زید انصاری بیان کرتے ہیں :’’ایک شخص نے نبی کریمﷺسے عرض کی:یا رسول اللہ!مجھے وصیت فرمائیں،آپﷺنے فرمایا:میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تو اللہ عزوجل سے ایسی حیا کر جیسے تو اپنی قوم کے کسی نیک وصالح آدمی سے حیا کرتا ہے،(مکارم الاخلاق للخرائطی:309)‘‘۔

الغرض حیا ایک نفسانی ملکہ ،فطری اور جبلّی استعداد ہے جو انسان کو ہر طرح کی برائیوں سے روکتی ہے ،اس کے اور معصیت کے درمیان رکاوٹ بنتی ہے ، یہ ایک روحانی حِس ہے ، جس طرح انسان آگ کے الائو سے بے اختیار پیچھے ہٹتا ہے اور تمام موذی ومُضراشیاء مثلاً:شیراور سانپ وغیرہ تمام درندوں اورحشرات سے بے اختیار جان بچاتاہے ،اسی طرح جس کے اندر اللہ تعالیٰ کا ودیعت کردہ یہ نفسانی ملکہ اور فطری استعداد اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود ہوتی ہے، وہ ہر معصیت اور تمام معیوب وناپسندیدہ اقوال وافعال سے کوسوں دور بھاگتاہے۔جس انسان میں یہ ملکہ جس قدر کم ہوگا ،اُس سے اعمالِ خیر کا صدور بھی اُسی مقدارمیں کم ہوگا۔اگر کسی شخص میں اس استعداد کا فقدان ہے یا قرآنِ کریم کے الفاظ میں اُس کے قلب پر رَین ہے یاحدیثِ پاک کے مطابق غین ہے ، تو وہ قبیح افعال سے کسی طرح باز نہیں رہ سکتا،بلکہ ان کاموں میں وہ ایک گونہ لذت وانبساط محسوس کرتاہے ۔ صفتِ حیا فطرتِ سلیمہ کو جانچنے کی ایک کسوٹی ہے ، چنانچہ نبی کریمﷺکا فرمان ہے:’’لوگوں تک گزشتہ نبیوں کا جوکلام پہنچا،اُس میں یہ بھی مذکور تھا:جب تم میں حیا نہ رہے توپھر جو چاہو کرو، (بخاری:6120)‘‘،اسی کو فارسی میں یوں بیان کیا جاتا ہے:’’بے حیا باش ہرچہ خواہی کن‘‘، یعنی جسے شُترِ بے مہاراور مادر پدر آزاد بننے کی خواہش ہے توسب سے پہلے وہ نعمتِ حیا سے محروم ہوتا ہے اوراپنی گردن سے اس کے بندھن کو کھول دیتا ہے ،یعنی شریعت کی پابندی سے آزاد ہوجاتا ہے ،اس کے بعدجو اُس کے جی میں آئے، کرگزرتا ہے،کیونکہ یہی وہ غیر مرئی مُہار اورپیروں کی زنجیرہے جو انسان کے قدموں کو برائیوں کی طرف بڑھنے سے روکتی ہے۔

نبی کریمﷺنے شرم وحیاکو انبیائے کرام ورسلِ عظام کی سنت قراردیا ہے:(1)’’حضرت ابوایوب انصاری بیان کرتے ہیں:رسول اللہﷺنے فرمایا:چار چیزیں رسولوں کی سنتوں میں سے ہیں:حیا ،خوشبو لگانا،مسواک کرنا اور نکاح کرنا، (ترمذی:1080)‘‘،(2):’’حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہﷺنے فرمایا:موسیٰ(علیہ السلام) بڑے ہی حیا والے اور بدن کو ڈھانکنے والے تھے ، ان کی حیا کی وجہ سے اُن کے بدن کا کوئی بھی حصہ نہیں دیکھا جاسکتا تھا ،( بخاری:3404)‘‘،(3):’’تمام انبیائے کرام ورسلِ عظام میں سب سے بڑھ کر شرم وحیا کی صفت خاتم النبیّٖن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺمیں پائی جاتی تھی ، چنانچہ حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں:رسول اللہﷺایک پردہ نشین کنواری عورت سے بھی زیادہ حیادار اور شرمیلے تھے ، جب کسی چیز کو ناپسند فرماتے( تو زبان سے کچھ نہ فرماتے)اُس کے آثار رخِ انور پر نمایاں ہوجاتے تھے،(بخاری:6102)‘‘،(4):’’اُم المومنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:میں نے(بیوی ہونے کے باوجود)اپنی پوری زندگی میں نبی کریمﷺکی شرمگاہ کو نہیں دیکھا،(ابن ماجہ:622)‘‘،(5):’’حضرت عائشہ آپﷺکی صفتِ حیا کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

نبی کریمﷺنہ کوئی فحش بات اپنی زبان پرلاتے ، نہ بازاروں میں شور مچاتے تھے ،بلکہ آپ ﷺبرائی کا بدلہ برائی سے دینے کے بجائے عفوودرگزر سے کام لیتے تھے ، (شمائل ترمذی:330)‘‘،(6):’’حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں:جب بارگاہِ رسالت میںکسی شخص کی کوئی شکایت کی جاتی تو نبی کریمﷺیہ نہ فرماتے کہ فلاں شخص کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ یہ بات کرتا یا کہتا ہے،بلکہ ایسے موقع پر آپ کا اندازِ تکلّم یہ ہوتا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا کہ وہ یہ بات کرتے یا کہتے ہیں،یعنی اُس شخص کا نام نہ لیتے تاکہ اُس کی عزتِ نفس قائم رہے اوراُسے ناپسندیدہ کام سے بھی روک دیتے ،( ابوداود:4788)‘‘،(7):’’قاضی عیاض مالکی بیان کرتے ہیں:رسول اللہﷺاپنے طبعی شرم وحیا اور کریم النفس ہونے کے باعث کسی کے منہ پر ایسی بات نہ کہتے جواُسے ناپسند ہوتی‘‘،(8):یہ بھی روایت ہے کہ شدتِ حیا کی وجہ سے آپﷺکسی کے چہرے پر نظریں جماکر نہیں دیکھتے تھے اور کسی کی ناپسندیدہ حرکت کو دیکھ کر آپﷺکی طبیعت میں ملال آجاتا، لیکن اس کے باجود آپ اشاروں سے ہی اُس کاتذکرہ کرتے تھے،(اَلشِّفَاء بِتَعْرِیْفِ حُقُوْقِ الْمُصْطَفٰی،ج:1،ص:242)‘‘۔

حیا کی صفت بے باکی اور بزدلی کی ایک درمیانی کیفیت ہے ،جو شخص بے باک اورجری ہوتا ہے، وہ دلیری کے ساتھ انجام کی پروا کیے بغیرہر کام کرگزرتا ہے ، خواہ وہ کام قابلِ مذمت اور معیوب ہی کیوں نہ ہو ، اس کے برعکس بزدل انسان مطلقاً کوئی کام نہیں کرسکتا، خواہ وہ اچھا ہو یا بُرا،جبکہ حیادار انسان ہراچھا کام پورے اطمینانِ نفس اور قوتِ ایمانی کے ساتھ کرتا ہے اور ہر برے کام سے ہر صورت میں اجتناب کرتا ہے ۔(جاری ہے)

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */