دو دل دہلا دینے والی خبریں - حافظ محمد زبیر

پہلی خبر تو یہ ہے کہ پاکپتن کے علاقے میں ایک باپ اپنی ہی سگی بیٹی کو 6 ماہ تک ریپ یعنی جبرا زنا کرتا رہا۔ ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں کے ریپ میں 90 فی صد کیسز انسیسٹ (incest) سے متعلق ہیں، یعنی ان کیسز میں بچے یا بچی کا کوئی قریبی رشتہ دار جیسا کہ چچا، تایا، ماموں، بھائی یا باپ وغیرہ ہی ریپ کے جرم میں ملوث ہوتا ہے۔ ایک اور تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ چھ ماہ میں محرم سے زنا یعنی انسیسٹ کے اگر 17 کسیز رپورٹ ہوئے ہیں تو صرف 5 کو سزا سنائی گئی جبکہ 9 ملزمان کی صلح ہوگئی اور 3 بری ہوگئے۔

ٹوئٹر پر ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے کہا کہ ایک خاتون نے شکایت درج کروائی کہ اس کی بیٹی کی نازیبا تصاویر پبلک کی گئی ہیں۔ ہم نے بہت جان مار کر ملزم تلاش کرلیا جو کہ لڑکی کا کزن ہی تھا۔ یہ جان کر خاتون نے مقدمہ واپس لے لیا۔ تو صرف پولیس یا عدالت کو گالیاں دینے کا کیا معنی ہے؟ یہ بات درست ہے کہ عدالتیں ٹھیک سے کام نہیں کررہیں، پولیس بھی ہڈ حرام ہے لیکن یہی خبریں یہ بھی بتلاتی ہیں کہ عوام بھی تو کرپٹ ہے ناں۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ بس کہیں کہیں کچھ نیک لوگ موجود ہیں کہ جن کی وجہ سے شاید یہ دنیا قائم ہے۔

"ہینگ دی ریپسٹ" کا نعرہ بالکل درست ہے لیکن اس میں یہ مطالبہ بھی شامل کرلینا چاہیے کہ ریپسٹ اگر مدعی کا محرم ہو تو پھر صرف ہینگ نہ کیا جائے بلکہ تین دن تک لاش بھی لٹکائی جائے۔

لب سڑک عورت کا ریپ ہو گیا، یہ تو ظلم ہے ہی، اس سے بڑھ کر کیا ظلم ہوگا کہ باپ ہی اپنی بیٹی کا ریپ شروع کردے؟ اب یہ کس کے سامنے روئے گی جبکہ اس کا محافظ ہی ڈاکو بن گیا ہے۔ واضح رہے کہ انسیسٹ کی کوئی قانونی سزا ہمارے ہاں موجود نہیں ہے بلکہ عام طور پر زنا کی دفعہ ہی اس پر لگادی جاتی ہے۔ بھلا ہو اس عدالت کا کہ جس نے 2015ء میں ایک باپ کو بیٹی سے ریپ کے جرم میں بارہ سال کی سزا سنا دی۔ لیکن جرم اگر ثابت ہوجائے تو یہ سزا کوئی سزا نہیں ہے۔ محرم سے زنا کرنا اور وہ بھی زنا بالجبر تو یہ بہت بڑا جرم ہے کہ جس کی سزا بھی عوامی مقامات پر پھانسی ہی بنتی ہے۔
تو "ہینگ دی ریپسٹ" کا نعرہ بالکل درست ہے لیکن اس میں یہ مطالبہ بھی شامل کرلینا چاہیے کہ ریپسٹ اگر مدعی کا محرم ہو تو پھر صرف ہینگ نہ کیا جائے بلکہ تین دن تک لاش بھی لٹکائی جائے۔ باقی یہ خدشہ درست ہے کہ کوئی بیٹی اپنے باپ پر بھی الزام لگا سکتی ہے تو اس کی تحقیق کرلی جائے۔ تو ایک تو زنا بالجبر کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ دوسرا ایسی اسلامی این جی اوز کی بھی اشد ضرورت ہے جو متاثرۃ خواتین یا بچیوں اور بچوں کو پروٹیکشن دیں۔ یہ سماجی کام بھی بہت ضروری ہے۔

بہت سی خواتین اور بچیاں اپنے محرم کی طرف سے زنا کو اس لیے برداشت کرتی رہتی ہیں کہ انہیں کوئی رستہ ہی نظر نہیں آتا کہ کہاں جائیں، کس سے مدد مانگیں، کون انہیں پناہ دے گا؟ اب باپ کے خلاف مقدمہ کر کے اس کے گھر میں رہنے سے تو رہی! پھر جو دار الامان بنے ہوئے ہیں، وہ کون سے محفوظ ہیں۔ ان کی کہانیاں بھی سر عام ہیں۔ وہاں بھی پناہ گزیں بچوں اور بچیوں کو abuse کیا جاتا ہے۔ سرکاری اہلکار اور وزراء اپنے اتھارٹی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں abuse کرتے ہیں۔ تو ایسا سیٹ اپ خواتین کی سرپرستی میں ہو اور وہ بھی اللہ سے ڈرنے والی۔

ریپ کو قرآن مجید نے فساد فی الارض قرار دیا ہے لہذا اس میں صلح کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ ریاست کے خلاف جرم ہے جو بغاوت میں شامل ہے۔

تیسرا سیکس ایجوکیشن کی ضرورت ہے۔ خاص طور بچوں اور بچیوں کو یہ بتلایا جائے کہ انہیں اپنے محرم رشتہ داروں کی طرف سے یہ ظلم برداشت نہیں کرنا ہے۔ اگر ان کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو وہ اسے رپورٹ کریں۔ شروع میں پولیس میں نہ کریں بلکہ اپنے قریبی دوستوں یا سہیلیوں سے مشورہ کر لیں لیکن انہیں کچھ کرنا ضرور ہے۔ اور جب اسٹینڈ لے لیں تو پھر صلح بھی نہیں کرنی، بھلے جو مرضی ہو جائے۔ ریپ کو قرآن مجید نے فساد فی الارض قرار دیا ہے لہذا اس میں صلح کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ ریاست کے خلاف جرم ہے جو بغاوت میں شامل ہے۔

دوسری خبر یہ ہے کہ جہلم کے علاقے میں ایک ٹیوشن اکیڈمی میں ایک استاذ کی child abuse کی ویڈیو ٹوئٹر پر وائرل ہوئی ہے جو ایک چھوٹی بچی کو بری طرح سے مار پیٹ کر رہا ہے۔ اس کا مقدمہ اگرچہ درج ہوچکا ہے لیکن یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ ملزم داڑھی ٹوپی والا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سوسائٹی میں مذہبی لوگوں کا امیج خراب ہونے میں ان کے اپنے کرتوتوں کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ آئے روز چائلڈ اے بیوز کے جو واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، ان میں ایک بڑی تعداد مذہبی لوگوں کی بھی ہوتی ہے۔

اب ان پھسپھسی دلیلوں سے نکل آئیں کہ اسکول، کالج، یونیورسٹی والوں کے تو اتنے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ مذہبی طبقے کا معیار تو یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ایک بھی ایسا کیس رپورٹ نہ ہو۔

اس سلسلے میں مدارس کو چاہیے کہ اپنے طلبہ کی تربیت کریں۔ جسمانی تشدد ہو یا جنسی، دونوں کو کسی صورت برداشت نہ کیا جائے بلکہ میری رائے میں تو ایسے شخص کی داڑھی ٹوپی دونوں اتروا لینی چاہییں، دین تو بدنام نہ ہو ناں۔ اب داڑھی ٹوپی دیکھ کر سارے سوشل میڈیا پر ایک تحریک برپا ہو جاتی، اچھا، یہاں بھی مولوی نکل آیا ہے۔ بھائی، پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے طلبہ کی تربیت کریں۔ اگر نہیں کر سکتے تو انہیں کہیں کہ مولویوں والا حلیہ بنا کر دین کو بدنام کرنے سے بہتر ہے کہ عام انسانوں کی طرح رہیں۔

اب ان پھسپھسی دلیلوں سے نکل آئیں کہ اسکول، کالج، یونیورسٹی والوں کے تو اتنے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ مذہبی طبقے کا معیار تو یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا ایک بھی ایسا کیس رپورٹ نہ ہو۔ پہلے وقتوں میں مسلم معاشروں میں لبرل اور مذہبی طبقے کی اس طرح کی تقسیم نہ تھی۔ اب یہ بن چکی ہے تو اس میں اپنے طبقے کا وقار اور اخلاق مجروح نہ ہونے دیں۔ لوگ آپ میں اور دین میں فرق نہیں کرتے۔ آپ ہی کو دین سمجھتے ہیں لہذا بہت محتاط چلنے کی ضرورت ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ایک عمدہ مضمون ہے ۔
    ایک وسیع و نہایت مشکل موضوع پر بہترین رائے دی ہے حافظ زبیر صاحب نے ۔
    اور حل بھی نہایت آسان اور قابل عمل بتایا ۔
    جزاکم اللہ خیرا کثیرا ڈاکٹر صاحب

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */