وسعت اللہ خان نے کیا غلطی کردی؟ - عامر خاکوانی کا سوشل میڈیا بلاگ

معروف صحافی اور کالم نگار وسعت اللہ خان کی بہت سی آرا، سوچ اور فکر سے مجھے اختلاف ہے، بعض امور پر شدید اختلاف۔ وسعت اللہ خان کی کئی تحریروں پر شدت سے جی چاہا کہ جواب میں لکھا جائے ، مگر ان کے سینئر اور صاحب مطالعہ لکھاری ہونے کے احترام نے خاموش رکھا۔

کہنے کا مقصد یہ تھا کہ میں وسعت اللہ خان کی سوچ اور فکر کا قطعی حامی نہیں ہوں۔ اس کے باوجود جس طرح ہمارے سندھی دوست اور سندھی قوم پرست احباب وسعت اللہ ِخان کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، ان کے خلاف ایک زبردست تنقیدی، زہریلی مہم شروع کی گئی ہے، یہ نامناسب، قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔

وسعت اللہ خان نے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا، اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر تاثر یوں دیا جا رہا ہے گویا خدانخواستہ وہ بلیسفیمی کے ملزم ہیں جنہوں نے ایسی گستاخی کر دی ہے جو ناقابل معافی ہے۔ ایسا رویہ غیر علمی اور غیر دانشمندانہ ہے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ وسعت اللہ خان کی پوری زندگی، طویل صحافتی کیرئر سب کے سامنے ہے۔ وہ ہمیشہ سندھی قوم پرستوں کی حمایت میں بات کرتے رہے، بہت بار انہوں نے سندھ کے محروم طبقات کی بات کی، سندھی ادب، سندھی ادیبوں کی بات کی، سندھ کے حقوق کی بات کی۔ نہ صرف سندھ بلکہ بلوچ، پشتون اور دیگر قوم پرست تحریکوں کے حق میں ہمیشہ بات کرتے رہے۔ وسعت اللہ خان ان لکھاریوں میں سے ہیں جو کبھی پرو اسٹیبلشمنٹ نہیں رہے، انہوں نے مضبوط اور واضح انداز میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف اپنائے رکھا۔

وسعت اللہ خان کی رائے کو مسترد کیا جا سکتا ہے، اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ممکن ہے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے وہ غلطی پر ہوں، تاریخی حوالوں سے ان کی رائے درست نہ ہو، مگر انہیں اپنی رائے رکھنے ، اسے بیان کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم ان کے اس حق کی حمایت کرتے ہیں۔

ذاتی طور پر میں سندھ کی تقسیم کا حامی نہیں ہوں۔ پیپلزپارٹی نے سندھ اور شہری سندھ خاص کر کراچی کو جس طرح تباہ کیا، اس کے باوجود میرے خیال میں کراچی سندھ کا حصہ رہنا چاہیے، البتہ کراچی کو فراخدلانہ پیکیج ملنے چاہئیں، اس شہر کے مسائل دور ہوں اور وہاں کے مکینوں کو آسودہ، خوشحال اور پرسکون رہنا چاہیے۔ کراچی شہر کا پاکستانیوں پر قرض ہے، پوری قوم کو یہ چکانا چاہیے۔ یہ کام مگر سندھ کو تقسیم کئے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔

اپنی اس واضح رائے کے باوجود میں وسعت اللہ خان کی رائے کا احترام کرتا ہوں، انہیں اپنی بات کہنے دینی چاہیے، مکالمہ دلیل اور علمی شائستگی سے کیا جائے۔ جس طرح فیس بک پر بڑے پڑھے لکھے سندھی احباب وسعت اللہ خان پر باقاعدہ لعن طعن کر رہے ہیں، گالیاں دے رہے ہیں، طوفان اٹھا رکھا ہے، یہ غلط ہے، اس کی مذمت کرنی چاہیے۔ اس کے خلاف بولنا چاہیے۔

میں عامر خاکوانی، ایک اعلانیہ رائٹسٹ، وسعت اللہ خان کا ایک فکری مخالف اپنی کمزور آواز اور محدود دائرے کے اندر رہ کر سہی، مگر پوری طرح وسعت اللہ خان کی حمایت کا اعلان کرتا ہوں۔

ہم ان سے اختلاف رکھتے ہیں، مگر ان کو اپنی رائے رکھنے، اس کے اظہار کے حق کی خاطر لڑیں گے۔ یہ وسعت اللہ خان کا ساتھ دینے کا وقت ہے۔ انہیں سپورٹ کیا جائے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • خاکوانی صاحب کا شمار میرے چند گنے چنے پسندیدہ لکھنے والوں میں ہوتا ہے ان کا انداز بیان سادہ ،سلیس اور دلچسپ ہوتاہے جو کچھ یہ کہنا چاہتے ہیں بڑی خوبصورتی سے اور انتہائی مربوط انداز میں بیان کرتے چلے جاتے ہیں اور کوئی ابہام پیدا نہیں کرتے۔کسی بھی موضوع یا شخصیت سے ہمدردی یا تعلق کے باوجود غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ خوبی فی زمانہ ناپید نہیں تو نایاب ضرور ہے۔m

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */