میاں بیوی اپنا تعلق کیسے مضبوط کریں؟‌ - نیر تاباں

میاں بیوی کے دور رہنے کی وجوہات کیا ہیں؟ کون سے سماجی مسائل اس سے جنم لے سکتے ہیں؟ یہ ایک لمبی اور دکھ بھری داستان ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر دوری ہی نصیب ٹھہری تو اب اس لانگ ڈسٹینس ریلیشن شپ میں محبت کیسے قائم رکھی جائے؟

سب سے پہلی بات تو یہ کہ دور رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ چوبیس گھنٹے ایک دوسرے کو اپڈیٹ کیا جاتا رہے، یا اس کی توقع رکھیں۔ کسی مصروفیت کی وجہ سے جب یہ تسلسل ٹوٹے تو مشکل بڑھ جاتی ہے۔ اس کے بجائے کوالٹی ٹائم کا اہتمام کریں۔ چاہے اس کے لیے جلدی اٹھنا پڑے، دیر سے سونا پڑے، لیکن دن میں گھنٹہ ساتھ ضرور گزاریں، جس میں لیپ ٹاپ، ٹی وی، بچے۔۔۔ سب سائیڈ پر کرکے ایک دوسرے کی کمپنی انجوائے کریں۔ کوالٹی ٹائم کو غیبت سیشن بنانے سے پرہیز کریں۔ مرد جو میلوں دور بیٹھا ہے، اس کے بجائے خود باؤنڈریز بنانا سیکھیں۔ اور حضرات جو اتنا دور بیٹھے ہیں، وہ یہاں کسی بھی عورت (ماں، بہن، بیوی۔ سبھی!) کو سپیس نہ دے، دوسری کی برائیاں کرنے کی۔

روز مرہ کی گپ شپ کیساتھ ساتھ کچھ باتیں ایسی ہوں جو صرف میاں بیوی کی ہوا کرتی ہیں۔ مصروفیت کے حساب سے وقت کم یا زیادہ کیا جاسکتا ہے، لیکن کچھ وقت روزانہ ساتھ گزارا جائے اور ایسا مستقل ہو۔ بلا ناغہ! صبح جاگ کے سلام اور سونے سے پہلے شب بخیر کا میسج خود پر لازم کرلیں۔

گاہے ویڈیو کالز کی جائیں۔ ایسے میں بچوں کا موجود ہونا ضروری نہیں۔ آپ خلوت کے اوقات میں ایک دوسرے کیساتھ وقت گزاریے۔ کوئی رومینٹک بات ہونٹوں سے پھسل جانے دیجیے۔ کوئی بات نہیں، اپنی سگی بیوی (یا شوہر) سے ہی بات ہورہی ہے۔

ایک دوسرے کے پیار بھرے نام رکھیے۔ وہ نام جو بس آپ انہیں پکارتے ہوں۔ پکارنے والے کو بھی بہت اپنائیت کا احساس ہوتا ہے اور جسے پکارا جائے، اسے بھی انسیت محسوس ہوتی ہے۔

اپنے شیڈول کیساتھ اپنے سپاؤز کو اپڈیٹ رکھیں۔ فری اوقات میں لمبی بات کا اہتمام کرلیں۔ اچانک کہیں جانا ہو، دوستوں کیساتھ کوئی پروگرام بن جائے، دیر سے آنے کا امکان ہو تو بھی وقت پر مطلع کردیں۔ آپ کی زندگی میں جو بھی نیا ہو رہا ہے، اپنے شوہر یا بیوی کیساتھ شیئر کیا کریں۔ ہوسکے تو پکچرز اور وڈیوز بنا کے انہیں ساتھ شامل رکھیں۔ یہاں بھی ہر وقت کی پکچرز اور وڈیوز مراد نہیں، لیکن اکثر اوقات ایسا کیا کریں۔

کوئی ایکٹیویٹی دونوں ایک ساتھ مل کر کریں۔ جیسے کوئی سیزن، یا مووی ایک ہی وقت پر دونوں ساتھ دیکھیں۔ کوئی ڈاکومینٹری دیکھ لیں۔ لڈو سٹار بھی کھیلی جاسکتی ہے، یا سکریبل، یا کوئی آن لاین گیم۔ ہوسکے تو ایک ہی وقت پر واک پر نکلیں اور دوسرے بندے کو فون پر ساتھ لے لیں۔ بہرحال کچھ ہو جو ساتھ کیجیے۔

کہیں باہر گھومتے، یا کوکنگ کرتے کوئی کوئک سا وائس میسج، کوئی گانا، شاعری کچھ اپنی آواز میں ریکارڈ کر کے بھیجیں۔ انہیں اچھا لگے گا۔

سالگرہ، اینیورسری، عیدین۔۔۔ سب مواقع پر ایک دوسرے کو محبت سے وش کرنا یاد رکھیں۔ حضرات کو یہ کام مشکل لگے تو الارم لگالیں۔ بہتر ہو کہ کچھ دن پہلے کا الارم لگا رکھیں اور آن لائن شاپنگ سے کچھ خرید کر بیگم کے دروازے پر ڈیلیور کروا دیں۔ کبھی بغیر کسی اہم تاریخ کے یہ کام بس سرپرائز دینے کی نیت سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

یہ باتیں بظاہر غیر اہم لگتی ہیں لیکن ریلیشن شپ کی بنیاد انہیں چھوٹی چھوٹی، بظاہر غیر ضروری باتوں سے مضبوط ہوتی ہے۔

خطوط پرانے زمانے کی کوئی چیز لگتی ہے لیکن اگر ہوسکے تو محبت نامے ایک دوسرے کو بھیجیں۔ محبوب کو لکھا جانے والا خط بہت خاص ہوا کرتا ہے۔ وہ محض الفاظ نہیں ہوتے، وہ حرف حرف جذبات پروئے ہوتے ہیں۔ وہ لمس ہوتا ہے، خوشبو ہوتی ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ٹیکسٹ میسجز کے برعکس خطوط محفوظ کیے جاسکتے ہیں۔

ایک دوسرے کیساتھ اپنی اداسی، خوف، اِن سیکیوریٹیز اور باقی ایموشنز پر بات کریں۔ سننے والا defensive نہ ہو، بلکہ سن کر بات کو ایکنالج کرے، تسلی دے، اور چاہے تو اپنے بھی جذبات کا اظہار کرے۔ سب کے ہوتے ہوئے اگر کوئی آپ کو مس کرتا ہے، آپ کی کمی کو محسوس کرتا ہے، اس کا اظہار کرتا ہے تو یوں چاہے جانے پر خوشی کا اظہار کریں، اور موقع ملنے پر آپ بھی جتائیں کہ آپ بھی سوتے، جاگتے، کہیں گھومتے پھرتے، کوئی خاص چیز کھاتے انہیں اچانک سے یاد کرتے ہیں۔ ہاں، ہر وقت یہی بات نہ ہو بلکہ لائٹ ماحول میں ایک دوسرے سے بات کی جائے۔

آپ جن سے دور ہیں، ان سے ملنے کی دعا کرتے رہیں اور ساتھ ہی ریلیشن شپ پر کام بھی جاری رکھیں۔ اور اپنی فیملی، دوست احباب کیساتھ ملنے والے وقت کی قدر کریں۔ یہ رشتے بھی قیمتی ہیں۔ جتنا ممکن ہوسکے، خوش رہنے کی کوشش کریں۔ اور اداس شاعری، اداس گانے سن سن کر خود پر اداسی طاری کر رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خود کو خود ہی خوش رکھیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ جلد ملن کی راہ نکالیں۔ محبت کریں، اس کا اظہار کریں، بار بار کریں۔ رشتوں میں ایک بار خاموشی در آئے تو اس کو پاٹنا مشکل ہو جایا کرتا ہے۔ ایک دوسرے سے بے نیاز نہ ہوں، محبت کی ڈور میں جوڑ رکھیں۔ مردوں کو بالخصوص اس پر محنت کی ضرورت ہے۔ اور اب اگر آپ کا سوال ہے کہ اتنا عرصہ اظہار نہ کیا، اب کیسے کروں کہ جھجک ہے۔ تو انہیں ٹیکسٹ کریں، یا کال۔ کہیں کہ یار، اتنا عرصہ ہوا، آج بھی تمہیں سوچوں تو چند لمحے آس پاس اداسی سی ہو جاتی ہے۔ یا کہیے کہ یہ تحریر پڑھو (شیئر کریں ان کے ساتھ)۔ اور کہیں کہ آؤ مل کر اس پر کام کرتے ہیں۔

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */