تذکرہ غازی -عبدالخالق بٹ

1953ء میں سید سلیمان ندویؒ کی تدفین پر ایک عرب ملک کا سفیر زاروقطار رو رہا تھا ،کہتا تھا کہ ’’میں اس تن ِ خاکی کے خاک میں ملنے پر نہیں روتا ،میں تو اس بات پر نوحہ کناں ہوں کہ ایک علم کا سمندر ہے جو نذر ِگور ہوا چاہتا ہے۔“

10سال قبل اختتام پذیر ہوتے ماۂ ستمبر میں محموداحمد غازی صاحب ؒ کے سانحہ رحلت کی خبر ملی تو جیسے دل بیٹھ گیا۔ ایک عالم کی موت پر عرب سفیر کی اشک باری کا راز پہلی بار کھلا اور پہلی ہی باریہ پتا لگا کہ ایک عالم باعمل کی موت کیونکر ایک جہاں کی موت قرارپاتی ہے۔ کبھی کوئی حادثہ اس قدر شدید ہوتا ہے کہ اُس کے بیان کا یارا نہیں ہوتا ، زبان دانی کا فسوں دم توڑ دیتا ہے، کوئی لفظ کوئی پیرایۂ اظہار کفایت نہیں کرتا کہ ’اس حادثۂ وقت کو کیا نام دیا جائے‘۔ جناب غازی صاحب ؒ کے انتقال کی خبر بھی ایک ایسا ہی دل دوز حادثہ تھا۔

غازی صاحبؒ کا تعلق شمالی ہندوستان کے مردم خیز خطے ’تھانہ بھون‘ کے ایک علمی خانوادے سے تھا۔ ایک موقع پر اسلامی دنیا کے علمی سرمائے کی یورپ منتقلی سے متعلق فرمایا ’میں نے وہاں اپنے خاندان کے بزرگوں کی کتب دیکھیں جن پر ان کی مہر یں تک ثبت ہیں۔


مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے تعلیمی سلسلے کا آغاز جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹائون کراچی سے کیا جوبہ مرحلہ پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی پر تمام ہوا۔ آپ کو السنۃ الشرقیہ (یعنی عربی و فارسی) کے ساتھ ساتھ السنۃ الغربیہ یعنی انگریزی، جرمن اور ہسپانوی زبانوں میں بھی درک حاصل تھا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد،شریعہ اکیڈمی، دعوۃ اکیڈمی، شرعی عدالت کے جج اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن کے حیثیت سے فرائض انجام دیے۔

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے تبحر علمی کا اندازہ لگانے کے لیے صرف یہی بات کافی ہے کہ جنوبی ہند کی’اسلامی تعلیمی انجمن‘ کی کوششوں سے 1925ء میں مدراس سے خطبات کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ سید سلیمان ندویؒ (1882۔1953) کے ’خطاباتِ مدراس‘، محمد مارماڈیوک ولیم پکتھالؒ (1936-1875)کی ’اسلامی ثقافت‘، علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ (1938-1877) کی ’فکر اسلامی کی تشکیل جدید‘ اور ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ (2002-1908) کے ’خطباتِ بہاولپور‘ سے ہوتا ہوا جناب ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ(2010-1950) کے ’اسلام کا قانون بین الممالک ۔ خطباتِ بہاولپور (دوم)‘تک پہنچا۔

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ملکی اور گروہی تعصبات سے پاک، اسلاف کے علم و حلم کا نمونہ تھے۔ آپ طالبانہ جستجو اور عالمانہ شان لیے ہوئے تھے۔ آپ کے خطبات، محاضرات اور نگارشات میں علمی خوشہ چینی کی بہت سے مثالیں موجود ہیں۔ آپ اسلاف کے علمی کارناموں کے اعتراف کے ساتھ ہم عصر صاحبانِ علم و عرفان کے کمال کا ذکر بھی نہایت عقیدت سے کرتے۔ چنانچہ ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کے متعلق فرماتے ہیں کہ: ’وہ بیسویں صدی میں مجدد علوم سیرت ہیں۔

علاوہ ازیں ترک نژاد جرمن شہری ’فواد سیزگن‘ کے متعلق آپ کا کہنا تھا کہ:
’اگر مجھ سے کہا جائے کہ اس دور کی تین فاضل ترین شخصیات کے نام بتائو تو میں سب سے پہلے ان کا (فواد سیزگن) کا نام بتائوں گا۔

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی عالمانہ شانِ جلالت کا اعتراف صرف اسلامی دنیا ہی میں نہیں کیا گیا بلکہ مغرب بھی آپ کی علمی بصیرت کا قائل تھا۔ چنانچہ نوے کی دہائی کے آغازمیں جرمنی میں Is Islam a threat to Western Europe? (کیا اسلام مغربی یورپی کے لیے خطرہ ہے؟) کے عنوان سے ایک ہفت روزہ اجتماع منعقد ہوا تو اس موضوع پر پورے عالم اسلام کی نمایندگی اور اس کے موقف کے ا ظہار کے لیے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کو چنا گیا۔

آپ پاکستان میں رہنے والے غیر معروف اور کم آمیز صاحبانِ علم سے بھی رابطے میں رہتے اور کسبِ فیض کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ اس ضمن میں آپ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے مولانا محمد علی صدیقی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’وہ انتہائی عالم فاضل انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عجیب و غریب ملکہ زود نویسی بلکہ زود تحقیقی کا عطا فرمایا تھا۔

غازی صاحبؒ مولانا محمد علی صدیقی کی نامکمل تفسیر ’معالم القرآن‘ کو اردو زبان کی بہترین تفاسیر میں شمار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی یہ علم دوستی فقط پاکستان تک محدود نہیں تھی۔ آپ کے سلسلہ محاضرات کے نتیجہ میں اہل پاکستان مشہور ہسپانوی نو مسلم ’عبدالرحمن مدینہ مولیرا‘ سے واقف ہوئے ، جن کا قصہ دلچسپ بھی ہے اور فکر انگیز بھی، قارئین کی دلچسپی کے لئے عبدالرحمن مدینہ مولیرا کے قبول اسلام کا تذکرہ خود غازی صاحبؒ کے الفاظ میں پیش ہے:

’میں ایک صاحب سے ملا ہوں۔ا سپینی مسلمان ہیں۔ نو مسلم ہیں اور اسلام کے بہت پرجوش مبلغ ہیں۔ ان کے اثر و رسوخ سے تقریباً بیس بائیس ہزار اسپینی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ ان کا اسلام سے واسطہ اس طرح پڑا کہ ان سے اسپینی حکومت نے کہا کہ 1492ء میں ا سپین میں مسلمانوں کا زوال ہوا تھا۔ اس لیے 1992ء میں مسلمانوں کے زوال کا پانچ سو سالہ جشن منایا جائے اور اس بات کی خوشی منانے کا اہتمام کیا جائے کہ مسلمان یہاں سے پانچ سو سال قبل نکالے گئے تھے۔ ان صاحب سے کہا گیا کہ اس سلسلے میں آپ ایک کتاب مرتب کریں جس میں اس دور کے مسلمانوں کے مظالم اور ناانصافیوں کا تذکرہ ہو۔ جب انہوں نے مطالعہ شروع کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ عربی زبان سیکھے بغیر یہ کام نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ انہوں نے عربی زبان سیکھ لی اور مسلمانوں کی تاریخ پر کام کرنا شروع کردیا۔ اس کام کے دوران میں اپنے ذاتی مطالعہ سے اس نتیجے پر پہنچے کہ ا سپین کی تاریخ کا سنہری اور زریں دور وہ تھا جب مسلمان یہاں حاکم تھے ،علوم و فنون کا چرچا ہوا، ادارے بنے، بہترین عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ مفید کتابیں مکمل ہوگئیں۔ نہ مسلمانوں سے پہلے اس قدر کام ہوا تھا اور نہ مسلمانوں کے بعد۔ یوں انہیں اسلام سے دلچسپی ہوگئی۔ مسلمانوں کے کارنامے جاننے کا موقع ملا اور اس طرح اسلام پر اعتماد پیدا ہونا شروع ہوا۔ اب انہوں نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا۔ پھر حدیث کا مطالعہ اور بالآخر اسلام قبول کرلیا۔ اپنا سابقہ منصوبہ ادھورا چھوڑ کر اسلام کے تبلیغ میں لگ گئے۔ انہوں نے اپنا نام عبدالرحمن رکھا۔ پورا نام’ عبدالرحمن مدینہ مولیرا‘ ہے۔ میں ان سے کئی بار ملا ہوں۔ میرے بہت اچھے دوست ہیں۔

جس طرح ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کے ’خطبات بہاولپور‘ کو ان کے تحقیقی نتائج کا حاصل کہا جاتا ہے۔ بعینہٖ اگر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے سلسلہ محاضرات کو ان کے تحقیقی اور مشاہداتی علم کا حاصل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ان محاضرات کا محرک جناب محمود احمد غازیؒ کی بہن مرحومہ عذرا نسیم فاروقی ؒتھیں جنہوںنے اولاً خواتین مدرسات کے لیے 12 ذیلی عنوانات کے تحت ’محاضرات قرآنی‘ کا اہتمام کیا۔ اور محمود احمد غازیؒ کو اس کے لیے آمادہ کیا۔

قرآن کی تاریخ اور اس کے تکنیکی مباحث پر مشتمل ان عام فہم خطبات کو قرآن سے دلچسپی رکھنے والے افراد میں بے حد سراہا گیا چنانچہ ’محاضرات قرآنی‘ کے بعد درد کے عنوان اور سے اور ہوتے گئے اور ’محاضرات حدیث‘، ’محاضرات فقہ‘ ،’محاضرات سیرتؐ‘، ’محاضرات شریعت‘ ، ’محاضرات معیشت وتجارت ‘،محاضرات تعلیم‘ اور ’خطباتِ کراچی‘ بھی مُنصۂ شہود پر آئے۔ اہل علم کے نزدیک ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا جو مقام و مرتبہ ہے وہ اپنی جگہ تاہم ایک سادہ لوح مسلمان اورعام اردو دان بھی ان محاضرات کا مطالعہ کرے تو اسلامی علوم کی عظمت اور غازی صاحبؒ کی محبت اس کے دل میں گھر کرجاتی ہے۔

محمود احمد غازیؒ علمی خوشہ چینی میں کسی تنگ نظری کا شکار نہیں تھے اور ’حکمت مومن کی گم گشتہ میراث ہے‘ کے مصداق بدترین دشمنِ اسلام کی بھی علمی بات (اگر ہو تو) کا اعتراف اعلانیہ کرتے ،چنانچہ مدینہ کے یہودی قبیلے بنو قریظہ کے برسر جنگ افراد کے قتل کیے جانے کے حوالے سے، جس کے خلاف مستشرقین بہت گرد اڑاتے آئے ہیں،فرماتے ہیں:

’یہ بحث ابھی پچھلے تیس چالیس سال سے دوبارہ پیدا ہوئی ہے۔ ہندوستان کے ایک مصنف تھے۔ مسلکاً تو گڑبڑ تھے۔ برکات احمد قادیانی، ہندوستان کے سفیر بھی رہے ان کی کتاب Muhammad and the Jews of Madianah بہت اچھی کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے بنو قریظہ پر بہت تفصیلی باب لکھ کر یہ سارے دلائل اور شواہد بیان کیے ہیں۔

(مذکورہ بالا بیان سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ وہ قادیانیوں سے کوئی ہمدردی رکھتے تھے اس لیے کہ اس باب میں ان کا مسلک وہی ہے جو ان کے اکابرین کا ہے)

علامہ اقبالؒ کی کتاب ’جاوید نامہ‘ ایک منفرد شان لیے ہوئے ہے۔ ان کی زندگی ہی میں اس کے کئی تراجم ہوئے، مگر وہ کسی ترجمہ کو قابل پذیرائی نہیں سمجھتے تھے وہ کسی قدر امرائو سنگھ کے ترجمے کو اہمیت دیتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ :’وہ کچھ کچھ میری پرواز کے قریب اُڑا ہے‘ مگر یہ تذکرہ انگریزی تراجم کا ہے۔

2002ء کو جب ’اقبال کا سال‘ قرار دیا گیا۔ تواقبالیات کے حوالے سے کئی ایک عمدہ کتب سامنے آئیں لیکن ان میں گل سر سبد کی حیثیت ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی کتاب ’محکمات عالم قرآنی، جاوید نامہ کی روشنی میں‘ کے حصے میں آئی۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر بہترین کتاب شمار کی جاتی ہے اور اگر آج علامہ اقبالؒ زندہ ہوتے تو وہ بھی یقیناً اسے پسند فرماتے۔ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ جس طرح مرزا غالب کے خطوط نے انہیں اردو نثر نگاری میں ایک ممتاز مقام عطا کیا ہے اسی طرح ’محکمات عالم قرآنی‘ کی اشاعت نے غازیؒ صاحب کو اقبالیات میں نمایاں مقام پر فائزکر دیا ہے۔

فکرِ اقبال کے ضمن میں وہ کسی اندھی عقیدت کا شکار نہیں تھے،کیونکہ اس باب میں ان کا عقیدہ تھا کہ’تقدیس کے ساتھ تحقیق ممکن نہیں۔ یہ ہمیشہ یاد رکھیے گا، تحقیق ممکن ہے امکان تسخیر کے ساتھ‘، چنانچہ کھلی آنکھوں اور کھلے ذہن کے ساتھ فکر اقبال کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ:

’بیسویں صدی میں جن مفکرین اور اصحاب علم و دانش نے عالم قرآنی کی تشکیل نو اور جہانِ قرآنی کی از سرِ نو دریافت کو اپنی تحریروں اور تحقیق کا موضوع بنایا ان میں حکیم الامت علامہ اقبالؒ کا نام سب سے نمایاں ہے‘۔

یہ ایک مضمون کسی طوربھی پروفیسر ڈاکٹر حافظ محموداحمد غازیؒ کی علمی خدمات کے احوال کامتحمل نہیں ہوسکتا کہ بقولِ شاعر :

ورق تمام ہوا اور مدعا باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جناب محمود احمد غازیؒ کے درجات بلند فرمائے اور امت کو آپ کاجانشین عطا کرے، آمین۔

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */