تصور پاکستان،ا کابرین کی نظر میں - محمد ریاض علیمی

پاکستان کے قیام کو سات دہائیاں گزرچکی ہیں لیکن آج تک سیکیولر طبقہ نوجوانوں کے ذہنوں میں قیام پاکستان کے تصور اور مقاصدکے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ پاکستان کس لیے بنایا گیا؟ اس کی ضرورت کیوں پڑی؟ اس کے مقاصد کیا تھے؟ ان موضوعات پر ڈھیروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔

دورِ جدید میں نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان اور اسلام دو الگ الگ چیزیںہیں۔ حالانکہ پاکستان بنانے والے خود اس بات کو بارہا بیان کرچکے ہیں کہ پاکستان اسلامی نظریات پر مبنی ایک مملکت ہوگی۔ان کی تحریریں اور تقریریں روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں ۔ اس کے باجود حقائق سے منہ موڑتے ہوئے پاکستان ایک سیکیولر اسٹیٹ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹنا غایت درجہ کی ہٹ دھرمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد دانشوروں کے پاس پاکستان کو سیکیولر اسٹیٹ قراردینے کی کوئی واضح دلیل موجود نہیں۔ ان کے پاس قائد اعظم کی تقاریر کے صرف چند جملے ہیں جنہیں وہ سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرکے اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں باقاعدہ طور پر ان نظریات کو ہوا دی جارہی ہے۔ کالجزاور یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ذہنوں میں ایک منظم طریقے سے لیکچرز ، سیمینار اور ورکشاپس کے ذریعے یہی افکار پروان چڑھائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

پاکستان کی تاریخ کو تعصب کی پٹی ہٹاکر اور عقل و شعور کی کھڑکیاں کھول کر پڑھاجائے تو انسانی ذہن یہ قبول کرنے پر مجبور ہوجائے گا کہ بے شک پاکستان اسلام کے نام پر بناہے اور جس کا مقصد خطے میں اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کرنا ہے۔ ۱۹۳۰ء میں علامہ اقبال نے الہ آباد کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں طویل خطبہ دیا جس میں پاکستان کا تصور پیش کیا ۔ اس میں آپ نے فرمایا: ’’میں صرف ہندوستان اور اسلام کے فلاح و بہبود کے خیال سے ایک منظم اسلامی ریاست کا مطالبہ کررہاہوں۔ اس سے ہندوستان کے اندر توازن قوت کی بدولت امن و امان قائم ہوجائے گا اور اسلام کو اس امر کا موقع ملے گا کہ وہ ان اثرات سے آزاد ہوکر جو عربی شہنشا ہیت کی وجہ سے اب تک اس پر قائم ہیں۔ اس جمود کو توڑ ڈالے جو اس کی تہذیب و تمدن ، شہریت اور تعلیم پر صدیوں سے طاری ہے۔ اس سے نہ صرف ان کے صحیح معنی کی تجدید ہوسکے گی بلکہ وہ زمانہ حال کی روح سے بھی قریب تر ہوجائیں گے‘‘۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے علامہ اقبال کے اسی تصور کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں کیں۔ تحریک پاکستان کے کارکن سید بدرالدین احمد نے ۲۶ نومبر ۱۹۴۶ء کو نئی دہلی میں قائد اعظم کی قیام گاہ پر قائد اعظم سے پاکستان کے نظریاتی تشخص کے حوالے سے پوچھا۔

اس کے جواب میں قائد اعظم نے فرمایا: ’’میرا ایمان ہے کہ قرآن و سنت کے زندہ و جاوید قانون پر ریاست پاکستان، دنیا کی بہترین مثالی ریاست ہوگی۔ مجھے اقبال سے پورا اتفاق ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل اسلام سے بہتر نہیں ملتا۔ ان شاء اللہ پاکستان کے نظام حکومت کی بنیاد لا الہ الا اللہ ہوگی اور یہ ایک فلاحی و مثالی ریاست ہوگی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان بن گیا تو چند دن بھی زندہ نہیں رہ سکے گا۔ لیکن مجھے پختہ یقین کے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ قائم ودائم رکھے گا۔ مسٹر بدر! میں مطمئن ہوں کہ قرآن و سنت کے زندہ ٔجاوید قانون پر مبنی ریاست (پاکستان) دنیا کی بہترین اور مثالی ریاست ہوگی۔ یہ اسلامی ریاست اسی طرح شوشلزم، کمیونزم ، مارکس ازم، کیپیٹل ازم کا قبرستان بن جائے گا جس طرح کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ اس وقت کے تمام نظام ہائے فرسودہ کا گورستان بنا‘‘۔قائدِ اعظم نے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے لیے مسلمانوں کو دو مورچوں کے بارے میں آگاہ کیا جن سے مقابلہ ناگزیر ہے۔ ۲۱ نومبر۱۹۴۵ء کو پشاور میں سرحد مسلم لیگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہمیں دو مورچوں پر لڑنا ہے ۔ ایک ہندو کانگریس کے خلاف اور دوسرے برطانوی استعمار کے خلاف، یہ دونوں سرمایہ دار ہیں۔مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے ضابطۂ حیات، تمدنی ارتقاء، روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کرسکیں‘‘۔

آپ نے صرف عوام کو بلکہ طلبہ کو بھی خاص طور جذبہ دلایا کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانا ہے۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو لاہور میں پنجاب یونیورسٹی اسٹیڈیم میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اب میں آپ کو اتنا بتادینا چاہتا ہوں کہ ہر شخص تک میرا یہ پیغام پہنچادیں کہ وہ عہد کرے کہ وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے اور اسے دنیا کی ان عظیم ترین قوموں کی صف میں شامل کرنے کے لیے بوقتِ ضرورت اپنا سب کچھ قربان کردینے پر آمادہ ہوگا جن کا نصب العین اندرون ملک میں بھی اور بیرون ملک میں بھی امن ہوتا ہے‘‘۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنائے جانے پر بعض لوگوں کے ذہن میں پاپائی اور کلیسائی ریاست کا تصور آیا جس میں مذہب کے نام پر تشدد کیا جاتا تھا۔ زبردستی عیسائی بنایا جاتا تھا اور انکار کرنے پر موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا تھا۔ اقلیتوں کو تہہ تیغ کیا جاتا تھا۔ ریاست میں کرتا دھرتا بس ایک ہی پاپ ہوا کرتا تھا، اسی کے حکم سے سب کچھ انجام پاتا تھا۔ پاپ جس کے چاہتا پیسے لے کر گناہ معاف کردیتا اور جس کو چاہتا سزا دے دیتا۔ قائد اعظم نے کلیسائی ریاست کی کلیۃ نفی کی اور واضح طور پر دسمبر ۱۹۴۷ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں صاف اور واضح کردوں کہ پاکستان اسلامی نظریات پر مبنی ایک مملکت ہوگی، یہ پاپائی (کلیسائی) ریاست نہیں ہوگی‘‘۔

فروری ۱۹۴۸ء کو امریکہ کی عوام سے نشری خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’مجھے اس بات کو تو علم نہیں کہ دستور کی حتمی شکل کیا ہوگی۔ لیکن مجھے اس امر کا یقین ہے کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہوگا جس میں اسلام کے لازمی اصول شامل ہوں گے۔ آج بھی ان کا اطلاق عملی زندگی میں ویسے ہی ہوسکتا ہے جیسے کہ ۱۳ سو برس قبل ہوسکتا تھا۔ اسلام نے ہر شخص کے ساتھ عدل و انصاف کی تعلیم دی ہے۔ ہم ان شاندار روایات کے وارث ہیں اور پاکستان کے آئندہ دستور کے مرتبین کی حیثیت سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے باخبر ہیں۔ پاکستان ایک ایسی مذہبی مملکت نہیں ہوگی جس پر آسمانی مقصد کے تحت پاپاؤں کی حکومت ہو‘‘۔قائد اعظم نے دستور کا دھانچہ پیش کرتے ہوئے نجا ت کا راستہ بھی بتادیا۔ چنانچہ ۱۴ فروری ۱۹۴۸ء کو سبی دربار بلوچستان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اسوۂ حسنہ پر چلنے میں ہے جو قانون عطاکرنے والے پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے بنایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی جمہوریت کی بنیادیں صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پر رکھیں‘‘۔ جولائی ۱۹۴۸ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر قائد اعظم نے فرمایا: ’’میں اشتیاق اور دلچسپی سے معلوم کرتارہوں گا کہ مجلس تحقیق، بینکاری کے ایسے طریقے کیونکر وضع اور اختیار کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں کیونکہ مغرب کے معاشی نظام نے انسان کے لیے مسائل پیدا کردیے ہیں۔ ہمیں دنیا کے سامنے مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو سچے اسلامی تصوات پر قائم ہو‘‘۔

پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے مارچ ۱۹۴۹ء میں دستور ساز اسمبلی میں قرار دادِ مقاصد پیش کیے جانے کے موقع پر فرمایا: ’’ہم پاکستانی ہوتے ہوئے اس بات پر شرمندہ نہیں ہیں کہ ہماری غالب اکثریت مسلمان ہے اور ہمارا اعتقاد ہے کہ ہم اپنے نصب العین پر قائم رہ کر ہی دنیا کی فوز و فلاح میں حقیقی اضافہ کرسکتے ہیں۔ لہٰذا جناب والا! آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ اس قرارداد کی تمہید میں صاف اور صریح الفاظ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ تمام اختیار و اقتدار کا ذاتِ الٰہی کے تابع ہونا لازمی ہے۔ یہ بالکل درست ہے کہ مغربی تصور مملکت یہ ہے کہ اس کے نظام حکومت میں روحانی اور اخلاقی قدروں کو مطلق دخل نہیں ہونا چاہیے اس لیے شاید اس بات کا خیال بھی رواج کے کسی قدر خلاف ہی سمجھا جاتا ہے کہ مملکت کو خیر کا آلہ ہونا چاہیے نہ کہ شرکا، لیکن ہم پاکستانیوں میں اتنی جرأت ایمانی ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ تمام اقتدار اسلام کے قائم کردہ معیاروں کے مطابق استعمال کیاجائے گا کہ اس کا غلط استعمال نہ ہوسکے۔ اقتدار تمام تر ایک مقدس امانت ہے جو خداوند تعالیٰ کی طرف سے ہمیں اس لیے تفویض ہوا ہے کہ ہم اسے نوع انسانی کی خدمت کے لیے استعمال کریں اور یہ امانت ظلم و تشدد اور خود غرضی کا آلہ نہ بن جائے‘‘۔

دسمبر ۱۹۴۳ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواب بہادر یار جنگ نے فرمایا: ’’حضرات! پاکستان کا حاصل کرلینا اتنا مشکل نہیں تھا، پاکستان کو پاکستان بنانا اور قائم رکھنا مشکل ہے۔ آپ کے قائد نے ایک سے زائد مرتبہ اس کا اعادہ فرمایاہے کہ مسلمان اپنی حکومتوں میں کسی دستور اور قانون کو خود مرتب کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ ان کا دستور مرتب و متعین ا ن کے ہاتھوں میں موجود ہے او ر وہ قرآن پاک ہے۔ کتنی صحیح نظر او ر کتنے صحیح فیصلے ہیں۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ہم پاکستان صرف اس لیے نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کے لیے ایک ایسی جگہ حاصل کرلیں جہاں وہ شیطان کے آلہ کار بن کر ان کی پٹی پر عمل کریں جس پر آج ساری دنیا کاربند ہے۔ ہمارے پاکستان کا یہی مقصد ہے تو کم از کم میں ایسے پاکستان کا حامی نہیں ہوں۔

اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان اس لیے چاہتے ہیں کہ وہاں قرآنی نظام کے مطابق حکومت قائم ہو۔ یہ ایک انقلاب ہوگا، یہ ایک نشاۃ ثانیہ ہوگی، یہ ایک حیاتِ نو ہوگی جس میں خوابیدہ تصورات اسلامی ایک مرتبہ پھر جاگیں گے اور حیاتِ اسلامی ایک مرتبہ پھر کروٹ لے گی۔ پلاننگ کمیٹی آپ کے لیے جو دستوری اور سیاسی نظام مرتب کرے گی، اس کی بنیادیں اگر کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں تو وہ شیطانی سیاست ہے اور ہم ایسی سیاست سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ قائد اعظم نے زور سے اور بڑے جوش سے میز پر مُکا مار کر فرمایا: بالکل درست کہتے ہو‘‘۔

نواب بہادر یا جنگ کی یہ جوشیلی تقریر اور قائد اعظم کا جوشیلا جواب واضح ثبوت ہے کہ پاکستان حاصل کرنے کا مقصد صرف آزادی حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد ایسی فلاحی ریاست قائم کرنا تھا جس میں قرآن و سنت کے مطابق اصول و قوانین بنائے جاسکیں اور مسلمان ان کے مطابق عمل پیرا ہوسکیں۔(یہ مضمون شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے شائع کردہ کتاب ’’تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں‘‘ کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔)