کرونا اور ڈاکٹر جویریہ سعید کے مشورے

جن لوگوں کو گھروں میں سکون سے رہنے کا موقع مل رہا ہے وہ کیوں اس قدر پریشان ہورہے ہیں۔ گھر آپ لوگوں کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں کیا؟ سکون اطمینان سے گھروں میں رہیے۔بچوں اور زوج اور گھر والوں کے ساتھ وقت گذاریے۔ آپس میں باتیں کریں۔کتاب پڑھیں۔ کچھ اچھا پکائیں یا پکانا سیکھیں۔

جن پیاروں سے بات نہیں کر پاتے فون اور واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعے رابطے کیجیے۔مگر ۔۔۔ اچھی اچھی باتیں کیجیے۔ خوامخواہ کے غیر مستند تجزیے اور ہراس نہ پھیلائیے۔گھر کے ان حصوں کی صفائی کرلیں جو بے چارے محروم رہتے ہیں۔ بیگم کا بہت دل چاہتا ہوگا کہ آپ ان کے ساتھ بیٹھ کر کچھ پڑھ لیں، ٹی وی دیکھ لیں تو ان کی مرضی کی کوئی پسندیدہ چیز دیکھ لیں۔ میاں صاحب کا جی چاہتا ہوگا کہ آپ اچھا سا تیار ہوکر رہا کریں تو اب ذرا فراغت ہے اور میاں صاحب قسمت سے میسر بھی ہیں تو وہ لباس پہن کر تیار ہوجائیں جو فیشن پرانا ہونے کی وجہ سے پہنتی نہیں مگر آپ کو پسند بہت ہے۔ دل لگا کر اچھی والی نمازیں پڑھ لیں۔ اذکار کے لیے اب وقت ان شاءاللہ نکل آئے گا۔ مساجد میں نہ جانے سے معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کی شکست نہیں ہوگی۔ سبح للہ ما فی السموات وما فی الارض۔ یہ ساری کائنات اور اس میں موجود ہر شے اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔اور روئے زمین کے سارے لوگ کافر ہو جائیں اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیں تب بھی اللہ کی عظمت و جبروت میں پرکاہ برابر کمی نہیں آنی۔ اس کی تسبیح کرنے کو کوئی نہ ہو تب بھی وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔

قرآن کریم یا احادیث میں کہیں نہیں لکھا کہ مساجد میں یا احاطہ حرم میں کوئی بیمار نہ ہوگا یا موت سے ہم کنار نہ ہوگا۔ یہ بھی کہیں نہیں لکھا کہ صاحب ایمان اور اللہ کے عبادت گذار کو بیماری یا موت نہیں چھوئے گی۔اس لیے وبا پھیلنے یا احتیاطی تدابیر کے طور پر مساجد یا حرم پاک کے وقتی طور پر خالی ہوجانے سے اللہ کریم کی شکست واقع نہیں ہوتی۔جو لوگ اس پر خوش ہوکر بغلیں بجا رہے ہیں وہ بھی دجال کی آنکھ والی سازشی تھیوریوں پر یقین کرنے والوں جیسے ہیں۔ خود کو سائنس کا بندہ کہتے ہیں مگر عقل اور تحقیق سے ان کو علاقہ نہیں۔اور جو اللہ سے محبت کرنے والے ہیں ان کو اس قسم کے گھٹیا حملوں سے گھبرا کر دفاع اسلام اور اللہ کریم کے دفاع کے لیے تیار کامران ہونے کہ ضرورت نہیں۔دل اللہ کا گھر ہے۔ ساری دنیا اللہ کی مسجد ہے۔ مساجد میں جانے سے کچھ روز احتیاط کریں گے تو گھروں کو مسجد بنالیں۔اپنے گھر والوں کیساتھ جماعت کرکے دیکھیں۔بچوں کو امامت کا موقع دیں . خواتین کو جماعت میں شامل کر کے ان کو جماعت کی نماز سکھائیں۔
حیض کے ایام میں نماز قرآن اور روزہ نہ کرنے سے نہ ایمان خراب ہوتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی شان میں کمی آتی ہے۔ اذکار کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
شاید آپ کو علم ہو کہ علامہ اقبال نے جن کے لیے کہا ،
جس کی نگاہ تھی صفت تیغ بے نیام، ان کا انتقال بھی وباء میں ہی ہوا تھا۔

حدیث پاک اور وبا کے زمانے میں خلیفہ راشد کا طرز عمل وہی ہے جسے آج ہم " Quarantine and medical isolation " کہہ رہے ہیں۔
مساجد اور حرم میں جانے سے گریز انہی ہدایات میں شامل ہے جسے " Social distancing " کہا جارہا ہے۔ یہ کوئی الگ شے نہیں کہ مذہب کو خطرہ لاحق ہوگیا ہو۔لائبریریاں بند ہیں، بڑے بڑے امتحانات کینسل ہوگئے ہیں، میٹنگز کینسل ہیں، ورک فرام ہوم ہورہا ہے، اسپتالوں میں دو سائٹس کے بیچ کام کرنے پر پابندی ہے،
تو کیا ریاست اور ہیلتھ کئیر سسٹم فیل ہوگیا ؟ اگر نہیں اور بعد میں سب جاری ہوجائے گا تو مساجد اور حرمین پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اس لیے ٹھنڈے رہیے۔ بلکہ " Chill dude!!! " ڈاکٹروں اور حکومتوں کے احتیاطی تدابیر بتانے سے ہراس نہیں پھیلتا، عوام کے تجزیوں تبصروں سے ضرور پھیلتا ہے۔ سازش کی گردان کرنے اور ہراس و سراسیمگی پھیلانے والی باتوں کو پھیلانے سے پہلے کچھ باتوں پر غور کیجیے، اکثر وبائی امراض سے بچنے کے لیے یہی احتیاطی تدابیر بتائی جاتی ہیں، ٹی بی ، خسرہ، چکن پاکس بلکہ فلو کا علاج بھی یہی ہے۔ چھٹی کیجیے، گھر بیٹھیے، آرام کیجیے، صفائی خصوصا ہینڈ ہائیجین کا اہتمام کیجیے، مقوی غذا کا استعمال کیجیے۔ پبلک مقامات پر جانے سے گریز کیجیے تاکہ آپ سے یہ مرض کسی کو نہ لگے اور آپ کو نہیں ہے تو کسی سے آپ کو نہ لگے۔

اس میں کچھ نیا ہے تو یہ کہ کرونا ایک " Pandamic " ہے، یعنی ایسی وبا جو ملکوں کی سرحدوں سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ اس لیے احتیاطی اقدامات وسیع تر پیمانوں پر اٹھائے جارہے ہیں اور آپ سب کو یہ سازش سازش لگ رہا ہے۔ ورنہ یادش بخیر، کچھ عرصہ قبل " Heat wave " میں بہت لوگ بیمار ہوئے اور اموات بھی ہوئیں۔ احتیاطی تدابیر اس میں بھی بتائی جارہی تھیں۔ پرسکون رہیے، احتیاطی تدابیر پر عمل کیجیے، ہینڈ ہائیجین کا خیال کیجیے، پبلک مقامات پر انتہائی ضرورت کے بغیر جانے سے گریز کریں۔ اگر کچھ علامات محسوس ہوں تو کتابیں، قرآن کریم ، یا ذاتی دلچسپی کہ چیزین لے کر اعتکاف میں چلے جائیں ۔ اپنےساتھ اچھا سا وقت گذاریں۔ مثبت انرجی پھیلائیں اور پرسکون رہیے۔
زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تدبیر و دعا کی انسان کو تاکید کی گئی ہے۔ ڈاکٹر یہی کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے تو ان شاءاللہ یہ وقت بھی گزر جائے گا اور آپ محفوظ رہیں گے۔ اللہ کریم آپ سب کو عافیت میں رکھیں۔ زندگی اور صحت اللہ کی نعمت ہے، اس کی حفاظت کیجیے۔ موت آجائے تو کوئی بات نہیں ، اللہ کریم جنت عطا کریں اور پھر ہم سب وہاں ملیں گے ان شاءاللہ۔ گپ شپ، کھانے شانے، عیش ویش۔۔ ان شاءاللہ۔ مسلمان کو چاہیے کہ مثبت انرجی کو عام کرے۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com