ریاست پاکستان کے اندر ریاست قائداعظم یونیورسٹی " عادل فیاض

ایک زمانے میں جب ہمیں اسلام آباد میں منڈی موڑ کا ہی معلوم تھا تو ہم کچھ دوست پنڈسلطانی میں بیٹھ کر یہ سمجھتے تھے مذہبی طبقہ زیادہ شدت پسند ہے اور لبرل، سیکولر اور سوشلسٹ زیادہ وسیع قلب ہیں. اسی مائنڈ سیٹ کے ساتھ ہم اسلامک یونیورسٹی چلے گئے اور بے شمار سیکولر، لبرل اور سوشلسٹ حضرات سے علیک سلیک کرنے لگے اور بہت سوں سے اچھا تعلق بن گیا. یہی معاملہ سوشل میڈیا پر رہا اور ہے.

اسی سوچ نے مجھے دلیل، وکیل اور مکالمے کی جانب زیادہ کھینچا، یونیورسٹی میں شدید نظریاتی اور سیاسی مخالفین سے ہمیشہ اٹھنے بیٹھنے یا بات چیت سے کبھی مسئلہ نہیں رہا ہاں البتہ چند دوست اس پر کبھی کبھار وقت کا ضیاع اور سیاسی طور پر غلط موو کہہ کر دور رہنے کا ضرور مشورے دیتے. اسلامک یونیورسٹی کی باہر کی دنیا میں اسکا تعارف بنیاد پرست اور مذہب پرست کا ہے. اور کم و بیش یہی تعارف جمعیت کا پایا جاتا ہے. جمعیت نے پچھلے سال دسمبر میں اپنے سالانہ ایکسپو #MeeIIUI میں اسلام اور سیکولر کا مباحثہ رکھا، ایک طرف اسلام پسندوں (شاہ نواز فاروقی، زبیر صفدر) کو بیٹھا دوسری طرف سیکولر دوستوں (فرنود عالم، حاشر ابن ارشاد) کو آٓمنے سامنے بیٹھا دیا. اس عمل سے مخالفین کی صفوں میں دلچسپ اور عجیب و غریب تبصرے سننے کو ملے. خیر ٹھیک دو دن بعد جمعیت کے اسی ایکسپو پر لسانی کونسلز کی جانب پر حملہ ہوا. جس میں سید طفیل الرحمن شہید ہوئے اور دو ساتھی اسامہ امیر اور معراج خٹک گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے. . اس پورے واقعے نے مجھے اپنی رائے سے رجوع کرنے پر مجبور کیا.

خیر اسلام آٓباد میں قائم ایک دوسری یونیورسٹی کا حال اور تاثر بھی سن لیں. قائداعظم یونیورسٹی کا تاثر یہ ہے کہ وہ آٓزاد خیال، ترقی پسند، لبرل اور سوشلسٹ حضرات کا گڑھ ہے. سمجھا جاتا ہے کہ وہاں ہر طرح کی آٓزادیاں ہیں. وہاں ہر سال ہر لسانی کونسل کی طرف سے ڈانس پارٹیاں، رقص و سرور کی محفلیں، ہولی دیوالی میں جھومتے لوگ، شراب اور رنگ دار دھوئیں میں جھولتے لوگ ، critical thinking کے نام پر پروگرام اور سیمنار اسی تاثر کو مزید پختہ کرتے ہیں.
لیکن دوسری طرف حالت یہ ہے کہ جمعیت کا نام سنتے ہی ان سب کا لبرل ازم چولا (قمیض) اتار کر خون خوار بھیڑیا بن جاتا ہے. کبھی کھلے اور دبے الفاظ میں اپنی انتہا پسندانہ سوچ کا اظہار کرتے ہیں کہ جمعیت یہاں کام نہیں کرے گی. جمعیت کے پڑھنے والے افراد کو دھمکانے اور ڈرانے کی کوشش کی جاتی ہے.
گزشتہ دنوں جمعیت کے لوگوں نے باجوڑ کیفے پر میٹنگ کی جس کے بعد ریاست قائداعظم یونیورسٹی کے بے تاج بادشاہوں نے دورہ کیا اور اپنے آفیشل پیج سے حکم صادر فرمایا کہ ہم یہاں سیاسی ایکٹیوٹی کرنے پر جمعیت کی مذمت کرتے ہیں.

نظریاتی لوگ جانتے ہیں کہ کون چاہتا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں سے نوجوانوں کو روکا جائے اور اسلامک یونیورسٹی میں 12 دسمبر والا واقعہ بھی یونین کی بحالی کی بحث کے بعد ہوا جو ایک قابل غور عمل ہے. قائد اعظم یونیورسٹی میں مسلسل یہ کہا جاتا ہے کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کو نہیں چھوڑیں گے. حالانکہ یہ حکم یا مطالبہ آٓئین اور قانون کی رو سے غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے. چند افراد کو یہ کس نے اختیار دیا ہے وہ ہزاروں لوگوں پر ایسی پابندی لگائیں؟ خیر اس بات کو درست مان بھی لیا جائے کہ سیاسی سرگرمیاں نہیں ہونی چاہیے تو حقیقت اسکے برخلاف ہے. اسی قائداعظم یونیورسٹی میں باچا خان اور خان شہید خان پر پروگرامات ہوتے ہیں. اسی یونیورسٹی میں عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار حسین صاحب پروگرامات میں آتے ہیں، اسی یونیورسٹی میں عوامی ورکر پارٹی کے صوبائی صدر عاصم سجاد مستقل سٹڈی سرکل کرتے ہیں لیکن کبھی کسی کونسل نے نہیں کہا سیاسی جماعتوں پر جامعہ قائد میں پابندی ہے. آخر ہم آزادی رائے کا نعرہ لگانے والوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین کو یہ حق دیں گے ؟ critical thinking کے پرچار کرنے والوں سے پوچھتے ہیں کہ آپ یہ حق تنقید کسی دوسرے کو دیں گے ؟

امن و محبت کا دعویٰ کرنے والوں سے پوچھتے ہیں کہ آپ دوسروں پر تشدد اور ظلم کو جائز سمجھتے ہیں ؟ non violence کا پلے کارڈ اٹھنے والوں سے پوچھتے ہیں کہ آپ دوسروں پر violence جائز سمجھتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے لئے امن، پیار محبت، آٓزادی رائے اور ہر طرح کی آٓزادیاں چاہتے ہیں لیکن یہ سارے حق دوسروں کو دینے کو تیار نہیں. آپ کبھی کسی سول سوسائٹی کی طرف سے مارچ یا پریس کلب کے سامنے کسی مظاہرے میں جائیں لسانی کونسل کے لوگ وہاں آٓپ کو ریاست، فوج، ملا اور مذہب پر تنقید کرتے نظر آئیں گے کہ یہ انکو آٓزادی نہیں دے رہے. لیکن یہ نعرے مارنے والے اور انکی پشت پناہی کرنے والے لبرل، سیکولر اور سوشلسٹ کبھی قائداعظم یونیورسٹی میں آٓزادی دینے کی کبھی بات نہیں کریں گے. بلکہ وہاں ظلم و جبر اور تشدد کے ماحول کے خواہاں ہیں.
خیر وہ زمانہ گیا جب یہ محض نعروں کے ذریعے اپنا تاثر بناتے تھے ابھی میڈیا کا دور ہے تمام چہرے لوگوں کے سامنے آٓرہے ہیں کہ کون پرامن ہے اور کون انتہا پسند؟ کون آٓزادی رائے کا حامی ہے اور کون آٓزادیاں سلب کررہا ہے؟ لوگ اب جان گئے ہیں کہ ریاست کے اندر ریاست کس نے بنائی ہوئی ہے. ریاست کو بھی چاہیے وہ بھی اب جاگ جائے اور وزیراعظم ہاؤس کے پیچھے قائداعظم یونیورسٹی کو نو گو ایریا ختم کر کے سب کو ایک جیسا حق اور ایک جیسی آٓزادی دے.

Comments

عادل فیاض

عادل فیاض

عادل فیاض اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے میڈیا سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاست، مذہب، کرکٹ، بحث و مباحثہ سے شغف رکھتے ہیں. مستقبل میں میڈیا کو اسلامائز کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com