پوٹھوہاری دوست- رؤف کلاسرا

لیہ گائوں جانے کے لیے تیاری مکمل تھی۔
گاڑی میں سامان رکھ دیا گیا تھا۔ میرے دوست اور پروڈیوسر رانا اشرف میرے ساتھ جانے کیلئے آگئے تھے کہ اچانک میرے فون پر ایک میسج نمودار ہوا۔ یہ صحافی دوست فاروق اقدس کا میسج تھا اور صرف اتنا لکھا تھا: یاد دہانی۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ آج شام تو فاروق اقدس کی بیٹی کی شادی ہے اور انہوں نے ایک ہفتہ قبل جب کارڈ بھیجا تھا تو ساتھ کہا تھا کہ اس دفعہ کوئی معافی نہیں۔ میں نے جواب دیا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے شادی پر حاضری ہوگی۔ انہوں نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا تھا: پکا؟ میں نے کہا تھا: جی جناب‘ اب تو آپ ویسے بھی ہم سرائیکیوں کے رشتہ دار ہیں۔ فاروق اقدس کی بہو سرائیکی ہیں اور ملتان سے ان کا تعلق ہے۔ میں اور عامر متین دو تین سال سے فاروق اقدس سے شرمندہ شرمندہ تھے۔ فاروق اقدس کے بیٹے کی شادی ہوئی تو ہم دونوں جانا بھول گئے اور پھر اگلے دو تین سال ہم دونوں ان سے معذرت ہی کرتے رہے۔

بڑی مشکل سے وہ مانے۔ ابھی ایک ہفتہ قبل ان کی بیٹی کی شادی کا کارڈ ملا تو میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا: سرکار ایک یاد دہانی کا میسج ضرور بھیجنا۔ اب جمعہ کے روز عین اس وقت ان کا میسج ملا جب میں گائوں روانہ ہونے ہی والا تھا جہاں میرے بھتیجے ڈاکٹر احمد حسین کی منگنی کی تقریب تھی۔ میں نے میسج دیکھ کر فوراً اللہ کا شکر ادا کیا کہ درست وقت پر فاروق اقدس کا میسج ملا ۔ میں ایک لمحے کیلئے کانپ کر رہ گیا کہ اگر یہ میسج مجھے گائوں کے راستے میں ملتا‘ جہاں سے میں واپس نہ لوٹ سکتا تو شاید فاروق اقدس مجھے واپس اسلام آباد نہ آنے دیتا۔
بیوی نے پوچھا :کیا ہوا؟ میں نے کہا: شکر ہے آج کچھ دیا سامنے آگیا ورنہ مارے گئے تھے۔ اسے پوری بات بتائی تو ہنس پڑی کہ چلیں پھر شام کو وہیں شادی سے نکل جائیں گے۔ اتنی دیر میں عامر متین کافون آگیا۔ وہ بھی فاروق اقدس سے ڈرے ہوئے تھے‘ بولے: کیا پروگرام ہے؟ میں نے کہا: سر جی کوئی اور آپشن ہے؟ تو ہنس کر بولے: نہیں۔ تو میں نے کہا : میری بچت ہوگئی ہے‘ لہٰذا شام کو مل رہے ہیں۔
شام ہوئی‘ رانا صاحب کو ساتھ لے کر شادی پر چلا گیا۔ فاروق اقدس ان صحافیوں میں سے ہیں پہلی ملاقات میں ہی جن سے آپ کو پیار ہوجائے۔ پارلیمنٹ پریس گیلری کے وہ برسوں صدر رہے ‘جب واقعی پارلیمنٹ پریس گیلری کی عزت ہوتی تھی۔

شاہین صہبائی، عامر متین، ضیاالدین، نصرت جاوید، محمد مالک ، حامد میر جیسے جغادری صحافی پارلیمنٹ کی ڈائریاں اپنے اپنے انداز میں لکھتے اور کیا کما ل لکھتے۔ نصرت جاوید کو داد دینا پڑے گی‘ جب سب ایک ایک کر کے ہتھیار ڈال گئے اور تتر بتر ہوگئے ‘وہ اب بھی بوڑھے کامریڈ کی طرح اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ نصرت جاوید کو روزانہ پارلیمنٹ کی پریس گیلری کے اپنے پرانے کونے میں کرسی پر گہری سوچتی نظروں سے ایم این ایز کو دیکھتے ہوئے مجھے خوبصورت فلم Enemy at the Gatesکا وہ فوجی نشانہ باز ہیرو ویسلے یاد آتا ہے جو سٹالن گراڈ کے محاذ پر روس کے اندربڑھتی جرمن فوج کے سامنے اکیلا ڈٹ گیا تھا۔ نصرت جاوید بھی اسی طرح اکیلے اس محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جہاں روزانہ ایک اردوکالم لکھنا ہوتا ہے‘ وہیں انگریزی اخبار کیلئے پریس گیلری بھی لکھنا ہوتی ہے۔ مجال ہے کہ ناغہ کریں۔ نصرت جاوید نے ہی فیض صاحب کا وہ جملہ سنایا تھا۔ برسوں پہلے لاہور میں ایک محفل میں نوجوان نصرت سے انہوں نے پوچھ لیا:آپ کیا کرتے ہیں؟ جواب ملا: صحافت۔ فیض صاحب نے کہا: میاں صحافت تو ہمیشہ دارالخلافہ سے ہوتی ہے‘باقی سب شہر تو مضافات ہوتے ہیں۔ نصرت جاوید نے وہ نصیحت پلے باندھ لی‘چار دہائیاں پہلے اسلام آباد پہنچے اور محمد خان جونیجو کی اسمبلی سے سیاسی رپورٹنگ شروع کی۔ ان کے اندر کا رپورٹر اب بھی زندہ ہے۔

فاروق اقدس بھی اپنی طرز کا بندہ ہے۔ حس ِمزاح تو اس پر ختم ہے۔ سنجیدہ بات اس انداز میں کرے گا کہ آپ ہنس رہے ہوں گے۔ سیاسی تجزیے لکھنا ایک اور فن ہے‘ جس میں وہ کمال رکھتے ہیں۔ وہ صحافیوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو ختم ہوتی جارہی ہے۔ وہ مروت‘ وہ رکھ رکھائو جو فاروق اقدس جیسے صحافیوں کا خاصہ ہے اب غائب ہو رہی ہے۔ شاید یہ ہر پرانی نسل کا نوحہ ہے کہ اسے اگلی نسل میں وہ خوبیاں نظر نہیں آتیں جو وہ اپنی نسل میں محسوس کرتے تھے۔ انہیں لگتا ہے کہ نئی نسل کچھ تیز جارہی ہے‘ جبکہ نئی نسل کو حیرانی ہوتی ہے کہ یہ پرانی نسل بھلا اتنے سال کیسے چل گئی۔ یہ تو بیکار لوگ تھے۔
خیر شادی ہال پہنچا تو فاروق اقدس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ مجھے پوٹھوہاری اچھے لگتے ہیں۔ ان کی زبان، کلچر اپنی جگہ ایک کمال ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ایک پوٹھوہاری نوجوان فیصل عرفان نے کمال محنت سے پوٹھوہاری کہاوتوں کو ڈھونڈ کر اور ریسرچ کرکے کیا کمال کتاب تخلیق کی ہے۔

ان کہاوتوں یا اکھان کو پڑھ کر پوٹھوہاری زبان میں چھپی ذہانت، مزاح، جملے بازی کا اندازہ ہوتا ہے۔ کہاوتیں ایسے نہیں بن جاتیں‘ یہ سینکڑوں سالوں کے تجربے کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ اس قدیم زبان کی خوبصورتی سامنے لانے میں فیصل عرفان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس پوٹھوہاری نوجوان نے ایسی ریسرچ دنیا کی کسی یونیورسٹی میں کی ہوتی تو اسے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی جاتی اور یہاں کوئی بیچارہ خود پہلے محنت کرے، ریسرچ کرے، کتاب چھپوائے اور پھر خود دوستوں میں بانٹے۔ میں اور کچھ نہیں‘ فیصل عرفان کو اپنی طرف سے ''ڈاکٹر‘‘ کا اعزاز دینا چاہوں گا۔
خیر ‘ صحافیوں کے بچوں کی شادیوں کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہاں آپ کی پرانے صحافی دوستوں سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ انصار عباسی اور میں نے اکٹھے دس سال رپورٹنگ کی ‘ انصار سے پرانے دنوں کی باتیں ہونے لگیں۔ سلیم صافی سے آپ ملیں تو بہت سی اندورنی بیرونی باتوں کا پتہ چلتا رہتا ہے۔

انہیں دیکھ کر میجر عامر کا خیال آیا‘ سوچا‘ وہ بھی ادھر کہیں موجود ہوں گے۔ میں جن لوگوں کی ذہانت سے متاثر ہوں ان میں میجر عامر کے علاوہ وسیم حقی‘ ڈاکٹر ظفر الطاف، ارشد شریف، بابر اعوان، ڈاکٹر شیر افگن بھی شامل ہیں۔ بندہ زندگی میں بہت سے لوگوں سے ملتا اور سیکھتا رہتا ہے۔ میجر عامر پر جب بینظیر بھٹو کے خلاف خفیہ آپریشن لانچ کرنے پر مقدمہ ہوا تو ان کے وکیل بابر اعوان تھے۔ انہوں نے وہ دلائل دیے کہ جب عدالت سے باہر نکلے تو میجر عامر نے کہا: بابر صاحب آپ نے وہ دلائل دیے ہیں کہ میرا دل چاہ رہا ہے‘ دوبارہ بغاوت کی جائے۔
پوٹھوہاری دوستوں سے گپیں مارتے راجہ ناصر یاد آیا۔ راجہ ناصر بھی جہاں اعلیٰ قسم کا صحافی ہے وہیں اس سے بہتر پوٹھوہاری حسِ مذاق شاید ہی کسی میں ہو۔ راجہ ناصر کے مزاحیہ ٹی وی پروگرام دیکھ دیکھ کر میں نے پوٹھوہاری زبان سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ راجہ ناصر کی جگت اپنی جگہ ایک چس ہے۔ان کا نام ذہن میں آتے ہی مجھے جھٹکا لگا‘ اور میں سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔ ایک دوست نے پوچھا :کیا ہوا؟ میں نے کہا :مارے گئے۔

وہ پریشانی سے بولا: خیریت ؟ میں نے کہا: میرا کمال دیکھیں تین سال سے فاروق اقدس ناراض تھا کہ میں پچھلی دفعہ شادی کا دن بھول گیا تھا‘ آج یہاں فاروق اقدس کو راضی کیا تو اب راجہ ناصر ناراض ہوگا۔ راجہ ناصر نے ایک پروگرام پنڈی میں رکھا ہوا تھا‘ جس میں مجھے بھی بلایا تھا۔ پھر وہی ہوا تھا جو ہر بدحواس صحافی کرتا ہے کہ بھول گیا کہ دوپہر کو وہاں بھی جانا تھا۔
پوٹھوہاریوں سے خصوصی پیار ہے کہ پوٹھوہار کی دھرتی نے ہمیں یہاں پناہ دی، روزگار دیا، بچے یہیں پیدا ہوئے۔ اب رات گئے گائوں کی طرف جاتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ ایک دوست کو تین سال بعد راضی کیا تو ایک اور کو اسی دن ناراض کر بیٹھا۔ اب گائوں کے راستے میں رات گئے سوچ رہا ہوں کہ اپنے پوٹھوہاری دوست راجہ ناصر کو کیا بہانہ لگائوں کہ وہ الٹا آبدیدہ ہو کر گلے سے لگا لے۔ کچھ آپ سوچیں‘ کچھ میں سوچتا ہوں ‘کیونکہ پوٹھوہاری ڈاھڈے لوگ ہیں جو اس سکندر یونانی کو راجہ پورس کی قیادت میں ٹکڑ گئے تھے‘ جس کی فوج کو دیکھ کر ایرانی بھاگ گئے تھے اور اپنے سردار دارا کا سر خود کاٹ کر سکندر کو پیش کر کے جان بخشی کرائی تھی۔ وہ پوٹھوہاری جن کی بہادری نے سکندر جیسے جنگجو تک کو متاثرکیا تھا۔