بڑی سلطنتوں کاقیام اورغیر ملکی قرض-پروفیسر جمیل چودھری

دوسری جنگ عظیم کے بعد کرۂ ارض پرقائم بڑی سلطنتوں نے اپنے قیام کے لئے نئے طریقے اپنانے شروع کردیئے تھے۔اپنے ان طریقوں کی وجہ سے یہ سلطنتیں کامیاب نظر آتی ہیں۔ان نئے طریقوں میںقرض کے ذریعے مختلف ممالک کو اپنے ماتحت رکھاجاتا ہے۔اس کے علاوہ کئی طریقے استعمال ہورہے ہیں۔

ہم موجودہ منظرنامے کی وضاحت سے پہلے بڑی سلطنتوں کے قیام کے قدیم طریقہ کاذکر کرتے ہیں۔اسے مختصر ہی رکھاجائے گا۔یونان اورروم سے بھی پہلے ایک بڑی سلطنت کارتھیج کاذکر تاریخوں میںملتاہے۔اس بڑی سلطنت کامرکز افریقہ کاموجودہ ملک تیونس تھا۔اس کے پاس بری اوربحری بڑی بڑی افواج تھیں۔بحیرہ روم کے اردگرد کے تمام علاقے اس سلطنت کے ماتحت تھے۔ہنی بال نامی معروف فاتح اسی کارتھیج سے تعلق رکھتے تھے۔یونانیوں نے بھی اپنی سلطنت کوپھیلانے کے لئے بڑی کوشش کی تھی۔اس سلسلے میں مقدونیہ کے سکندر اعظم بہت معروف ہوئے۔لیکن یہ بڑی سلطنت جلد ہی منتشر ہوگئی اور پھرکرۂ ارض کے سٹیج پرروم جلوہ گر ہوتا ہے۔روم میں بادشاہت حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے پہلے ہی قائم ہوگئی تھی۔

اس کے حکمرانوں نے بھی اپنی سلطنت کوپھیلانے کے لئے بڑی بڑی افواج بھرتی کیں۔جنگیں ہوئیں۔لاکھوں سپاہی تب دونوں اطراف سے مارے جاتے تھے۔بری اور بحری افواج کے ذریعے رومیوں نے اپنی سلطنت عام کو یورپ،ایشیاء اورافریقہ کے براعظم تک پھیلایا۔روم سے پہلے اور روم کے زمانے میں سلطنتوں کے قیام میں جنگیں ہی فیصلہ کرتی تھیں۔اس کے ساتھ ہی ایران کے کسریٰ بادشاہوں نے بھی موجودہ ایران کے باہر بڑی علاقے تک اپنی سلطنت قائم کی۔قرآن مجید کی سورۃ روم میں رومی اور ایرانی جنگوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔اسلام سے پہلے عرب سے بہت دور چین کے علاقے میں بھی بڑی بڑی سلطنتیں قائم ہوئیں اورختم ہوتی رہیں۔لیکن چینی اپنی سرحدوں سے باہرنکلنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے۔

رومی سلطنت اس وقت ختم ہوگئی جب سلطان محمد فاتح نے1453ء میں قسطنطنیہ(موجودہ استبنول)پرقبضہ کرلیا۔اسلامی سلطنت عام کاعروج ایران اورروم کے ساتھ ہی شروع ہوگیاتھا۔بڑی بڑی جنگیں کسریٰ اوررومی افواج کے ساتھ ہی ہوئیں۔مسلمانوں کی بڑی سلطنت کے قیام میں بھی افواج اورتلوار نے اہم رول اداکیاتھا۔مسلم افواج اپنی قوت سے مخالفین کوشکست دیتی تھیں اورپھروہاں اسلام کی تبلیغ کے لئے مشن جاتے تھے۔آخر میں عثمانی افواج کی شان وشوکت کوتاریخ دانوں نے تفصیل سے بیان کیاہے۔پہلی اور دوسری جنگ عظیم تک کرۂ ارض پرنقشوں کی تبدیلی میں جنگیں ہی اہم رول اداکرتی رہی ہیں۔لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد جنگوں کارول کم ہوتا چلاگیا۔اوردیگر ہتھیاروں سے سلطنتوں کے قیام میں زیادہ مددلی جانے لگی ہے۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد2۔بڑی سلطنتیں سوویٹ یونین اورریاست ہائے متحدہ امریکہ قائم ہوئیں۔جنگ عظیم دوم میں انسانوں کی سب سے بڑی تباہی ہوئی۔دونوں اطراف سے5کروڑ64لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔اس تباہی سے انسانیت کاضمیر کافی جاگ اٹھا۔سوویٹ روس کی بنیاد کمیونسٹ نظریات پرتھی۔یہ نظریات دنیابھر میںبڑی پیمانے پرپھیلائے گئے۔اس کے حق میں زور شور سے پروپیگنڈا کیاگیا۔سرمایہ دارانہ نظام کی خامیوں کوبھی تحریر اورتقریر سے عوام کے ذہنوں تک پہنچایاگیا۔کارل مارکس اورلینن کے خیالات اس سوویٹ ریاست کی بنیاد تھے۔لیکن پہلی کمیونسٹ ریاست جوسوویٹ رو س میں قائم ہوئی اس میں عوام لاکھوں کی تعداد میں مارے گئے۔تب جاکر1917ء میں روسی کمیونسٹ ریاست قائم ہوئی۔

اور1949ء میں چین میں کمیونسٹ انقلاب آیا۔دوسری سپرپاور جنگ عظیم دوم کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ تھی۔یہ سلطنت برطانیہ کے کھنڈرات پرقائم ہوئی تھی۔اپنے قیام کی ابتداء سے ہی مالی لہاظ سے بہت مستحکم تھی۔اس نے دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد2۔عظیم مالیاتی ادارے قائم کرلئے تھے۔اب دنیاIMFاورعالمی بنک سے اچھی طرح واقف ہے۔کچھ ہی عرصہ بعد ایشیائی ترقیاتی بنک بھی قائم کرلیا۔بڑے مالیاتی اداروں کے ماتحت کئی دیگر مالیاتی ادارے بھی ہیں۔US AID,IFCاور دیگر کئی ادارے بڑے مالیاتی اداروں کے ماتحت ہیں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد اگر چہ امریکی افواج چھوٹی موٹی جنگی کاروائیوں میں بھی ملوث نظر آتی ہیں۔لیکن دنیاکو اپنے ماتحت رکھنے کے لئے اس کا سب سے بڑا اورماثر ہتھیار اب قرضوں کی فراہمی ہے۔یہ قرض ایسے طریقے سے دیئے جاتے ہیں کہ متعلقہ ملک قرضوں کے جال میں پھنس جاتا ہے۔اور پھر چاہے جتنی مرضی کوشش کرلے وہ اس فولادی جال سے نکل نہیں سکتا۔

قرضوں کی ترغیب دینے کے لئے اس نے مختلف کمپنیاں اورادارے خصوصی طورپر بنائے ہوئے ہیں۔یہ ادارے شروع سے ہی ایسے لوگوں کوبھرتی کرتے ہیں۔جوکسی غریب اور پسماندہ ملک میں جاکرقرضوں کے فوائد بتائے۔وہاں کی حکومتوں کوبڑے بڑے قرضوں کے لئے تیارکرے۔ان طریقوں کی پوری تفصیل امریکہ کے اپنے ہی ایک معیشت دان John Perkinsنے اپنی کتاب میں واضح ثبوتوں کے ساتھ بیان کردی ہے۔اب دیگر بے شمار آزاد معیشت دان بھی ان قرضوں کی تبارہ کاریوں کوبیان کررہے ہیں۔جان پرکنز نے اپنی کتاب کا پہلا ایڈیشن2006ء میں بہت ڈرتے ڈرتے شائع کرایاتھا۔یہ کتاب73۔ہفتے تک نیویارک ٹائمز کی Best Seller Listپررہی اور ایک دنیا اسے پڑھ کرحیران وپریشان ہوتی رہی۔اس کتاب میں ان لوگوں کے لئے جوغریب اورپسماندہ ممالک میں جاکراربوں اورکھربوں ڈالرز کے قرضوں کے فوائد بتاتے ہیں ان کے لئے Economic Hit Men )معاشی دہشت گرد)کی اصلاح استعمال کی گئی ہے۔

اب 10سال کے بعد اس کتاب کادوسرا ایڈیشن شائع ہوا ہے۔جان پرکنز نے اپنے مزید تجربات اورمشاہدات اس دوسرے ایڈیشن میںShareکئے ہیں۔امریکہ سے قرضوں کی ترغیب دینے کے لئے جوتکنیکی لوگ جاتے ہیں وہ سراسر جھوٹ بولتے ہیں۔بے شمار ملکوں کی حکومتوں کودھوکہ دہی پرمشتمل رپورٹیں مرتب کرکے دکھاتے ہیں۔یہ رپورٹیں پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق تیارکی جاتی ہیں۔غریب اور پسماندہ ملکوں کے حکمران ان تکنیکی لوگوں کی تیارکردہ رپورٹس کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔قرض لینے کی شرائط بڑی سخت ہوتی ہیں۔جہاں رقم خرچ کرنی ہوتی ہے۔وہ شعبہ بھی IMFاورعالمی بنک اور دیگر مالیاتی ادارے خود ہی طے کرتے ہیں۔ان قرضوں پر سودبھی طے شدہ شرح سے ہوتا ہے۔متعلقہ حکومتیں ان قرضوں کی واپسی نہیں کرسکتیں۔لہذا ان سابقہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے متعلقہ حکومتیں دوبارہ انہیں مالیاتی اداروں کے دروازے پردستک دینے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ان ملکوں میںنہ غربت ختم ہوتی ہے۔اورنہ ہی بے روزگاری کے حالات میں بہتری آتی ہے۔

تعلیم میں بھی یہ قومیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔یوں امریکہ کی سلطنت عام براعظم جنوبی امریکہ،براعظم افریقہ اورایشیاء تک پھیل جاتی ہے۔اگر ایشیاء اورجنوبی امریکہ میں آپ کو کوئی قوم خوشحال نظر آتی ہے تو اس کی وجہ ضرور یہ ہوگی کہ وہاں کے لوگوں نے اپنے ملک کے اندرونی اورمقامی وسائل کوخودہی اچھے انداز سے استعمال کیاہوگا۔آپ چین اور جاپان کی مثال دے سکتے ہیں۔جنوبی امریکہ میں وینزویلا نے اپنا تیل خود ہی نکالا اور اسے ترقی کے لئے استعمال کیا۔ان چند مثالوں کے علاوہ تینوں براعظموں کے درجنوں ممالک ابھی تک غربت اوربے روزگاری کے شکنجے سے نہیں نکل سکے۔ان تمام ممالک پر اربوں ڈالر کے قرض چڑھے ہوئے ہیں۔یہ تمام ممالک امریکی مالیاتی اداروں کے شکنجے میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔اب ہم مسلم دنیا کے 2۔ملکوں کی مثال لیتے ہیں۔ان میں سے ایک مشرق وسطیٰ کے عین مغرب میں واقع مصر ہے اور عین مشرق میں واقع پاکستان ہے۔دونوں ملکوں کی مثال دیتے وقت ہم قرضوں کے بہت زیادہ اعدادوشمارپیش نہیں کریں گے۔

صرف ضروری اعدادوشمار سے ہی مدد لی جائیگی۔یہ اعدادوشمار قرض دینے والے عالمی مالیاتی اداروں کے ہی بتائے ہوئے ہیں۔دسمبر2018ء میں مصر پربیرونی قرض96.6ارب ڈالر تھاجو اگست2019ء میں بڑھ کر106۔ارب ڈالر ہوگیا ہے۔مصرکی کل آبادی10۔کروڑ افراد پرمشتمل ہے۔اپریل2019ء کی عالمی مالیاتی رپورٹ بتاتی ہے کہ مصر کی60%آبادی انتہائی غربت کی زندگی بسر کررہی ہے۔مصرکاسالانہ بجٹ کا38فیصد صرف سود کی ادائیگیوں پرخرچ ہورہا ہے۔مصرکی حکومت بھی اپنے سابقہ قرض کی ادائیگیوں کے لئے باربارIMFکے دروازے پردستک دیتی رہتی ہے۔مصرکے مرکزی بنک کے پاس جومحفوظ زر ہیں وہ تمام قرض پر مبنی ہیں۔یہ اس ملک کے حالات ہیں جو نیل کی وجہ سے انتہائی زرخیز ہے۔ٹورزم سے بھی کافی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔نہر سویز بھی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔لیکن امریکہ نے قرضوں کے ذریعے اس خوبصورت اورزرخیز ملک پر قبضہ کیاہواہے۔آیئے آخر میں ہم اپنے پیارے ملک کے چند ایک اعدادوشمار کاذکر کرتے ہیں۔جب نوازلیگ کادور ختم ہوا۔

تب ملک پرغیر ملکی قرض95.4۔ارب ڈالر تھا۔سابقہ حکومتوں نے قرض لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔اب عالمی ادارے کی رپورٹ خودہی بتارہی ہے کہ جب عمران خان کی حکومت کے5سال پورے ہونگے تومالیاتی سال2022-23ء آچکا ہوگا۔اس وقت تک غیر ملکی قرض بڑھ کر130۔ارب ڈالر ہوچکاہوگا۔اس کامطلب ہے کہ پانچ سال میں اضافہ34.6۔ارب ڈالر کاہوگا۔یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ پاکستان22مرتبہ IMFکے دروازے پردستک دے چکا ہے۔اس پوری صورت حال میں جوبات پاکستانیوں کے لئے خصوصی جاننے کی ہے۔وہ یہ ہے کہ ان5سالوں میں حکومت پاکستان48۔ارب ڈالر عالمی مالیاتی اداروں کواداکرچکی ہوگی۔سودکی ادائیگیوں سے بے شمار اضافے کے بعد قرض پھیل کر5سال بعد130۔ارب ڈالر ہوچکاہوگا۔موجودہ مالی سال کے آخر میں کل غیر ملکی قرض112.5۔ارب ڈالر ہوچکاہوگا۔اس وقت ہرپاکستانی پر127000/-روپے قرض ہوچکا ہے۔پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری،غربت اورمہنگائی کی تفصیل بتانا ضروری نہیں ہے۔

ہرشخص اسے بھگت رہا ہے۔دوستو۔میں نے صرف2۔مسلم ممالک کی مثال دی ہے۔دنیا کے درجنوں ممالک کی ایسی ہی صورت حال ہے۔قرض ایک ہتھیار ہے۔جس کو امریکابے شمار ممالک کو اپنے ماتحت رکھنے کے لئے کئی دہائیوں سے استعمال کررہا ہے۔یہ جنگ کی بجائے دوسرا ہتھیار ہے جوامریکہ استعمال کررہا ہے۔مقروض ملک امریکی پالیسیوں کے آگے لیٹنے پرمجبور ہوجاتے ہیں۔پاکستان کی مجبوری اس بیان سے ظاہرہوتی ہے جو ایک پڑوسی ملک کے جرنیل کوقتل کرنے کے بعد دیاگیا۔دونوں کوتحمل کرنے کاکہاگیا۔ایٹمی پاکستان اپنی ایٹمی حیثیت کوبھی بھول گیا۔پاکستانی حکمرانوں کوسچ بولنے سے اربوں ڈالر کے قرض منع کرتے ہیں۔مصرتو غزہ کے مسلمانوں کے حق میں ایک فقرہ بھی نہیں کہ سکتا۔اب مصر،اسرائیلی اقدامات کی حمایت پرمجبور ہے۔

پورے مشرق وسطیٰ کوامریکہ نے اپنے ماتحت کیاہوا ہے۔اور ان ملکوں میں امریکی افواج دندناتی پھررہی ہیں۔پاکستان تو اب دوسری ابھرتی ہوئی سپرپاورچین کابھی مقروض ہوگیا ہے۔سی پیک کے شروع ہونے سے پاکستان پر20۔ارب ڈالر چین کا قرض چڑھ چکا ہے۔اسی لئے پاکستانی سی پیک کو ایسٹ انڈیا کمپنی سے تشبیہ دے رہے ہیں۔نتیجہ یہی نکلتاہے کہ اصل ترقی وہ ہوتی ہے جو صرف اپنے وسائل اور اپنی محنت سے کی جائے۔آپ نے دیکھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سپرپاور امریکہ دنیا بھر میں اپنے اثرورسوخ کوبڑھانے کے لئے ڈالروں کی صورت میں قرض فراہم کرتا ہے۔پسماندہ اور غریب ممالک اس کے شکنجے میں آجاتے ہیں۔

یوں امریکہ بطورسلطنت عام کے کرۂ ارض پرچھایا ہوا نظر آتا ہے۔جنگ عظیم دوم کے بعد یہ حکمت عملی سوچ سمجھ کر اپنائی گئی تھی۔جنگ عظیم دوم کے نقصانات امریکہ کے اپنے پرانی نسلوں کے مرکز یورپ میں بھی بہت ہوئے تھے۔یورپ کی بحالی کے لئے امریکہ نے ایک بڑا مالیاتی پیکج "مارشل پلان" کی شکل میں بنایاتھا۔پھریورپ نے بھی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد "یورپی یونین" کی طرف توجہ مبذول کرلی تھی۔بحالی کے بعد یورپی ممالک بھی پسماندہ ممالک کو قرض فراہم کررہے ہیں۔

یورپی یونین بھی ایک سلطنت "عام "ہی کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ریاست ہائے امریکہ اوریورپی یونین دونوں قرضوں کے ذریعے دنیاکو ماتحت رکھے ہوئے ہیں۔جنگوں کی بجائے اب "قرض" کاہتھیار ماثر انداز سے استعمال ہورہا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */