عمران خان، کب تک - آصف محمود

مزاج، افتاد طبع اور اہلیت کے باب میں عمران خان اب کسی خوش گمانی یا حسن ظن کا نام نہیں ، اقتدار کے ڈیڑھ سال میں یہ جان ادا اس قوم پر یوں کھلا ہے پورے چاند کی رات میں جیسے کوئی برف زار آشکار ہو جائے ۔ سوال اب یہ ہے کیا اس مزاج ، اس افتاد طبع اور اس اہلیت کے ساتھ امور ریاست چلائے جا سکتے ہیں ؟ جس بندوبست میں لوگ اپنے وجود میں بکھر رہے ہوں اس پر آخر کب تک اور کتنا اصرار کیا جا سکتا ہے؟

عمران خان کے اقتدار کے ڈیڑھ سال ہمارے سامنے ہیں ۔ نتائج کا سوال ہے نہ کسی معجزے کی امید لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا ملک اس طرح چلائے جاتے ہیں؟ میر کاررواں میں خوئے دلنوازی تو اب کوئی بھولی بسری داستان ہی سمجھیے یہاں تو لہجے کے آتش فشاں ہی تھمنے میں نہیں آ رہے۔ ایسے تو گھر نہیں چلتے ، ملک کیسے چل سکتے ہیں۔

ان ڈیڑھ برسوں کی مسافت میں کوئی ایک مقام ایسا بتا دیجیے جہاں دل کو ڈھارس ہوئی ہو کہ نظام حکومت معقولیت سے چلایا جا رہا ہے ۔ متانت ، تحمل ، برداشت ، معاملہ فہمی ، سنجیدگی تو جنس نایاب ہوئے ، معاملات اب ایسے جنگجوئوں کے ہاتھ میں ہیں جو پڑائو میں بھی داد شجاعت دیتے رہتے ہیں۔

ان ڈیڑھ برسوں میں کتنے ہی چیلنجز آئے ، دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کسی ایک مقام پر بھی یہ گمان ہوا ہو کہ وزیر اعظم کی افتاد طبع اس قوم کی قیادت پر مائل ہے ۔ داخلی سیاست کا کوئی ایک لمحہ جب وہ تحریک انصاف کے وزیر اعظم کی بجائے ریاست کے وزیر اعظم بن کر سامنے آئے ہوں؟ کوئی ایک ساعت جب وہ گروہ بندی کے آزار سے بلند ہو پائے ہوں ؟ کوئی ایک واقعہ جب انہوں نے عصبیت سے بلند ہو کر معاملہ کیا ہو ؟ کوئی ایک پڑائو جہاں انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کے تقاضے کے تحت اپنی افتاد طبع کو تھام لیا ہو ؟ کوئی ایک مبارک مثال جب ان کے مزاج کی برہمی اور اشتعال پر تدبر اور بالغ نظری غالب آئی ہو ؟ وہ آج تک اولِ عشق کی ساعتوں سے باہر نہیں آ سکے ۔ وہ خود تو ایوان وزیر اعظم میں براجمان ہیں ان کی روح مگرآج بھی ڈی چوک میں کھڑی حریفوں کو دعوت مبارزت دے رہی ہے ۔ کیا ملک اس طرح چلائے جاتے ہیں؟

کبھی وزیر اعظم نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی افتاد طبع سے بلند ہونے کی کوشش کی ؟ کشمیر سے بڑا معاملہ کیا ہو سکتا ہے ، ہمارے سامنے ہے کہ جناب وزیر اعظم نے اس وقت بھی حزب اختلاف سے مشاورت گوارا نہ کی ۔ حزب اختلاف سے بات کیے بغیر قرارداد پیش کی گئی اور احتجاج پر واپس لینی پڑی ۔ حزب اختلاف کا وجود گوارا نہیں ، اس سے بات چیت گوارا نہیں ، ان سے راہ چلتے سلام دعا پر طبیعت مائل نہیں ، آئینی ذمہ داریوں کے تحت قائد حزب اختلاف سے ایک رسمی سی مشاورت بھی مزاج یار پر گراں گزرتی ہے ۔دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے اس افتاد طبع کا پارلیمانی جمہوری نظام میں کیا اعتبار؟

میثاق معیشت کی ایک معقول قائد حزب اختلاف کی جانب سے سامنے آئی ۔ کسی نے اس پر بات کرنا بھی گوارا نہ کیا ۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ سامنے آیا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قانون سازی کے مرحلے تک ، کیا کسی ایک لمحے میں جناب وزیر اعظم کا کوئی کردار رہا ہو تو بتائیے ۔ اس سارے عمل میں جناب وزیر اعظم نے ایک تنکا بھی توڑا ہو تو انہیں رستم قرار دے دیجیے لیکن اگر وہ سارے عمل سے غیر متعلق ہو کر بیٹھے رہے ہوں تو پھر سوچیے کیا اس رویے کے ساتھ ملک چل سکتے ہیں؟ ان کے حصے کے سارے کام اگر کسی اور نے کرنے ہیں تو عزت مآب جناب وزیر اعظم کی افادیت کتنی اور کب تک؟

قوم کی اجتماعی زندگی میں بہت سے نازک مراحل آتے ہیں ۔ سیاست نام ہی بند گلی سے راستے نکالنے کا ہے ۔ لیکن ہمارے وزیر اعظم اپنی افتاد طبع کے اسیر ہیں۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ان کی بول چال ہی بند ہے۔ وہ معاملات کو اس انتہاء پر لے آئے ہیں کہ یہ ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے نہ روادار ہیں نہ اس کا کوئی امکان باقی ہے ۔ محمود اچکزئی اور فضل الرحمن سے ان کے اختلافات غیر معمولی حد تک ذاتی ہو چکے ہیں۔ایک وزیر اعظم جو سماجی تعلقات کے باب میں اس حد تک بند گلی میں داخل ہو چکا ہو کیا، اس سے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ غیر معمولی تنوع کی حامل ریاست کے تمام کردار اور اکائیوں کو ساتھ لے کر چل سکے۔

پارلیمان میں وہ آتے نہیں ، سیاسی جماعتوں سے ان کی بول چال بند ہے ، کسی اور کو وہ برداشت کرنے کو تیار نہیں ، ڈھنگ کی وہ ایک پالیسی نہیں دے سکے ۔ ہر ایک سے وہ خفا ، ہر ایک سے وہ بے زار ۔ ذات کے گنبد میں قید، نرگسیت برس رہی ہے۔ سوال یہ ہے کو ئی کب تک ان کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟ کب تک ان کا ہوم ورک کر کے انہیں پیش کیا جاتا رہے گا کہ صاحب یہ لیجیے آپ کے حصے کا کام ہو گیا۔ ایک دن تو یہ سوال اٹھے گا یہ عزت مآب وزیر اعظم اثاثہ ثابت ہوئے ہیں یا ایک بوجھ۔کہیں کوئی کارکردگی ہے نہ احساس ذمہ داری ، مروت ہے نہ تحمل۔تضحیک ، تذلیل اور توہین سے کیا حکومتیں چلا کرتی ہیں؟

اس افتاد طبع اور اس اہلیت کے ساتھ آپ دو گام چلیں یا صدیوں کی مسافت کی دھول میں اٹ جائیں ، آپ کا قافلہ کسی نخلستان میں نہیں اتر سکتا، افتاد طبع کی ان راہوں میں کسی چشمے کا پھوٹ پڑنا ممکن ہی نہیں ، اس سفر میں آب حیات نہیں، تشنگی کے سونامی ہیں کہ حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے ۔ میر نے کہا تھا : دو گام کے چلنے میں پامال ہوا عالم ۔ یہاں ابھی ڈیڑھ سال گزرا ہے اور نوید دی جا رہی ہے کہ سکون اب قبر میں ہی ہو گا۔

سوال وہی ہے کیا اس مزاج ، اس افتاد طبع اور اس اہلیت کے ساتھ امور ریاست چلائے جا سکتے ہیں ؟اور کیا اس پر مزید اصرار سے کوئی خیر برآمد ہو سکتا ہے؟