روشنیوں کا شہر کراچی- خالد ایم خان

جی ہاں روشنیوں کا شہر کراچی بھی کسی دور میں دنیا کے خوبصورت شہروں میں شمار کیا جاتا تھا ، ملک خداداد پاکستان کے پہلے دار لخلافہ کراچی کو اگر ہم گیٹ وے آف پاکستان کا بزنس حب کہیں تو یقینا میں حق بجانب ہوں گا کچھ سال پہلے کراچی کی بوہری کمیونٹی کے کچھ بزرگان سے ملنے کا اتفاق ہوا جن کی کراچی کی خوبصورتی کی کہانیاں سُن کر ہم بھی سوچ میں پڑ گئے۔

بوہری کاکا کی زبانی کراچی کی کہانی سُن کر یہ ضرور پتہ چل گیا ہمیں کہ کبھی کراچی کی سڑکیں بھی ہفتہ میں دو بار دھلا کرتی تھیں اور اب ؟ بوہری کاکا نے بتایا کہ ایک مرتبہ جنرل ایوب خان نے کراچی کی سڑکوں پر لوکل آئل والی اسٹریٹ لائٹ لگوا دیں ، جنرل ایوب خان کی جانب سے اپنی عوام کے لئے یہ ایک اچھا عمل تھا لیکن اُس آئل سے جا بجا پورے شہر میں بدبو دار دھواں سا ہو نے لگ گیا جس کی وجہ سے ہم کراچی والے تنگ ہو گئے اور ہم لوگوں نے ان لائٹوں کی صدر مملکت جنرل ایوب خان سے شکایت کر دی جس کے چند دن کے بعد جنرل ایوب خان نے سیلون(سری لنکا) سے کوکونٹ آئل منگوا کر کراچی کی تمام سڑ کوں سے اُس گندے آئل کو نکلوا کر پورے شہر میںکھوپرے کے خُشبو دار آئل سے رپلیس کر وایا ۔کراچی کے بارے میں ایسا بھی ہمیں سننے کو ملا ہے کہ پان تھوکنے اور کچرہ پھینکتے پکڑے جانے والے لوگوں کو آج کے دبئی کی شہری بلدیہ کی طرح جرمانے کئے جاتے تھے ۔

لیکن افسو س وقت کے گزرتے دھارے میں ہم لوگ کہیں کھو سے گئے ہم انسانیت کو چھوڑ کر حیوانیت کے پجاری بنتے چلے گئے ہم نے اپنے ہاتھوں خود کو تو برباد کر دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں نے اپنے گھر کو بھی اجاڑدیاہم نے کراچی کو بھتہ کلچر دیا ہم نے مار دھاڑ، جلاؤ گھیراؤاور لوٹ مار کلچر کو فروغ دیا وہ ہم ہی ہیں جنہوں نے جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا اس شہر کی بربادی کی خاطر تو کہیں ،،جیئے مہاجر ،اور آج وہ وقت آگیا ہے کہ ایک طرف نعرہ لگتاہے،، زندہ ہے بھٹوزندہ ہے ،، تو دوسری طرف،، جئے الطاف ،، کہیں تبدیلی آگئی ہے تو کہیں آج بھی کراچی کے پرانے بڈھے شیر ،، شیروں کی دھاڑ مارتے دکھائی دیتے ہیںلیکن سب بے کار کیوں کہ ان شیروں کے تمام دانت گرچکے ہیں یا گرائے جا چُکے ہیں ۔

کسی کام کے نہیں ہے یہ سب ، کراچی کا دردکسی دل میں نہیں ہے، اگر ہوتا تو آج کراچی کا یہ حال نہیں ہوتا ،کراچی پر قبضے کی ان کوششوں نے کراچی اور کراچی والوں کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے ، کراچی پر ایک طرف(امن کمیٹی ) گینگ وار کا قبضہ تھا اور دوسری جانب بھائی والوں کا ، اوران سب کے بیچ گولیوں کی گھن گرج اور خوف کے سائے میںبستے کراچی کے باسی خُشک کنکریٹ کے اس جنگل میںہمیں ڈرے سہمے سے دکھائی دئیے ،جن کی اس حالت زار کو دیکھ کرنجانے کیوں مجھے ہر بار مشہور گبر سنگھ یاد آجاتا ہے، جو ہمیشہ ہی کی طرح ان سے پوچھتا ہے کہ ،، کتنے آدمی تھے ۔

سزا ملے گی ،، ضرور ملے گی،دوسری طرف سہمے ہوئے گبر کے ساتھی ۔ ہم نے تمہارا نمک کھایا ہے سردار ،اب گولی کھا ۔یقین جانیںوہاں ایک گبر تھا ، اس شہر میںجا بجا گبر ہی گبر ہیں ، کس کس سے بچیں۔کیا رکشہ والا تو کیا سبزی فروٹ کے ٹھیلے والا ،سب کے سب ظالم ہیں ۔۔روڈوں ، سڑکوں کے بیچوں بیچ کھڑے ہو جاتے ہیں ، اور جب ان سے کہاجائے کہ بھائی زرہ پیچھے کر لو اپنی دکانداری کو تو انتہائی دھٹائی کے ساتھ ،،،، ہنہ۔۔۔ ظالم لوگ غریب کو کماتا نہیں دیکھ سکتے ۔یار کماؤ ہم نے کب روکا ہے آپ لوگوں کو،کمائیں لیکن میرے بھائیو! کمانے کے بھی کچھ آداب ہو تے ہیں۔ یاد رکھو ! میرے اللہ کو ایسی باتیں پسند نہیں ہیں میرا اللہ تو راہ سے پتھر ہٹانے پر بھی انسانیت کو اجر عظیم عطا کرتا ہے ۔کراچی کی آج کی صورت حال کے پیش نظرمجھے حضرت علامہ محمد اقبال ؒ کا ہمیشہ ہی کا پڑھا وہ شعر یاد آرہا ہے کے جس کو پڑھنے کے باوجود ہم لوگ آج تک سمجھ ہی نا پائے ایک مرتبہ پھر عرض کیئے دیتا ہوں کہ

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اس کے بعد کیا کہوں سمجھ سے باہر ہے کراچی کی سڑکوں اور خاص کر بڑی شاہراہوں پر جا بجا مٹی کے ڈھیر پڑے ہیں ،بلدیہ کے سوئیپر بھگا دئیے گئے ہیں پورے کراچی میں گٹر کی سیاست عروج پر پہنچ چکی ہے ،گٹروں کے ڈھکن جان بوجھ کر توڑ دیئے جاتے ہیں اور پھر ایک سازش کے تحت اُن میں مٹی اور بلاک بھر کے اُنہیں بند کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے علاقوں میں عجیب صورتحال جنم لیتی نظر آرہی ہے ایک تو گٹر کے گندے پانی سے علاقوں کی سڑکیں عظیم گڑہوں کا سا منظر پیش کرتی نظر آتی ہیں تو دوسری طر ف کراچی کے تمام علاقے اس گٹر کے گندے بدبو دار تالاب بن گئے ہیں جن پرسے کراچی کے باسی کس طرح گزرتے ہیں اس کا احساس شائد اُن لوگوں کو نہیں ہے ۔۔احساس کرلیں تو بہتر ہے ورنہ عدالت ایک اور بھی ہے۔۔۔

اللہ نگھبان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com