اقبال کے آخری دوسال (2) میر افسر امان

ہم نے گذشتہ کالم میں آپ سے باقی آیندہ کہہ کر رخصت چاہی تھی۔ حسب وعدہ اب اس کالم کے ساتھ حاضر ہیں۔سابقہ کالم میں پنجاب کے گورنر مائیکل ادڈوائر( جرنل ڈائر) کے پنجاب میں عوام پر مظالم ،جس میں جیلاں والا باغ کا قتل عام، مارشل لا کا نفاذ،قائد اعظمؒ کو اتحاد کا سفیر اور قائد اعظم ؒ کے مخالفوں کا قائد اعظمؒ کے مخالف سرمحمد شفیع اورسر میاں فضل حسین کا مسلم لیگ کے مقابلے میں مسلم کانفرنس بنانا وغیرہ شامل تھا۔ اب اس آخری کالم میںکتاب’’ اقبالؒ کے آخری دوسال‘‘ میں درج واقعات کو سمیٹیں گے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ سکندر حیات اور میاں فضل حسین کاحکومتِ انگلشیہ بلکہ اقتدار کے قریب تھے۔۱۹۳۵ء کے ایکٹ کے بعد آئین کے نفاذ کا وقت قریب آنے لگا تو سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہوگئیں۔ علامہ اقبالؒ نے خط لکھ کر قائد اعظم ؒ کولندن سے واپس آنے کا کہا تو قائد اعظم ۱۹۳۴ء میں واپس ہندوستان آئے اور مسلمانوں کے اتحاد کے لیے دوبارہ کوششیں شروع کر دیں۔ مسلمانوں نے پچھلے تیس سال سے الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھااس لیے۱۲؍اپریل ۱۹۳۶ء کے آل اندیا مسلم لیگ کے اجلاس نے قائد اعظم ؒ کو مرکزی الیکشن بورڈ اور صوبائی الیکشن بورڈ قائم کرنے کا اختیار دیا۔اُدھر میں فضل حسین نے نئے سرے سے یونینسٹ پارٹی کا دور جدید کا افتتاح کیا۔جس میںملک برکت علی بھی شامل تھے۔ ملک برکت علی نے سر میاں فضل حسین کو سر سنکدر حیات کی کارستانیوں سے شکائیتی انداز میں خبر دار کیا۔ علامہ اقبالؒ بھی اس وقت سر شفیع کی مسلم کانفرنس کے حامی اور مسلم لیگ کے مخالف تھے۔ اُس وقت تک قائداعظمؒ ے گہرا رابطہ بھی نہیں ہوا تھا۔

قائد اعظمؒ معاملات کو سنبھالنے کے لیے علامہ اقبالؒ سے ملنے گئے۔بیماری کے باوجودعلامہ اقبالؒ نے قائداعظم ؒ سے عوام کے ذریعے مدد کرنے کا وعدہ کیا۔مصنف لکھتے ہیں کہ وہ خودملک برکت علی کی اپیل پر عملی سیاست میں شام ہوئے۔ ۱۲؍ مئی کو عبدلعزیز بیرسٹر ایٹ لا کے مکان کے باہر مسلم لیگ کا جلسہ منعقد ہواجس کی پنجاب مسلم لیگ صدارت علامہ اقبالؒ نے کی۔ ایک قرارداد میںعلامہ اقبالؒ کو صدر،ملک برکت علی نائب صدر۔غلام رسول سکر ٹیری اور جائنٹ سکر ٹیری عاشق حسین بٹالوی منتخب ہوئے۔دوسری قرارداد میںقائد اعظم ؒ کی اسکیم کا خیر مقدم کیا گیا۔ قائد اعظمؒلاہور سے راولپنڈی پھر کشمیر گئے۔ کشمیر سے مرکزی الیکشن بورڈ کا اعلان کیا جس میں دوسرے حضرات کے ساتھ پنجاب سے علامہ اقبالؒ کا نام شامل تھا۔مرزا ابوالحسن اصفہانی نے اپنی کتاب میں مرکزی بورڈ کی اندرونی کہانی اس طرح بیان کی۔اس میںجمعیت علمائے ہند کے مولانا محمد حسن مدنی بھی شریک تھے۔ انہوں نے قائد اعظمؒ کی تعریف کی ۔زور دار تقریریں بھی ہوئیں۔ جمعیت علمائے ہند کے علماء نے کہا کہ تشہر کے لیے دفتر جمعیت علمائے ہند کومر کز بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   اس خواب کی تقدیر میں تعبیر نہیں کیا - مہوش کرن

اس کے لیے کم از کم ۵۰ ہزارروپے کی ضرورت ہے۔ جبکہ مسلم لیگ کے پاس پیسے سے نہیں تھے۔ پیسے نہ ملنے پر جمعیت علمائے ہند کے علماء کانگریس کے طرف چلے گئے کیونکہ وہاں پیسے عام تھے۔علامہ اقبالؒ کے گھر مسلم لیگ کے اجلاس میں پنجاب پارلیمانی الیکشن بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔قائد اعظم ؒکے کشمیر سے لاہور آنے پر یونینسٹ پارٹی نے سیاہ جھنڈیوںسے قائد اعظمؒ کا استقبال کرنے کا پرگروام ترتیب دیا تھا، جسے علامہ اقبالؒ نے کوشش کر کے منسوخ کرایا۔مسجد شہید گنج سکھوں سے واپس لینے کے لیے مجلسِ تحاد ملت کی بنیاد رکھی گئی۔ علامہ اقبالؒ کی محنت سے مسلم لیگ کے ۹۳۷اء کے الیکشن میں ممبران سے قادیانیت سے متعلق یہ حلف نامہ لیا گیا کہ’’میں اقرار کرتاہوں اگر کامیاب ہوگیا تومرزائیوں کو دیگر مسلمانوں سے ایک علیحدہ اقلیت قرار دیے جانے کے لیے انتہائی کوشش کروں گا‘‘ مگر یونینسٹ پارٹی کی ممبران نے آخر تک مسلم لیگ کے حلف نامے پر دستخط نہیں کیے۔ لکھتے ہیں کہ جہاں تک یونینسٹ پارٹی کا تعلق ہے تو وہ تو مقدّر آزمائوں کا بے ضمیر جتھا ہے۔ واقعی علامہ اقبالؒ کی موت تک یوینسٹ پارٹی مسلم لیگ سے دھوکہ ہی کرتی رہی۔

پنجاب میں پاکستان بنتے تک اسی کی حکومت تھی۔سکندر جناح دو پیکٹ بھی ہوئے۔ واقعی یونینسٹ پارٹی نے اپنی روش نہیں بدلی۔پنجاب میں مسلم لیگ کا ترجمان صرف ایک روزنامہ احسان تھا۔پھر ایک ایک ہفت روزہ انگریزی کا اخبار نیو ٹائمز کا اجراء کرایا گیا۔ اس کے سرورق پرشروع سے ہی علامہ اقبالؒکا نا م چھپتا رہا۔لکھتے ہیں ہم نے ۱۹۳۷ء کے الیکشن میںعلامہ اقبالؒ کانام استعمال کیا ۔ مسلم لیگ کے دو نمائندے کامیاب ہوئے۔ ملک برکت عملی اور راجہ غضنفر علی۔ راجہ غضنفر علی خان جو جیتتے ہی یونینسٹ پارٹی میں چلا گیا۔پنجاب میں یونینسٹ پارٹی نے مخلوط حکومت بنا لی۔اس کے بعدقائد اعظمؒ نے مسلم لیگ رابطہ عوام کی تحریک شروع کی۔علامہ اقبالؒ شدید بیماری کے قائد اعظمؒ کو حوصلہ دیتے رہے۔ ساتھ ہی ساتھ پنجاب کے سیاسی صورت حال سے قائد اعظمؒ کو آگاہ رکھتے رہے۔ قائد اعظمؒ کو اس سے حوصلہ ملا۔ علامہ اقبالؒ کے کہنے پر دہلی میں آل انڈیا مسلم کنونشن منعقد کرانے کے لیے راضی ہوئے۔۱۹۳۷ء کے الیکشن کے بعد کانگریسی رائج رہا ۔ مسلم مخالف پالیسیاں نافذ کیں۔ قائد اعظمؒ کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ کو ترقی دینے میں لگ لیے۔ علامہ اقبالؒ کافی عرصہ تک سیاست میں نہیں آئے تھے۔ جب آئے تو بڑی احتیاط سے سیاست کرتے رہے۔ مگر علامہ اقبالؒ کے آخری دو سال میںیک دم تبدیل ہوگئے۔ علامہ

یہ بھی پڑھیں:   ریاست مدینہ میں آٹا بھی عوام سے دور - بشریٰ نسیم

۲
اقبالؒ کا دل تو مسلمانوں کے در سے بھراہوا تھا۔اپنے مورخہ ۷؍ اکتوبر کے خط میں قائد اعظمؒ کو لکھتے ہیں۔مسئلہ فلسطین پرمیںجیل جانے کو تیار ہوں۔ مشرقی کے دروازے پر مغربی استعمار کے اس اڈے کی تعمیر اسلام اور ہندوستان دونوں کے لیے خطرے کاباعث ہے۔لاہور میںمغلوں کے ایک صوبیدار نے ایک مسجد بنوائی تھی۔ اس مسجد کے سامنے ایک سکھ کو قتل کر دیا گیا تو مسجد کانام شہید گنج پڑھ گیا۔ اس پر سکھوں نے قبضہ کر لیا۔ اس کے صحن میں ایک بڑی دیگ میں بھنگ بری رہتی جس میں سے سکھ بھنگ پیتے تھے۔جب مسلمانوں حق حکمرانی کھو بیٹے تو لاہور کو تین سکھ بھنگیوں نے بانٹا ہوا تھا۔یہ تھے گوجر سنگھ،لہنا سنگھ اور سوجھاسنگھ بھنگی۔ یہ سہ حاکمانِ لاہور کے نام سے یاد رکھے جاتے ہیں۔یہ ۳۴ سال تک لاہور کو لوٹتے رہے۔ مسلمان ہائیکورٹ سے مسجد شہید گنج کا مقدمہ ہار گئے۔

تو مسلمانوں نے ایک نیا قانون پنجاب پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔جس میں شخصی ملکیت قبضہ کی بجائے، مسجد کی ملکیت کسی کی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے اللہ کی ملکیت زرو دیا گیا۔ علامہ اقبالؒؒ نے مسجد شہید گنج کا مقدمہ لڑنے کے لیے قائد اعظمؒ لاہور بلایا۔آخرمیں جب یونینسٹ پارٹی پر سرسکندر کے ساتھ ساتھ پنجاب کے مذید جانگیرداروں نے قبضہ کر لیا تو علامہ اقبالؒ سمیت سب پریشان ہوئے۔پنجاب لیگ اور آل انڈیا مسلم لیگ کے ملنے سے انہیںجاگیرداروں نے قائد اعظمؒ کو منہ کیا۔پنجاب والوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس لاہور بنانے کے کوشش کی مگر اجلاس کلکتہ میں ہی ہوا۔

یونینسٹ پارٹی اور مسلم لیگ کے کے برابر نمائندوںپر کمیٹی بنائی گئی۔ جس نے پنجاب مسلم لیگ کی از سرے نوتشکیل کرنے کی ذمہ دادری لگائی گئی۔جس میںعلامہ اقبالؒ کا بھی نام تھا۔ ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء مصنف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لاہور پہنچے تو اخبار والے اعلان کر رہے تھے کہ علامہ اقبالؒ فوت ہوچکے ہیں۔گھروں میںجانے کے بجائے وہ مرد مومن کی میت کو دیکھنے جاوید منزل گئے۔اس طرح ایک عہد کاخاتمہ ہوا۔صاحبو! اس کے بعد علامہ اقبال ؒکی جلائی شمع کے تحت ۱۹۴۰ء کی قراراداد منطور ہوئی۔ اسی کی بنیاد پر علامہ اقبالؒ کے خواب اورقائد اعظمؒ کے اسلامی وژن کے مطابق کلمہ’’ لا الہ الا اللہ‘‘ کی بنیاد پر ہندوئوں اور انگریزوں کی سازششوں کے باوجود علامہ اقبالؒ کا پاکستان وجود میں آیا۔