وکیل آئے ہیں - مریم حسن

پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا

لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہوگئے

میں جب کبھی کسی تقریب میں اپنے مستقبل کی پلاننگ بتاتی تو میرے دادا ہمیشہ طنزیہ انداز میں یہ شعر پڑھتے تھے، ہر بار یہ سن کر مجھے برا لگتا تھا کہ اچھے برے لوگ تو ہر پیشے میں ہوتے ہیں، جانے وکالت کو کیوں بدنام کررکھا ہے۔ سیاہ کوٹ سے محبت مجھے مجبور کرتی تھی کہ وکالت کو برا کہنے والے ہر شخص کے سامنے یہ مقدمہ لڑوں کہ سب وکیل برے نہیں ہوتے، بس کچھ برے لوگ وکالت میں آجاتے ہیں۔ایک عرصے تک سیاہ و سفید لباس میں ملبوس یہ لوگ میرے آئیڈیل رہے تھے۔ ایک عرصے تک اپنے الفاظ و دلائل سے حق کے لیے لڑنے والے، مظلوموں کو حق دلانے والے میرے لیے "مسیحا" تھے۔ آج میں سوچ رہی تھی کہ اچھا ہوا میں نے وکالت نہیں پڑھی، ورنہ کیسے سر اٹھا کر اپنے ہم پیشہ لوگوں کو وہ سب کرتے دیکھتی جو انسانیت سے بہت دور کا عمل ہے۔

اس شعر کی سچائی آج نظر آئی ہے، کیونکہ انسانی جان بچانے کے ادارے پر حملہ کرنے ، ڈاکٹرز کو زخمی کرنے، اپنی زندگی بچانے کی امید لیے آئے انسانوں کی سانسیں چھیننے کی درندگی کوئی انسان نہیں کرسکتا!
اب تک کی اطلاعات کے مطابق یہ احتجاج چند دن پہلے ہوئے واقعے کا شاخسانہ تھا، جس میں ایک وکیل نے اپنے کسی عزیز کی موت پر ڈاکٹر کے ساتھ جھگڑا کیا تھا۔ آج ہسپتال پر حملہ کرنے والے اور موت سے لڑتے انسانوں کو زندگی کی سرحد سے موت کی وادی میں دھکیلنے والوں کو یہ احساس تک نہیں تھا کہ وہ جن پر چڑھائی کررہے ہیں وہ بھی کسی کے عزیز ہیں۔ ایک انسانی جان کے ساتھ کتنی جانیں جڑی ہوتی ہیں، ICU میں موجود مریضہ کا آکسیجن ماسک اتارتے ہوئے شاید یہ خیال بھی ذہن سے نہیں گزرا ہوگا، کیونکہ جذبات تو قانون دانوں کے ہوتے ہیں، اپنوں سے بچھڑنے کی تکلیف تو پڑھے لکھے، کلف لگے ان بلند طبقہ لوگوں کی میراث ہے۔ بھلا "عام" انسان کوئی وقعت رکھتے ہیں کہ کسی سیاہ کوٹ و کرتوت والے کے غم و غصّے کی راہ میں حائل ہوں؟؟؟؟

سیاہ ملبوس پہلنے ان "عظیم" افراد کے پاس جواب ہوگا کہ ایک ہسپتال برباد کرنے کی وجہ کیا تھی؟
احتجاج کی کو ئی بھی وجہ ہو کونسا قانون اور کہاں کی انسانیت آپ کو یہ اجازت دیتی ہے کہ آپ ایک ہسپتال پر دھاوا بول دیں؟ آپ لوگوں کی زندگیاں برباد کردیں؟ قانون دان ہوتے ہوئے بھی یہ انسانیت کے درجے سے گرے عمل کرتے ان باشعور افراد کی شرم و حیا جانے کہاں جا سوئی تھی! جنگی حالات میں بھی ہسپتالوں کو محفوظ رکھا جاتا ہے ، لیکن یہاں تو اناؤں کی جنگ میں انسانیت کو پھانسی پر چڑھایا گیا ہے۔
بطور قوم، یہ نہایت شرم کا مقام ہے، عدم برداشت کا کونسا درجہ تھا جس نے ان وکلاء کو ہر حد سے گرا دیا۔ جب پڑھے لکھے باشعور لوگ یہ کررہے ہیں تو عرف عام میں جاہل کہلائے جانے والوں سے کیا امید کرسکتے ہیں؟ یہ جو جانیں گئی ہیں، ان لوگوں کے ورثاء کہاں سے انصاف کی امید رکھیں گے؟ ان اداروں سے جہاں ان سیاہ لوگوں کا راج ہے یا ان قانون نافذ کرنے والوں سے جو کھڑے تماشہ دیکھتے رہے اور جب ایکشن لیا تو ایسا کہ اور جانیں خطرے میں ڈال دیں۔

یہ چند وکیل، جنہوں نے جانے کیوں یہ عظیم کارنامہ انجام دیا ، پورے نظام کے چہرے پر طمانچہ مار چکے ہیں۔ وہ لوگ جو آج ، کل ، پرسوں اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کے لیے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں آنے والے تھے، جان چکے ہونگے کہ وکیل ہوتے کون لوگ ہیں۔ سارے ملک کو جان لینا چاہیے کہ سیاہ کوٹ پہننے والوں سے الجھنے کی غلطی نہیں کرنا چاہیے۔

یہ چند وکیل ، اپنے ہم پیشہ افراد اور اپنے ملک کا سر شرم سے جھکا کر جانے کہاں بیٹھے اب اپنی حیثیت جتا دینے کا جشن منا رہے ہونگے۔ چند انسانی جانوں کا نذرانہ، شاید ان کی مجروح اناؤں کی تسکین کرگیا ہوگا۔اب جہاں کہیں کوئی وکیل دیکھیں، ادب سے ایک طرف ہو جائیں اور جھک جائیں، کیونکہ وکیل کو غصہ آگیا تو اچھا نہیں ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com