قرآن اور ہماری ذمہ داریاں‌ - ایمن طارق

تکلیف دہ اور اذیت ناک منظر تو ہے ظاہر ہے کہ میرے رب کے الفاظ ہیں اور نسخہ کیمیا ہے ۔ جسے سینوں سے لگایا جاتا ہو ، جس پر ایمان اور اس کی تکریم و تعظیم عقیدے کا لازمی جز ہو، جو معجزہ ہو اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا ہو اُس کی تذلیل یا اُس سے نفرت کا اظہار بھلا کیسے برداشت ہو ۔ کیسے بے خبر ہیں یہ بنا جانے اُس کلام کو جلاتے ہیں جس نے ان کے ہی جیسے تاریک راہوں پر چلتے کتنوں کو روشنیوں کے سفر کا مسافر بنا دیا ۔

ان کے ہی جیسے کتنے تھے جو نفرت سے بھرے تھے لیکن چھپ چھپ کر یہ کلام سنتے تھے اور مسحور ہو جاتے تھے ۔ اور کتنے ہی وہ کہ جو خطرناک عزائم لے کر نکلتے تھے اور واپسی کے سفر میں اُن کے دل کی میدان تسخیر ہو جاتے ۔ یہ انجان ہیں ، یہ بے خبر ہیں ، یہ محروم ہیں ، اور ہم ... ہم امانت دار ہیں ، اس کلام کو دلوں تک پہنچانے کے زمہ دار ، ہم مخاطب ہیں اس کتاب کے، ہم داعی ہیں اس دعوت کے، اور اس کتاب کی تقدیس کے نگہبان ... یہ امانت داری یہ زمہ داری اور دلوں تک پہنچنے کا راستہ کہاں سے نکلے گا؟ کیا محض نفرت کے اظہار سے؟

کیا گالیوں اور دشنام طرازی سے؟ یا ہم سیکھیں گے رحمۃ اللعالمین کی سیرت سے؟ وہ نوجوان تو اپنا جذبہ دکھا گیا لیکن کیا ہم اُسے ہیرو کہتے ہوئے خود ہیرو بننے کے لیے ایک ایسے ہی موقع کے منتظر رہیں گے؟ اور اگر ایسا کوئی موقع نہ آیا تو ہم چین کی بانسری بجاتے رہیں گے کہ بے حرمتی تو نہیں ہو رہی۔ یہ تو نفرت کے اظہار کا ایک چھوٹا سا مظاہرہ تھا جس کو وہ توجہ مل گئ جو اُس کے مقاصد تھے لیکن میں اور اپ کہیں دوبارہ ہائبرنیشن میں جانے سے پہلے سوچ لیں کہ اگر ہم نے قرآن کے حقوق ادا نہ کیے تو ہماری سخت پکڑ ہو گی ۔

1- قرآن پر ایمان لانا, 2- اس کی تلاوت کرنا, 3- اس کے معانی کو سمجھنا اور اس میں غوروفکر کرنا, 4- اس پر عمل کرنا, 5- اسے دوسروں تک پہنچانا. دوسروں تک پہنچانے کے لیے قرآن کا چلتا پھرتا مطلوب انسان بننا ۔ بہترین رول ماڈل بننا ۔ اردگرد کے ماحول میں محبت ہمدردی ، انسانیت کی عملی تصویر بننے سے ہی ممکن ہے کہ بھٹکے ہوے نفرت اُگلتے وجود راہ ہدایت پاجائیں۔

حرمت قرآن کی خاطر مرتے دم تک کرنے والے کام : ۱۔دین کو ان صالح فطرت لوگوں تک پہنچانا جو اس سے نا آشنا ہیں اور اس کے فیض سے محروم ہیں ، جو اس ہستی کی زات و صفات سے بے خبر ہیں اس لیے اس بات سے بھی نالاں ہیں کہ ان کے گھر کے برابر رہنے والا جس نے سالوں میں آج تک کبھی مسکرا کر انہیں ہیلو نہ کہا وہ کسی محمد یا قرآن کے نام پر اتنا جزباتی کیوں ہو جاتا ہے۔

۲۔دین کو آگے پہنچانے کے لیے دین کی دعوت دینے والی کوششوں کا حصہ بننا کیوں کہ اسی کی جو اب دہی پہلے ہوگی کہ میرے دین کو آگے پھیلانے کے کیے کتنی جان گھلائی۔

۳۔اپنی نوجوان نسل کو قرآن زندگی کے ہر حصے میں غالب رکھنے کی تربیت دینا اور ان کے خون میں اس کی پیروی کرنے کی تڑپ پیدا کرنا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */