تھانیدار یا وزیراعظم پاکستان - شمس آفتاب

اگر گدھا بائیس ہزار سال بھی مشقت کرے تو وہ گھوڑا نہیں بن سکتا ۔ نواز شریف اور بلاول پہ تنقید بجا لیکن آپ نے اپنے سیاسی دشمنوں کو مارنا ہی ہے تو ان سے اچھی کارکردگی دکھاؤ اپنی تقریروں سے نہیں پرفارمنس سے انکا مقابلہ کرو ، عام لوگوں تک اچھی گورننس کے ثمرات پہنچاؤ تب بڑھکیں مارنا آپکو زیب دیتا ہے۔

صبح سے لیکر شام تک دوسروں کے کردار وعمل پہ نوحہ خوانی اور زنجیرزنی سے آپکو ہمدردی تو مل سکتی ہے لیکن کامیابی نہیں اور آپکی ناکامی آپکے کروڑوں نوجوان ووٹرز سپورٹرز کی ناکامی ہے ۔ ریاست مدینہ اور جن ترقی یافتہ ملکوں کی مثالیں آپ دیتے ہیں، آج تک ہم نے ان ترقی یافتہ ملکوں میں یہ نہیں دیکھا کہ حکمران جیت جانے کے بعد اپنے سیاسی دشمنوں کو زیرعتاب لاکر ساری توانائیاں منفی باتوں پہ صرف کریں بلکہ انکا مقصد صرف اور صرف وہ عوام جن کے زور پہ وہ حکمران منتخب ہوئے ہیں انکی فلاح و بہبود ہوتا ہے ۔ آپ پی ٹی آئی کے تھانیدار بن کے نواز ، زرداری ، بلاول اور فضل الرحمان کو نیچا دکھانے کی کوشش میں اتنے نیچے گر گئے ہیں کہ اب اگر وزیراعظم بن کے بھی اٹھنا چاہیں تو نہیں اٹھ سکتے۔ آپ آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے وزیراعظم ہیں ملک کیلئے آپکی خدمات اپنی جگہ لیکن خدارا اپنی توانائیاں بقول آپکے چوروں پہ ضائع نہ کریں ، آپ وہ ادارے مضبوط کریں جنکا کام چوروں کو پکڑنا ، عدالتوں کو ثبوت فراہم کرکے انکو سزائیں دلوانا اور لوٹی ہوئی رقم واپس لینا ہے ۔ آپ بیک وقت پولیس ، نیب ، ایف آئی اے کے چیف اور عدالت کے جج بننے کی کوشش میں اپنی وزارت عظمی کی کرسی بھی کھو چکے ہیں ۔

آپ کی بطور وزیراعظم غیر معقول تقاریر اور مخالفین کی نقلیں اتارنا آپکے سیاسی تنزلی کیطرف جاری سفر کا باقاعدہ آغاز ہے۔ اقتدار جتنا بھی مضبوط ہو جب بندہ اپنی سوچ پست کرلے اور نفرت اور تکبرکی آگ جنون کی حد تک بڑھاوا دے تو اسکی کرسی راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہے۔