واٹس ایپ پر رقوم اینٹھنے والا گروہ سرگرم

بیرون ملک میں مقیم پاکستانیوں کی واٹس ایپ پروفائلز ہیک کرکے رشتہ داروں سے ایمرجنسی کے نام پر بھاری رقوم اینٹھنے والا گروہ سرگرم ہوگیا ہے۔ یہ ملزمان مختلف بینکوں اور موبائل فون اکاؤنٹس کے ذریعے شہریوں سے دھوکا دہی کر رہے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو اس سلسلے میں کافی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ سلطان خواجہ کے مطابق ملزمان نے تازہ ترین واردات کراچی کے رہائشی طارق فواد خواجہ کے ساتھ کی ہے۔

ڈیفنس کے رہائشی طارق خواجہ کے مطابق ان کے واٹس ایپ پر کسی شخص نے اُن کے امریکا میں مقیم کزن احمد اعجاز کی پروفائل منسلک کرکے امریکا کے فون نمبر 7787691269 سے رابطہ کیا۔ بھیجے گئے پیغام میں مذکورہ شخص نے احمد اعجاز کی واٹس ایپ پروفائل کی تصویر لگائی اور احمد اعجاز بن کر اُن کے نام سے پیغام لکھ کر بات کی اور کہا کہ وہ کال نہیں کرسکتے میسیج لکھ کر بات کریں۔ پیغام میں کہا کہ وہ کسی سنگینی یا مصیبت میں پھنس گئے ہیں لہذا فوری طور پر ان کے لیے ایک پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں 2 لاکھ روپے بھیج دیں تاکہ وہ مصیبت سے چھٹکارہ حاصل کرسکیں۔ طارق خواجہ کے مطابق وہ فون کال کرکے احمد اعجاز کو درپیش صورتحال کی تصدیق کرنا چاہ رہے تھے کہ لاہور سے ان کی والدہ نے فون کرکے تصدیق کی کہ احمد اعجاز نے اُنہیں بھی میسج بھیجا ہے اور وہ واقعی کسی مصیبت میں ہیں انہیں فوری طور پر پیسے بھیج دیں۔

طارق خواجہ کے مطابق انہوں نے میسج بھیج کر استفسار کیا کہ رقم کس اکاؤنٹ میں منتقل کرنی ہے؟ جواب میں ایم سی بی بینک کا اکاؤنٹ نمبر فراہم کیا گیا لیکن آن لائن خلل کی وجہ سے اس کھاتے میں رقم ٹرانسفر نہیں کی جاسکی تو مذکورہ شخص نے میزان بینک کی اچھرہ لاہور برانچ کا اکاؤنٹ نمبر دیا۔ طارق کے مطابق انہوں نے فوری طور پر 2 لاکھ روپے مذکورہ اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیئے۔ تھوڑی دیر بعد مذکورہ شخص نے مزید ایک لاکھ روپیہ بھیجنے کا کہا تو اُنہیں تشویش ہوئی اس دوران انہوں نے اپنے دیگر رشتے داروں سے تذکرہ کیا تو انہوں نے بھید کھولا کہ کوئی نوسرباز اعجاز کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے دھوکا دہی کرکے پیسے بٹور رہا ہے رقم ٹرانسفر نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   واٹس ایپ میں جلد متعارف ہونے والے 3 بہترین فیچرز

طارق خواجہ کے مطابق ان کے خالہ زاد بھائی عبدالحمید نے بھی اسی ہمدردی کے جذبے کا شکار ہوکر اُسی بینک اکاؤنٹ میں دو لاکھ روپے منتقل کردئیے تھے تاہم انہوں نے اپنے بینک سے رابطہ کرکے رقم کی منتقلی روک دی اور پیسے واپس اپنے کھاتے میں ٹرانسفر کرا لیے۔ طارق خواجہ کے مطابق 4 ستمبر کو انہوں نے بھی رات11 بجے اپنے بینک میں شکایت درج کرائی اور رقم واپسی کی کوشش کی مگر پتہ چلا کہ جس اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کیے گئے اس کے مالک رانا بلال ہیں اور انہوں نے پیسے فوری طور پر نکلوا لیے ہیں۔

بینک سے نمبر لے کر جب رانا بلال سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ایک نئی کہانی سنائی اور بتایا کہ انہیں احمد کی تصویر لگے واٹس ایپ نمبر سے کسی شخص کا فون آیا تھا کہ یہ پیسے غلطی سے اُن کے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوگئے ہیں۔ مذکورہ شخص نے انہیں اپنی بیوی کے آپریشن جیسے انتہائی ایمرجنسی ظاہر کی اور درخواست کی کہ مذکورہ رقم اکاؤنٹ سے نکال کر ان کے جیز موبائل کے 9 ہندسوں کے اکاؤنٹ میں جمع کرادیں۔ جس پر انہوں نے وہ رقم اُس موبائل اکاؤنٹ میں جمع کرادی۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق اس سلسلے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ اس انکوائری کے تفتیشی افسر انسپکٹر فرید کے مطابق انہوں نے بینکوں کو خطوط لکھ کر اسٹیٹمنٹ مانگ لی ہیں اور متعلقہ افراد کو تفتیش میں شامل کیا جارہا ہے۔