ہم شام کے شمال میں دہشت گرد حکومت کے قیام کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے - ایردوان

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ہم شام کے شمال میں دہشت گرد حکومت کے قیام کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ دارالحکومت انقرہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں صدر ایردوان نے شام میں فرات کے مشرق میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیموں YPG/PKK اور داعش کے خلاف جاری چشمہ امن آپریشن سے متعلق بیانات جاری کئے ہیں۔

جرمن چانسلر اینگیلا مرکل کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ "ہماری اوّلین ترجیح علاقے موجود اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرنا ہے ۔ ہم ان کے ساتھ مل کر مسئلے کو حل کرنے کے حق میں ہیں"۔

صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ہمارے لئے اہم چیز کم سے کم نقصان کے ساتھ اس عمل کو پورا کرنا ہے۔ YPG/PKK اس وقت تک شام کے شمال میں اپنے زیر قبضہ علاقے سے ترکی میں 652 مارٹر گولے پھینک چکی ہے جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بچوں سمیت ہمارے 18 شہری شہید اور 147 زخمی ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 490 تک پہنچ چکی ہے۔ اس آپریشن میں سب سے زیادہ تعاون ہم شام کے کردوں سے حاصل کر رہے ہیں۔ آپریشن فیلڈ میں اس وقت تک 2 ترک فوجی اور شامی قومی فوج کے 16 اہلکار شہید ہو ئے ہیں۔

صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ہم شام کے شمال میں دہشت گرد حکومت کے قیام کی نہ تو اجازت دے رہے ہیں نہ ہی دیں گے۔ اگر آپ پوچھیں کہ ہم شام میں کیوں ہیں ؟تو میں آپ سے کہوں گا کہ اس لئے کیونکہ شامی انتظامیہ دہشت گردوں کے خلاف پاوں پر کھڑی نہیں ہو پا رہی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تک کنٹرول میں لئے جانے والا علاقہ 109 مربع کلو میٹر ہے۔ اور یہ چیز کھلے بندوں سب کے سامنے ہے کہ ہمارے آپریشن کا ہدف وہاں کے کُرد نہیں دہشت گرد ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ اگر ہم انسانی حساسیت کا مظاہرہ نہ کریں تو ترکی کی فوج چند دنوں میں آپریشن کے علاقے میں دہشت گرد تنظیم کو نیست و نابود کر دے لیکن ہماری کوشش یہ ہے کہ کسی بھی معصوم کو ہلکی سی خراش تک نہ آئے۔

اس مسئلے کے ترکی کے لئے بقا کا مسئلہ ہونے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ہم رواں ہفتے میں ترکی میں موجود بین الاقوامی رائے عامہ کے نمائندوں کے ساتھ انقرہ میں اجلاس کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے آپریشن کا کردوں کو ہدف بنانے جیسا ہرگز کوئی مقصد نہیں ہے۔ ہمارے اور دہشت گرد تنظیم کے درمیان ثالثی کے خواہش مند موجود ہیں ۔ یہ کیسے وزرائے اعظم اور کیسے صدور ہیں اسے سمجھنا سمجھ سے باہر ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ہمارا ایک دہشت گرد کے لئے نقطہ نظر اور ایک انسان کے لئے نقطہ نظر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ہم نسلیت پرست نہیں ہیں ۔ لیکن یہ کہاں دیکھا گیا ہے کہ ایک حکومت ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئی ہو؟