ہماری ہیروئن - عائشہ تنویر

اکثر لوگوں کو شکوہ رہتا ہے کہ دنیا بدل گئی مگر ہمارے ڈائجسٹ کی ییروئن نہ بدلی ۔ ان کا یہ شکوہ بالکل بے جا ہے ۔ زمانے اور موسم کے ساتھ فیشن بدلتے ہیں تو ڈائجسٹ میں چھپنے والی کہانیوں کا فارمولا کیوں نہ بدلے ۔

ہماری ہیروئن اب پہلے جیسی نہیں رہی ۔ٹرینڈ بدل گئے ہیں ۔ ہیروئن مہمانوں کے آنے پر جلدی سے مٹر پلاؤ بنا کر شامی کباب فرائی نہیں کرتی بلکہ اب وہ گھر میں بیک کیےکیک ، براؤنیز اور پزا لا کر سامنے سجا دیتی ہے ۔ جتنی بیکنگ ہماری کہانیوں میں ہوتی ہے، پورے پاکستان میں کہیں نہیں ہوتی ۔ عوام کے پرزور اصرار پر کبھی دیسی کھانے بنائیں بھی جائیں تو بریانی، قورمے کے بجائے افغانی پلاؤ، لبنانی کباب اور ہرے مصالحے کا سالن پیش کیا جاتا ہے ۔ کچومر سلاد کو رشین سلاد سے بدل دیا جاتا ہے ۔ ویسے توہیروئن کو ان سب جھنجھٹ کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ وہ جانتی ہے کہ آج کل مہمانوں کو کھانے سے زیادہ کمپنی دینا ضروری ہے ۔ وہ فون پر کھانا آرڈر کر کےخود مہمانوں کے ساتھ آ بیٹھتی ہے جو حیرت سے بک شیلف میں " خوشبو" اور " آنکھیں بھیگ جاتی ہیں " کی بجائے کیمیاء و طبیعات کی کتابیں دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ جب قدرے جھجھکتے ہوئے مہمان دریافت کرتے ہیں کہ آپ کو ادب سے دلچسپی نہیں تو ہیروئن خود اعتمادی سے اپنے اسٹیپس میں کٹے بال جھٹکتے ہوئے ہنس دیتی ہے ۔ لمبی چوٹی اب فیشن میں جو نہیں ۔ ہیروئن کی بجائے مما فخریہ بتاتی ہیں ۔" اس کے پاس وقت ہی کہاں، یونیورسٹی کے بعد اپنا بلاگ بھی چلا رہی ہے ۔ پھر بھی شوق بہت ہے ۔ 'فورٹی رولز آف لو' اور 'الکیمسٹ' تو کب کی پڑھ چکی ۔"

ہیروئن اب ٹیوشن سینٹر یا سوشل ورک کے بجائے سوشل میڈیا پر پائی جاتی ہے ۔ اس کے کلکس انسٹا پر وائرل ہو جاتے ہیں اور اس کے ٹوئٹس الیکٹرانک میڈیا میں جگہ پاتے ہیں ۔
نئے زمانے کی جدید ہیروئن اب چوڑی دار پائجاموں کی بجائے برانڈڈ ڈھیلے ڈھالے کرتے کے ساتھ جینز پہنتی ہے ۔ بڑے بڑے دوپٹوں کی جگہ اسٹالرز چلتے ہیں ۔ وہ آئی شیڈو لگائے نہ لگائے مگر کلر لینس کا استعمال عام ہے ۔ لیزر آپریشن نے جتنا فیض ہیروئین کو پہنچایا باقی عوام حاصل نہ کر سکی ۔ اب شاذ و نادر ہی چشمے والی ہیروئن نظر آتی ہے ۔ چشمہ لگانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ گاڑی سے نکل کر خنک شاپنگ مال کے اندر جاتی ہیروئن سیاہ سن گلاسز بالوں پر نہیں ٹکا سکتی۔ ہیروئن چندے آفتاب، چندے ماہتاب نہیں ہوتی مگر اس کا فیشن سینس اعلیٰ ہوتا ہے ۔ باقاعدگی سے کلینزنگ کرنے کی وجہ سے اس کی سنہری رنگت، کزن کی دوھیا سفید رنگت سے زیادہ لشکارے مارتی ہے ۔ وہ اب ہاتھوں میں بھر بھر کر حیدرآبادی ریشمی چوڑیاں نہیں پہنتی بلکہ ایک نازک سا بریسلیٹ اس کے سنگھار کو چار چاند لگانے کے لیے کافی ہوتا ہے ۔ گلابی کپڑوں میں قدرتی گلابی ہونٹوں کے بجائے وہ طریقے سے اپنے چہرے کی رنگت کے حساب سے لپ گلوز یا لپ کلر استعمال کرتی ہے ۔ لپ پینسل ہونٹوں کے خم کو نمایاں کرنے میں مدد دیتی ہے ۔ کپڑے فیشن کے حساب سے سرمئی، سیاہ و قرمزی رنگ بدلتے رہتے ہیں ۔

ہیروئن درختوں سے کیری، آم، جامن یا فالسے اتار کر کھانے کی بالکل شوقین نہیں ہوتی کیونکہ اسٹائلش لگنا آسان نہیں ۔اپنی فٹنس اور اپنے وزن کو مین ٹین رکھنے کے لیے اسے کیلوریز گن گن کر کھانا کھانا ہوتا ہے ۔پھر بھی " تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے " کہ مصداق ہیرو سے فوڈ اسپاٹ پر ٹکراؤ ہو جائے تو وہ بڑا سا منہ کھول کر گول گپا کھانے کی بجائے نزاکت سے فرائز کا کنارہ کترنے یا اسٹرا سے سلیش پینے کو ترجیح دیتی ہے ۔ اب ہیروئن پھپو کے بیٹے کے رشتے سے انکار کرنے کی بجائے نرمی سے ماں کو سمجھاتی ہے کہ پھپو اور آپ کے اختلافات بجا مگر انہیں ہم سے بہت پیار ہے کیونکہ وہ اچھے سے جانتی ہے کہ جہان سکندر ، حیا کی پھپو کا بیٹا تھا تو کیف، خوش نصیب کے تایا کا چشم و چراغ ۔ دور جدید کی ہیروئن عید پر خود سارا دن خوار ہونے کی بجائے صبح صبح نک سک سے تیار ہو کر بیٹھ جاتی ہے اور اس کا سب سے بڑا کام ملازمہ کو ہدایات دینا ہوتا ہے ۔ اگر کوئی کم عقل اس پر اعتراض کر دے تو وہ ایک شرمندہ کرنے والی نظر اس پر ڈال کر بتاتی ہے کہ مجھے اپنے ملازمین کا تم سے زیادہ خیال ہے ۔ میں نے اسے دینے کے لیے پیسے سنبھال رکھے ہیں اگر کام کروائے بغیر دے دوں گی تو اس کی عزت نفس مجروح ہو گی اور اسے کمانے کی بجائے مانگ کر کھانے کی عادت پڑے گی ۔

یوں بھی ہیروئن کی اماں کو اب اس کے ہاتھ کے سلے کپڑوں یا قیمہ بھرے کریلوں کا چرچا کرنے کی چنداں حاجت نہیں ۔ وہ فخریہ سب کے سامنے بتاتی ہیں کہ یہ میری بیٹی نہیں ، بیٹا ہے ۔ پاپا کی بیماری میں سارا کاروبار بخوبی سنبھال لیا ۔ ہیرو کو بھی آج کل شرمانے لجانے والی ہیروئن متاثر نہیں کرتی۔ وہ بااعتماد لہجے میں منہ توڑ جواب دیتی لڑکی کا متلاشی ہوتا ہے۔ جس لڑکی کو وہ سیدھی سادی ابو کی بھتیجی سمجھ کر مسترد کرتا ہے ۔بعد میں معلوم ہوتا ہے، وہ گھر بیٹھے مشہور اخبارات میں کالم لکھا کرتی ہے ۔ ہیرو اب یونیورسٹی میں جھگڑا ہونے پر ہیروئن کو درختوں سے گِھرے راستوں سے نہیں نکالتے بلکہ ہیروئن خود حواس کھوئے بغیر زخمی ہیرو کو ہسپتال پہنچا دیتی ہے ۔ ایسی پر اعتماد ہیروئن شوہر کے ظلم و ستم کہہ کر " اپنا نام میرے نام سے مت ہٹائیں " کی التجا نہیں کرتی بلکہ وہ فوراً سے گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے ۔ صلح، صفائی لیے رائٹر کو ایک علیحدہ قسط لکھنی پڑتی ہے ۔ یہی بے وفائی اگر منگیتر کرے تو صلح کی نوبت نہیں آتی اور یک طرفہ محبت میں گرفتار کلاس فیلو/ کولیگ کو فوراً ہیرو کے عہدے پر فائز کر دیا جاتا ہے۔
ہماری یکتا و دانا ہیروئن کو ہیرو کیسا چاہیے ہوتا ہے، اس پر بات پھر سہی ۔۔۔۔

#عائشہ_تنویر