بڑھاپے پر پچھتاوے کا ایک اور مداوا! عطا ء الحق قاسمی

ہفتہ کے روزنامہ جنگ میں مَیں نے اپنا شائع شدہ کالم دیکھا تو خود پر بڑا غصہ آیا کہ سرور سکھیرا میرا دوست ہے، میرے قارئین کا تو نہیں۔

چنانچہ مجھے ان کے سامنے سرور سکھیرا کا ذکر کرتے ہوئے ادب و آداب کا خیال رکھنا چاہئے تھا جبکہ میں سارے کالم میں سرور آتا ہے، سرور جاتا ہے، سرور کھاتا ہے قسم کے جملے لکھتا رہا، حالانکہ مجھے آتا، جاتا اور کھاتا کے بجائے آتے، کھاتے اور جاتے لکھنا چاہئے تھا۔

بہرحال اس کی تلافی میں اب کر رہا ہوں، بات یہ ہے کہ سرور سکھیرا ممی ڈیڈی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، آکسن لہجے میں انگریزی بولتے ہیں لیکن اندر سے ’’سکھیرا‘‘ ہی ہیں اور اپر کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود پوری طرح ڈائون ٹو ارتھ! موصوف کے چہرے کی متانت سے اتنا خوف آتا ہے کہ اجنبی ان سے گفتگو کے دوران یہ سوچ کر ہی سہما رہتا ہے کہ کہیں گفتگو میں اس کی زبان پر کوئی نازیبا لفظ نہ آجائے اور ایسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ موصوف کی یہ بات شائستگی میں ملفوف ہوتی ہے۔ ایک روز مجھے کہنے لگے ’’میں محسوس کرتا ہوں کہ آپ کچھ عرصے سے گم سم سے رہتے ہیں‘‘۔

میں نے کہا ایسی بات تو کوئی نہیں، میں تو آج بھی دوستوں کی محفلوں میں قہقہے لگاتا ہوں۔

بولے ’’مگر اکیلے بیٹھے ہوئے تو آپ قہقہے نہیں لگاتے‘‘۔ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا ’’اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا وقت آئے‘‘۔ کہنے لگے ’’یار میں دراصل آپ کا بہت بہی خواہ ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے ڈشکرے دوستوں کی محفل سے نکل کر کبھی کسی شیریں بدن، شیریں دہن کی صحبت میں بھی وقت گزارا کریں‘‘۔

میں نے کہا ’’اچھا، مگر کیسے؟‘‘ بولے ایک خاتون ہیں، وہ بھی آپ کی طرح تنہائی کی شکار ہیں، وہ کبھی کبھی آپ کی طرف آجایا کریں گی، آپ ان سے گپ شپ لگا لیا کریں‘‘۔ اس پر میری ہنسی چھوٹ گئی، جس پر وہ بولے، دیکھا صرف اس کے ذکر سے آپ کی باچھیں کھل گئی ہیں، میں نے اس مرتبہ اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے پوچھا ’’پھر آپ مجھ سے ملانے اسے کب لارہے ہیں؟‘‘

فرمایا ’’وہ تو کل سے ہی آپ کے پاس آنا شروع ہو جائیں گی، بس ایک دو شرطیں ہیں‘‘ اور پھر میرے پوچھے بغیر بتایا ’’ایک تو آپ اسے بیٹری سے چلنے والی وہیل چیئر خرید دیں اور دوسرے اس کیلئے نیا ڈینچر بنوا دیں‘‘ اس ساری گفتگو کے دوران ان کے چہرے کی متانت میں کوئی کمی نہیں آئی، البتہ میرے چہرے کی متانت دیکھ کر ان کی گھگھی بندھ گئی۔

اس کے باوجود آخر میں جان کی امان پاکر کہا ’’اس کی عمر بھی کچھ اتنی زیادہ نہیں صرف 64برس ہے‘‘۔

میں نے دسویں جماعت کی نصاب کی کتاب میں ایک مضمون ’’مجھے میرے دوستوں سے بچائو‘‘ پڑھا تھا اور یقین جانیں میرے سارے دوست سرور سکھیرا ہی کی طرح سنجیدہ، مدبر اور وضعدار ہیں۔

ان کا ذکر کسی اور کالم میں کروں گا۔ پہلے سرور سکھیرا سے نمٹ لوں، سکھیرا مجھ سے اور میں سکھیرا سے یہ جملہ سن سن کر اکتا چکے تھے کہ ’’بوڑھا ہو کر بہت پچھتا رہے ہیں‘‘ چنانچہ ایک دن میں نے سکھیرا سے کہا ’’یار یہ تو ٹھیک ہے کہ ہم نے بوڑھا ہونے کا غلط فیصلہ کیا، مگر اب اس کی تلافی کیسے ہو؟‘‘ میری بات سنتے ہوئے سکھیرا کے چہرے کی متانت قائم و دائم تھی اور جواب دیتے ہوئے اس میں مزید کچھ اضافہ ہوگیا۔

’’تمہارے پچھتاوے کا مداوا تو میں نے بتایا تھا، مگر آپ بیٹری والی وہیل چیئر اور نئے ڈینچر پر اٹھنے والے اخراجات سے گھبرا گئے حالانکہ میری کافی واقفیت ہے، میں آپ کو ارزاں نرخوں پر یہ دونوں چیزیں دلوا دیتا‘‘۔

جب میں نے دیکھا کہ سکھیرا اپنی آئی پر آیا ہوا ہے اور اس سے ہٹنے کو تیار نہیں تو میں نے انہیں مخاطب کیا اور کہا ’’برادر آپ کی میرے لئے محبت اور فکر مندی ہر شبے سے بالاتر ہے، مگر آپ کے پچھتاوے کے مداوا کے لئے میرا بھی تو کچھ فرض ہے کہ نہیں؟‘‘

بولے ’’وہ تو ہے مگر آپ کو کبھی اس کا خیال ہی نہیں آیا، کئی دفعہ فون پر رقت آمیز لہجے میں آپ سے گزارش بھی کی لیکن آپ تو حال مست ہیں، آپ کو کسی دوسرے کی پروا ہی نہیں‘‘ میں نے جواب دیا ’’سوری برادر میں واقعی حال مست رہا، اب ایک خیال ذہن میں آیا ہے آپ اگر اس پر عمل کریں تو کوئی دوسرا تو کیا، آپ خود بھی خود کو بوڑھا سمجھنا چھوڑ دیں گے‘‘۔

تب میں نے پکا سا منہ بنا کر انہیں کہا کہ وہ ایک بینڈ تیار کریں، آپ ماشاء اللہ صاحب ثروت ہیں، دوسرے آرٹسٹ اس کیلئے ہائر کریں اور آپ صرف ڈھول بجانا سیکھ لیں‘‘ سکھیرا کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری اور پوچھا ’’اس کے علاوہ‘‘

میں نے کہا ’’لمبے لمبے بال رکھ لیں اور ڈھول بجاتے ہوئے پکا سگریٹ پی لیا کریں تاکہ بالوں کا بکھرنا اور آپ کی وارفتگی اصلی لگے‘‘ سکھیرا کی مسکراہٹ برقرار تھی ’’پھر‘‘، ’’بس آخر میں اپنی چال میں ایک معمولی سی تبدیلی بھی کریں اور وہ لچک کی صورت میں ہو‘‘ اس کے بعد سے سکھیرا سے رابطہ نہیں ہوا، کوئی پتا نہیں موصوف کے دل کو میری بات لگی ہو۔