محمود غزنوی، تاریخ کا مظلوم ترین کردار - محمد عبدہ

دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر رومیلا تھاپر نے اپنی کتاب "سومنات: تاریخ کی بہت سی آوازیں'' (Somantha: the many voices of history) میں محمود غزنوی کے مشہور سومنات حملے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ اس نے سومنات مندر پر نویں صدی سے اٹھارویں صدی تک سنسکرت، گجراتی، ہندی، فارسی تمام زبانوں کے پرانے مخطوطے اور 1951ء میں سومناتھ کی تیسری کھدائی سے ملنے والے نوادرات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ خاص کر گیارھویں اور بارھویں صدی کے ہندو شاعروں کی شاعری اور کچھ سفرناموں کا خاص ذکر کیا ہے۔ ان کتبات میں میں سے کچھ تو محمود غزنوی کے حملے سے بھی پہلے کے ہیں۔

رومیلا تھاپر نے سینکڑوں کتابوں، مقالوں اور قدیم سنگی کتبوں کے حوالے سے یہ حقیقت دریافت کی ہے کہ سومنات جو سومنات پٹن، سوم شاور پٹن اور دیو پٹن کے نام سے بھی مشہور تھا۔ کبھی بھی محمود نے برباد نہ کیا۔ تھاپر کا کہنا ہے کہ ان زمانوں میں بڑے اور اہم مندروں کی جاگیریں ہوتی تھیں اور ان کے اندر نذرانوں کی صورت میں جمع شدہ بے پناہ دولت ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ جب کوئی ہندو راجہ بھی ان خطوں میں یلغار کرتا تو وہ بھی ان مندروں کو لوٹتا تھا اور اکثر اپنی فتح کی نشانی کے طورپر وہاں ایستادہ بت اپنے ساتھ لے جاتا تھا تو محمود نے بھی وہی کچھ کیا جو اس سے پیشتر ہندو راجے کرتے آئے تھے۔ لیکن سب کچھ ویسا نہیں ہوا جیسا آج بیان کیا جا رہا ہے۔ اس عہد کے کسی مخطوطے یا دریافت ہونے والے پتھر پر یہ نقش نہیں ہے کہ محمود کے حملے کے بعد سومنات اجڑ گیا بلکہ یہ درج ہے کہ اس کی یلغار کے بعد سومنات بدستور آباد رہا اور وہاں پرستش ہوتی رہی۔

رومیلا تھاپر کی تحقیق کے مطابق یہ انگریز حکمران تھے جنہوں نے ’’ تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی حکمت عملی کے تحت اس نظریے کو فروغ دیا، خاص طور پر1857ء کی جنگ آزادی کے بعد جس میں مسلمان اور ہندو یکساں طورپر شامل تھے اور یہ ہندوؤں کے لیے خاص تھا کہ دیکھو مسلمان تم پر کیسے کیسے ظلم ڈھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے سومنات کو برباد کر دیا جبکہ ہم تمھاری عبادت گاہوں کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس مہم کا آغاز گورنر جنرل لارڈ ایلن برو (Ellen brough) کی برطانوی پارلیمنٹ کی 1843ء کی اس بحث سے ہوتا ہے جسے (The proclamation of gates) یعنی دروازوں کی برآمدگی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دنیا کی کسی بھی کتاب اور زبان میں 1857ء سے پہلے محمود غزنوی کا بطور لٹیرا ذکر نہیں ملتا۔ وائسرائے ہند The Viscount Earl canning 1858-1862 Charles John نے جنگ آزادی کے بعد محمود بطور لٹیرا کا بھرپور پرچار کیا۔ اس نے برطانوی پارلیمنٹ میں ایک تقریر میں اس بات کا ذکر کیا جسے پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے منظور کرکے پورے ہندستان میں پھیلایا۔ اور برطانوی و ہندستان کے انگریزی اخبارات نے اس پر مسلسل لکھنا شروع کیا۔

تھاپر کا کہنا ہے کہ اب بھی لوک گیتوں میں محمود غزنوی کے گن گائے جاتے ہیں۔ سومنات کے فقیر اور سادھو محمود غزنوی کو ایک داستانوی ہیرو گردانتے ہیں۔ اگر وہ محض ایک لٹیرا ہوتا، مندروں کا دشمن ہوتا تو ہندو لوک گیتوں میں اس کی توصیف کیوں کی جاتی؟ بعدازاں ہم نے بھی انگریزوں کے تخلیق کردہ اس نظریے کو آنکھیں بند کر کے قبول کر لیا۔ تھاپر نے یہ بھی لکھا ہے کہ سومنات کے علاقے میں بے شمار مسلمان تاجر آباد تھے جو گھوڑوں کا بیوپار کرتے تھے۔ ان میں عرب بھی شامل تھے، جنہوں نے مقامی عورتوں سے شادی کر کے ہندوستانی تہذیب کو اپنا لیا تھا۔ مارکوپولو نے بھی اپنے سفرنامے میں سومنات اور گجرات کے علاقے کے بیوپاریوں کا ذکر کیا ہے، جو ایران سے گھوڑے لا کر ہندوستان میں فروخت کرتے تھے۔ یہ بیوپاری باہر سے گھوڑے، شراب اور دھاتیں درآمد کرتے تھے اور ہندوستان کے کپڑے، مصالحے، جواہرات، لکڑی اور تلواریں برآمد کرتے تھے۔ سومنات کا علاقہ تجارت کا ایک اہم مرکز تھا۔ تھاپر کی تحقیق کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کوہستان نمک میں جو مندر تھے وہ بہت غریب تھے، دولت صرف تھانیسر، ملتان اور سومنات کے مندروں میں تھی۔ ان مندروں سے حاصل ہونے والی دولت سے محمود کی فوج کی تنخواہیں دی جاتی تھیں، اور ان میں سے بیشتر ہندو ہوتے تھے اور ان مندروں پر حملہ کرنے والوں میں شامل ہوتے تھے۔ ہندوستان میں جتنے بھی فوجی بھرتی کیے جاتے تھے، ان کا کمانڈر بھی ہندوستانی ہوتا تھا جس کو سپہ سالار ہندوان کہا جاتا تھا اور وہ محمود کا وفادار ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   اس دور کا محمد بن قاسم آنے والا ہے - شیراز علی

محمود غزنوی کے دور کے دریافت شدہ کتبات جو جنرل آف ایشیاٹک سوسائٹی بنگال، ایپی گرافیا انڈیکا اور انڈین اینٹی کواری میں شائع ہوچکے ہیں۔

محمود غزنوی نے 1026ء میں سومنات پر حملہ کیا تھا، اس کے 12 سال بعد 1038ء میں گوا کے مقامی راجہ کدمب نے سومنات کا شاہی سفر کیا جس پر ایک سفرنامہ بھی لکھا تھا، جو سنسکرت زبان میں چھپا ہے۔ اس کے مطابق مندر کو تباہ نہیں کیا گیا بلکہ محمود کی فوجوں نے اس کی بےحرمتی کی تھی، اور سومنات مندر کی خطے میں سیاسی بالادستی ختم کی تھی۔ حملے کے بعد اسے دوبارہ مرمت کرلیا گیا تھا، اور مندر کی رونق برقرار رہی۔ گوا سے سومنات تک کے سفر کا ایک احوال 1125ء کی ایک تحریر میں بھی ملتا ہے۔ اس شاہی سفر میں بادشاہ کا جہاز سمندری طوفان میں تباہ ہوگیا تھا اور ایک عرب بیوپاری نے بادشاہ کی جان بچائی تھی۔ اس مدد کے عوض بادشاہ نے عرب بیوپاری کے پوتے کو ایک علاقے کا منتظم بنایا اور اسے مسجد بنانے کی اجازت دی تھی۔ بارھویں صدی کے گجراتی چولوکیا خاندان کے راجہ کمارپال کے مطابق راجستھان کا مگران مندر شان و شوکت میں سومنات سے کم تر تھا۔ سومنات کے قریب منگرال سے ملنے والے بارہویں صدی کے ایک کتبے کے مطابق سومنات مندر میں دیوی دیوتاؤں پر چڑھاووں کی صورت میں بہت مال آتا تھا۔

گیارھویں صدی کی ایک مہارانی نے حکم نامہ جاری کیا تھا کہ سومنات مندر آنے والے یاتریوں کے سفر کو ٹیکس فری کیا جائے اور وہ راستے میں دریا پل یا کسی مقامی راجہ کے علاقے سے گزرنے پر کوئی ٹیکس ادا نہ کریں۔ بارھویں صدی تک سومنات مندر اس قدر امیر ہو چکا تھا کہ سونے چاندی کے انبار لگ چکے تھے۔ چولوکیا بادشاہ کمارپال کے کتبے سے پتہ چلتا ہے، اس نے سومنات کے تحفظ کے لیے ایک گورنر مقرر کیا تھا جس کا کام مندر کی دولت کو مقامی ابہیرا راجاؤں کی ڈکیتی و لوٹ مار سے بچانا تھا۔ کمار پال نے بھاؤ براہسپتی کو 1169ء میں سومنات کا گند یعنی راہب اعلی مقرر کیا تھا۔ اس راہب اعلی کی اہم ذمہ داری مندر کو آباد رکھنا اور ویران ہونے سے بچانا تھا، کیونکہ محمود غزنوی کے بعد مندر خستہ حال ہو چکا تھا جس کا تعلق حملے سے نہیں بلکہ خستہ حالی کی ایک وجہ کل یگ یعنی بیوپاریوں کی جانب سے مندر کی مالی سرپرستی چھوڑ دینا تھا۔ دوسرا مندر کی عمارت بہت زیادہ پرانے ڈھنگ کی تھیں جن کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ تیسری وجہ مندر کے سمندر کے بہت قریب ہونے کی بنا پر سمندری لہریں اور نمی عمارت کو نقصان پہنچاتی تھی۔

اس کے کچھ سال بعد 1216ء میں اس وقت کا چولوکیا بادشاہ سومنات مندر کو مالوہ کے ہندو راجاؤں کی لوٹ مار سے بچاتا رہا تھا۔ بھدر کالی کے کتبے کے مطابق بھوبر ہسپتی کا دعوی ہے کہ وہ ہے جس نے کمارپال کو تیار کیا تھا کہ وہ مندر کو دوبارہ تعمیر کرے۔ اس کا کہنا ہے کہ اصل مندر سونے کا بنا ہوا تھا جس کو بعد میں سونا ہٹا کر چاندی کے مندر میں بدل دیا گیا اور آخر میں چاندی ہٹا کر پتھروں کا مندر بنا دیا گیا۔ مندر کی آمدنی اور بارے راہبوں کے معاوضے بڑھانے کے لیے برہمپوری گاؤں کے محصولات کا استعمال کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   اس دور کا محمد بن قاسم آنے والا ہے - شیراز علی

اتنے زیادہ تاریخی سنسکرت پراکرت اور جینی کتبات میں محمود غزنوی کے حملے کا ذکر نہ ہونا حیران کن ہے۔ ان میں اگر کچھ لکھا گیا ہے تو اتنا کہ مندر خستہ ہوگئے ہیں، ان کی تعمیر ضروری ہے اور مندر کے بتوں کے توڑنے کا جو ذکر آیا ہے، وہ سب مقامی ہندو راجاؤں کے بارے ہیں جو دولت لوٹنے کے لیے سومنات مندر پر حملے کرتے تھے۔ محمود غزنوی کے حملے اگر اتنے ہی سنگین جذبات کو زخمی کر دینے والے اور ناقابل برداشت ہوتے جیسا کہ اب دعوے کیے جاتے ہیں تو حملوں کے دو سو برس بیت جانے کے بعد ان کو اس طرح نہ بھلا دیا جاتا کہ کسی کتبے میں محمود غزنوی کی طرف سے مندر کی تباہی اور لوٹ مار کا ذکر نہیں ملتا۔ اگر ذکر ہے تو صرف اتنا کہ محمود واپس جاتے ہوئے سومنات پٹن میں ایک مختصر فوج چھوڑ کر دب شالم کو اپنا گورنر قائم کرگیا تھا۔

محمود غزنوی کے ایک معاصر شاعر دھن پال، جو مالوہ کے بھوج دربار کا شاعر تھا، نے اپنی شاعری میں محمود کی گجرات پر مہم کا ذکر کیا ہے۔ محمود راجستھان کے ستیہ پور کے مقام پر جین مندر میں مہاویر مجسمے کو توڑنے میں ناکام رہا، جبکہ سومنات کے بڑے بت کو توڑا ضرور مگر مندر کو تباہ اور مال کی لوٹ مار نہیں کی۔ اسی طرح پربھار سوری نے بھی لکھا ہے کہ محمود کے ہاتھی مہاویر مجسمے کو نہیں توڑ سکے تھے۔ حتی کہ کشمیر کا مشہور شاعر بلہانا جو محمود کے 50 سال بعد 1076ء میں سومنات آیا،۔ گجرات کے چولوکیا دربار میں رہا، ایک ناٹک کرن سندری بھی لکھا، گجرات کے لوگوں کے تفصیلی حالات لکھے اور محمود غزنوی کے ملتان میں اسماعیلی شیعوں پر حملہ کا تفصیلی ذکر کیا ہے، مگر محمود غزنوی کے سومنات حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

یہ ایک بڑی حیران کن بات نظر آتی ہے۔ محمود غزنوی کے سومنات حملے بارے جو وجوہات منسوب کی جاتی ہیں، گجرات میں غزنوی کے ہم عصر اور دو سو سال بعد تک مصنفوں و شعراء نے سومنات کی محمود کے ہاتھوں تباہی اور دولت کی لوٹ مار کا ذکر تک نہیں کیا۔ آج جتنی شدت سے محمود غزنوی کو لٹیرا ثابت کیا جاتا ہے، اگر یہ اتنا بڑا اور اہم واقعہ ہوتا تو اس دور میں کتابیں بھر دی جاتیں۔ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ سومنات کا حملہ بھی باقی دوسرے حملوں جیسے جواز اور نتائج رکھتا تھا۔ اور صدیوں تک محمود کو لٹیرا کے بجائے اچھے الفاظ میں یاد رکھا گیا۔ حقیقتاً یہ انگریز ہی تھے جنہوں نے اس سازشی تھیوری کا آغاز کیا، اور ہندوؤں میں نفرت کے بیج بوئے۔ پھر کچھ اپنے بھی اس رو میں بہک گئے۔ ہم نے اپنی نابینائی میں اس عظیم علم دوست فاتح محمود غزنوی کو صرف بت شکن اور لٹیرے کے درجے پر فائز کر کے اس کی قامت مختصر کردی ہے جو بقول ایڈورڈز گبنز مقدونیہ کے سکندراعظم سے بھی عظیم فاتح تھا۔