ماہِ ذوالحج کی اہمیت اورخصائص - مفتی محمد مبشر بدر

ماہِ ذوالحج ہجری تاریخ کا آخری مہینہ ہے۔ اس پر قمری سال کا اختتام ہوجاتا ہے، پھر محرم سے نئے سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس ماہِ مقدس کو بنیادی طور پر دو وجوہات سے منفرد اور امتیازی مقام حاصل ہے۔ اول یہ کہ اس ماہ کا شمار اشہرِ حُرُم یعنی حرمت والے چار مہینوں ( ذوالقعدہ، ذوالحج، محرم اور رجب) اور اشہر حج میں ہوتا ہے۔ اشہر حج یعنی حج والے مہینے جو کہ تین ہیں: شوال، ذوالقعدہ اورذوالحجہ کےپہلے دس دن ۔ اسی ماہ اسلام کے پانچویں رکن حج کی دائیگی کے لیے لوگ دور دراز مقامات سے سفر کرکے حرم شریف پہنچتے ہیں اور اپنے رب کے حضور فریضہ بجا لاتے ہیں۔ تبھی اس ماہ کو ذوالحجہ یعنی حج والا مہینہ کہا جاتا ہے۔یہ اس ماہ کی اہم خصوصیت ہے جو اسے باقی مہینوں سے ممتاز کرتی ہے۔

حج ارکان اسلام میں پانچویں نمبر پر آتا ہے۔ چنانچہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: " اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، لا الٰہ الا اللہ و اَن محمدا رسول اللہ کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، روزہ رکھنا اور اگر استطاعت ہو تو حج بیت اللہ کرنا۔" حج کی فرضیت کی تاریخ کے بارے پانچ ہجری ، چھے، نو اور دس ہجری کے اقوال ملتے ہیں جن میں آخری دو زیادہ راجح معلوم ہوتے ہیں۔ اسلام سے قبل بھی حج کی عبادت مشروع تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بعد کے لوگ حج کرتے تھے لیکن عمرو بن لحی نے جب عرب میں بت پرستی کو رواج دیا تو حج کے احکام اور طریقے میں بھی رد و بدل کیا گیا۔ہم ملتِ ابراہیمی ؑ پر ہیں اور حج سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی یاد گار ہے۔ تعمیر بیت اللہ کے بعد انہوں نے لوگوں کو حج کے لیے آواز دی تھی، جس کے جواب میں اس وقت سے اب تک لوگ دور دراز علاقوں سے سفر کرکے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں اور حکم ربی بجا لاتے ہیں۔

چنانچہ اللہ فرماتا ہے: وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (26 ) وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (27) (سورۃ الحج) ترجمہ: " اور جب کہ ہم نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کردی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف، قیام، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھنا۔ اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں جو ( لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔"

حج اور دیگر عبادات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ دیگر عبادات کہیں اور کسی وقت بھی ادا کی جاسکتی ہیں لیکن حج ایسا فریضہ ہے کہ مخصوص ایام (یعنی ذوالحجہ کے پانچ دن) میں مکہ مکرمہ کے مخصوص مقامات (یعنی مسجد حرام، مزدلفہ، منی اور عرفات) میں ہی ہوسکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے دس ہجری میں ایک ہی حج کیا جس میں آپ نے امت کو مکمل حج کا صحیح طریقہ سمجھا دیا، جسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ جس میں آپ ﷺ نے مشہور خطبہ ارشاد فرمایا جو بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی موقع پر نبی کریم ﷺ پر تکمیل دین کی آیت نازل ہوئی اور آپ نے اسلام کے بطورِ دین مکمل ہونے کا اعلان فرما دیا: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (سورۃ المائدۃ) ترجمہ: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین ( ہمیشہ کے لیے) پسند کرلیا۔"

اس ماہ کی دوسری بڑی امتیازی وجہ عید الاضحیٰ ہے۔جو دس ذو الحجہ کو پورے عالم اسلام میں عقیدت اور احترام سے منائی جاتی ہے۔سورہ کوثرمیں اس کا ذکر اس آیت فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ( پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر) میں ہے ۔ عید الاضحیٰ میں سنت ابراہیمی کی اتباع میں جانور کی قربانی کی جاتی ہے ۔ یہ قربانی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی یادگار ہے جب انہوں نے اللہ کے حکم سے اپنے عزیز از جاں لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری چلا کر اپنے رب کے نام پر قربان کرنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ کو سیدنا ابراہیم کی یہ ادا، جانثاری اور قربانی اس قدر پسند آئی کہ سیدنا اسماعیل کی جگہ ایک مینڈہا بھیج دیا اور بعد والے لوگوں میں یہ طریقہ جاری کردیا۔ یہ درحقیقت اس بات کا عملی اظہار تھا کہ ایک مؤمن کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ یہ جان، مال، اولاد اور خاندان سب کچھ اللہ کے حکم پر چھوڑنا پڑ جائے تو چھوڑا جاسکتا ہے لیکن اپنے خالق کو قطعاً نہیں چھوڑا جاسکتا۔ باوجود اس کے کہ اللہ کو ہمارے جان، مال اور اولاد کی کوئی ضرورت نہیں ۔ وہ تو اپنے بندوں کو نواز کر آزماتا ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ کی کتنی اہمیت اور محبت ہے۔

ویسے تو اس مبارک ماہ کے پہلے عشرے میں تکبیر وتہلیل مستحب اور پسندیدہ ہے، لیکن نو ذوالحجہ یعنی عرفہ کی نمازِ فجر کے بعد سے تیرہ ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد ایک بار تکبیرتشریق کہنا واجب ہے۔ مرد بلند آواز سے جب کہ خواتین آہستہ آواز سے پڑہتی ہیں۔ نماز عید الاضحیٰ کے لیے جاتے ہوئے راستے میں تکبیرات بلند آواز سے پڑھنی چاہییں۔ تکبیر تشریق یہ ہے: اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ و اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد

اللہ تعالیٰ نے سورہ فجر میں ذو الحجہ کے پہلے دس دن کی قسم اٹھائی ہے۔ نو ذوالحج یعنی یوم عرفہ کا روزہ رکھنامستحب اور باعث اجر ہے چنانچہ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: " عرفے کے دن روزہ رکھنے سے مجھے امید ہےکہ وہ گذشتہ اور آئندہ ( دو سالوں) کے گناہ معاف فرما دے گا۔" اسی طرح ترغیب عن البیہقی اور الطبرانی سے سند حسن کے ساتھ روایت مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: " عرفہ کا روزہ ہزار روزوں کے برابر ہے۔" لیکن ایام تشریق میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔