تحفظِ حقوقِ خواجہ سرا بِل، شرارت کیا ہے؟ - مفتی منیب الرحمن

امریکہ جب بھی جانا ہوا ، میرے پروگراموں کو نیوجرسی اسٹیٹ کے ممتاز عالمِ دین اور جماعتِ اہلسنت امریکہ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود احمد قادری ترتیب دیتے ہیں، وہ سال بھر میرے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ میں گزشتہ سال اپنی مصروفیات کی وجہ سے نہ جاسکا، جس پر انہیں مایوسی ہوئی اور شکوہ بھی رہا ہے۔

سو اس سال ان کے اصرار پر جانا پڑا ، لیکن دورے کے دورانیے میں کافی تخفیف کرنی پڑی، نیو یارک کے علامہ مدثر حسین اور علامہ مقصود احمد قادری میں کافی فکری مناسبت ہے اور ان کا فکری اشتراک دین ومسلک کے لیے بہت مفید ہے۔ رویتِ ہلال، حلال سرٹیفکیشن ،نمازوں کے اوقات اوروہاں کے درپیش حالات میں سفری امور سمیت چند موضوعات ایسے ہیں ،جن کے بارے میں تقریباً ہر مجلس میں سوال ہوتا ہے ،لیکن یہ موضوعات تفصیلی گفتگو کے متقاضی ہیں، ایک کالم میں ان سب کا احاطہ ممکن نہیں ہے ۔ میں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے یہ گزارش کرتا رہتا ہوں کہ آپ لوگ پاکستان میں مسلکی اور سیاسی وابستگی کے حوالے سے اپنی من پسند جماعتوں کا تعاون ضرور کریں، لیکن آپ پر یہ لازم نہیں ہے کہ پاکستان کی ہر سیاسی اور مذہبی جماعت کا ڈپلیکیٹ ایڈیشن امریکہ میں ضرور موجود ہواور اس بنا پر وہ اپنی تقسیم در تقسیم کا سلسلہ جاری رکھیں ، بلکہ آپ لوگوں کو امریکن مسلم اور امریکن پاکستانی کی حیثیت سے اپنا وزن ثابت کرنا چاہیے ،وہاں کی سیاسی جماعتوں اورکانگریس کے اراکین پر اپنی عددی قوت اورسیاسی رسوخ کے اعتبار سے اثر انداز ہونا چاہیے، جیساکہ وہاں کے یہود اور ہندو کرتے ہیں۔ نیز آپ کو اس کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ وہاں کے آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آپ کے حقوق کیا ہیں اور آپ اپنے مذہبی عقائد اور اقدار کا تحفظ کس حد تک کرسکتے ہیں۔

گزشتہ کالم میں ، میں نے عرض کیاتھا کہ میں 20 جون تا یکم جولائی امریکہ کے دورے پر تھا ،اس دوران میری ٹینیسی اسٹیٹ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی پروفیشنلز سے طویل نشست ہوئی اور بہت سے مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہ نشست میرے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتی ہے، اس سے اہلِ علم کے ساتھ تبادلۂ خیالات کا موقع ملتا ہے، ہم ایک دوسرے کے علم اور معلومات سے استفادہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، خواہ وہ امریکی شہری بن چکے ہوں، کو پاکستان کے بارے میں ہمیشہ فکر لاحق رہتی ہے اور اُن کی پاکستان سے وابستگی ہم سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں جو پیش رفت ہورہی ہو، اُس کا وہ گہری نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔ اُن میں ڈاکٹر خالد اعوان صاحب پیشے کے اعتبار سے عالمی شہرت یافتہ آئی سرجن ہیں، لیکن اُن کا تفسیر وحدیث اور اسلام کا مطالعہ بہت وسیع ہے، وہ قرآن وحدیث کی عہدِ حاضر پر تطبیق (Application) کا بھی ملکہ رکھتے ہیں۔

پس مِن جملہ زیرِ بحث امور میں سینیٹ آف پاکستان سے بعنوان: ’’Transgender Persons (Protection of Rights) Act, 2018‘‘ منظور کردہ بل بھی زیرِ بحث آیا ، کیونکہ ہمارے ہاں تو یہ کام اپنے آپ کو ماڈرن اور لبرل ثابت کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں، جبکہ وہ لوگ ان کے تباہ کُن اثرات کا شعوری طور پرمشاہدہ کررہے ہیں ، اُن کی اسلام سے محبت اور وابستگی بھی ہم سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے، نیز اُن کامغربی اقدار کا تقابلی مطالعہ محض نظری (Theoretical) نہیں ہے، بلکہ عملی اور مشاہداتی ہے اور فارسی کا مقولہ ہے: ’’شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘‘۔ Transgender Persons (Protection of Rights) Act, 2018 کے عنوان سے یہ بل 7 مارچ 2018ء کو سینیٹ آف پاکستان سے پاس کیا گیا، اس کی محرک تین خواتین سینیٹرز روبینہ خالد، روبینہ عرفان، کلثوم پروین اور سینیٹر کریم احمد خواجہ ہیں۔ ہرقانون کی طرح بظاہر یہ بھی تحفظِ حقوق کے نام پر پیش کیا گیا ہے، لیکن اس کے پیچھے Lesbians ،Gays ،By sexual اور Transgender (LGBT) نامی مغربی تنظیم ہے جس کا عالمی ایجنڈا ہے۔ اس دوران ’’تنظیم اتحادِ امت‘‘ کے زیر انتظام بعض مفتیان کرام کا یہ فتویٰ جاری ہوا:’’ایسے خواجہ سراؤں کے ساتھ، جن میں مردانہ علامات پائی جاتی ہیں، عام عورتیں اور ایسے خواجہ سراؤں کے ساتھ، جن میں نسوانی علامات پائی جاتی ہیں، عام مرد نکاح کر سکتے ہیں‘‘، انہوں نے مزید کہا: ’’ایسے خواجہ سرا جن میں مردوزن دونوں علامتیں پائی جاتی ہیں، انھیں شریعت میں خُنثیٰ مشکل کہاجاتا ہے، ان کے ساتھ کسی مرد و زن کا نکاح جائز نہیں ہے‘‘، نیز یہ کہ’’ خواجہ سراؤں کا جائیداد میں حصہ مقرر ہے‘‘۔ ہم حُسنِ ظن سے کام لیتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ ان مفتیانِ کرام نے مذکورہ بل کا انگریزی متن نہ پوری معنویت کے ساتھ پڑھا اور سمجھا ہوگا اور نہ انہیں اس کے عالَمی محرکات اور مابعد اثرات کا اندازہ ہوگا۔

ظاہر سی بات ہے کہ جس شخص میں مردانہ خصوصیات و علامات پائی جاتی ہیں، وہ مرد ہے اور جس میں زنانہ خصوصیات وعلامات پائی جاتی ہیں، وہ عورت ہے، اس پر خواجہ سرا کا اطلاق بےمعنی ہے۔ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات نے ہمیں بتایا کہ ہم جنس پرستوں کے گروپLGBT نے بعض عالمی ذرائع ابلاغ میں اسے اپنی فتح سے تعبیر کیا اور کہا: ’’مسلم علماء نے Transgender کے حقوق تسلیم کرلیے ہیں‘‘۔ ’’دی ٹیلی گراف‘‘ نے لکھا : ’’پاکستان میں Transgender لوگوں کا اب تک آپس میں شادی کرنا ناممکن تھا، کیونکہ وہاں قومِ لوط کا عمل کرنے والے لوگوں کی شادی پر عمر قید کی سزا دی جاتی ہے‘‘۔ یعنی انہوں نے ہیجڑہ کا ترجمہ Transgender کر کے فتویٰ کو قومِ لوط کے ہر قسم کے عمل کے جواز پر محمول کر دیا، کیونکہ LGBT ان کی آرگنائزیشن کا نام ہے۔ اس میں Lesbian سے مراد ہم جنس پرست یعنی مَساحقہ عورتیں، Gays سے مراد ہم جنس پرست مرد، By sexual سے مراد جو مرد اور عورت دونوں سے جنسی تعلق رکھے اور Transgender سے مراد خواجہ سرا ہیں۔ عوام کے نزدیکLGBT سے ہم جنس پرست مراد لیے جاتے ہیں، جبکہ خاص طور پر ہیجڑا یا خُنثیٰ مشکل کے لیے انگریزی میں خاص اصطلاح Hermaphrodite آتی ہے،

ان کے جنسی اعضاء میں مردانہ خصوصیات غالب ہوں تو مرد اور نسوانی خصوصیات غالب ہوں تو عورت کہلاتے ہیں، جبکہ سینٹ نے Transgender کے حقوق کے بارے میں بل پاس کیا ہے، اسے مغرب میں LGBT گروپ اپنے من پسند میں استعمال کرتا ہے، جس میں ہرقسم کی بے راہ روی شامل ہے۔ ایک Transgender وہ ہے جودوجنسوں کے درمیان ہے، اس کے جنسی اعضاء مرد اور عورت کا مرکب ہیں، یعنی غیر متعیّن ہیں ، اسے ہیجڑا کہتے ہیں ۔ایک’’ زنخا‘‘ہے ،اسے انگریزی میں Eunuch کہتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جومردانہ جنسی اعضاء کے ساتھ پیدا ہوئے ،مگر بلوغت سے پہلے جنسی اعضاء کو خصی کردیا یا کاٹ دیا گیا، قدیم زمانے میں پوپ اپنے مذہبی گیت گانے والوں سے یہ سلوک کرتے تھے تاکہ اُن کی نرم اور پرکشش آواز برقرار رہے۔

LGBT گروپ میں ایسے لوگ ہیں کہ ایک امریکی فوجی افسر نے کہا: مجھے لگتا ہے کہ میں عورت ہوں اور پھر اس نے اپنی عادات واطوار تبدیل کرنا شروع کردیں اور ظاہر ہے کہ اس میں ڈاکٹروں اور پلاسٹک سرجنز کی مدد بھی حاصل کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ بھی موجود ہے :ایک شخص نے کہا: مجھے لگتا ہے کہ میں بلی ہوں ،پھر اس نے پلاسٹک سرجری کے ذریعے اپنا چہرہ بلی جیسا بنوایا ،اپنے ہاتھ پائوں میں بلی جیسے ناخن لگوائے اور دُم بھی لگوالی ،سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر موجود ہیں ،اسے’’ کیٹ مین ‘‘کہاجاتا ہے۔

اس میں فن کاری یہ ہے کہ ہیجڑا (Hermaphrodite) پیدائشی طور پر جنسی اعتبار سے جدا صفات کا حامل ہوتا ہے، جبکہ Transgender کا مطلب ہے: ’’وہ افراد جو پیدائشی طور پر جنسی اعضایا علامات کے اعتبار سے مرد یا عورت کی مکمل صفات رکھتے ہیں، مگر بعد میں کسی مرحلے پر مرد اپنے آپ کو عورت اور عورت اپنے آپ کو مرد بنانے کی خواہش میں اس جیسی عادات واطوار اور لباس اختیارکرلیتے ہیں اور اس کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں اور ڈاکٹر مرد کو عورت کے اور عورت کو مرد کے ہارمونز کچھ عرصے کے لیے استعمال کراتے ہیں۔ اس طرح مرد کے جسم کے بال جھڑنے لگتے ہیں، پٹھے نرم وملائم ہونے لگتے ہیں، سینے میں ابھار آتا ہے اور مرد کے آلۂ تناسل کو پلاسٹک سرجری سے نکال کر نسوانی ساخت بناتے ہیں۔ اسی طرح مردانہ ہارمونز کے ذریعے عورت کی جسمانی ساخت وخصوصیات میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور بعض صورتوں میں بعد از مرگ اپنے تمام اعضاہبہ کرنے والے کسی مرد کا آلۂ تناسل بھی پلاسٹک سرجری کے ذریعے ٹرانسپلانٹ کردیتے ہیں۔ اس سے نہ تومرد میں عورت کی پوری استعداد پیدا ہوتی ہے کہ حمل قرار پائے اور بچے پیداہونے لگیں اورنہ عورت میں مرد کی پوری استعداد پیدا ہوتی ہے کہ اس میں توالد وتناسل کی صلاحیت پیدا ہوجائے، مگر یہ شغل وہاں رواج پارہا ہے۔

اسی کو قرآن کریم نے تغییرِ خَلق سے تعبیر کیا ہے کہ جب ازراہِ تکبر وحسد ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا ، اللہ تعالیٰ نے اسے راندۂ درگاہ کرتے ہوئے فرمایا:’’تو جنت سے نکل جا،بے شک تو راندۂ درگاہ ہے اور بے شک تجھ پر قیامت تک لعنت ہے ،(الحجر:34-35)‘‘۔ ’’شیطان نے قسم کھاتے ہوئے کہا: میں تیرے بندوں میں سے ایک معیّن حصہ ضرور لوں گا، ان کولازماً گمراہ کروں گا، ان کوضرور (جھوٹی) آرزوئوں کے جال میں پھنسائوں گا،انہیں ضرورحکم دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان کاٹیں گے اور انہیں لازماًحکم دوں گا تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بگاڑ دیں گے، (النساء:118-119)‘‘۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’(اے لوگو!) اپنے آپ کو اللہ کی بنائی ہوئی اس خلقت پر قائم رکھو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے ،اللہ کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، (الروم:30)‘‘۔ اسی بات کو حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے: ’’ہر بچہ دینِ فطرت پر پیدا ہوتاہے۔ (بخاری: 1358)‘‘۔

قدرتی طور پر کسی کا مُخَنَّث یا ہیجڑا پیدا ہونا اُس کا ذاتی عیب نہیں ہے ،اس بنا پر نہ اُسے حقیر سمجھنا چاہیے اور نہ اُسے ملامت کرنا چاہیے ،کیونکہ ملامت کرنے کا جوازاس ناروا فعل پر ہوتا ہے ،جس کا ارتکاب کوئی اپنے اختیار سے کرے اور جسے ترک کرنے پر اُسے پوری قدرت حاصل ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اللہ کسی متنفّس کو اُس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا ،اُس کے لیے اپنے کیے ہوئے ہر(نیک)عمل کی جزا ہے اورہر (برے) عمل کی سزا ہے ،(البقرہ:286)‘‘۔ لیکن جیساکہ سطورِ بالا میں بیان ہوا: ’’مغرب میں Transgender اپنی مرضی سے جنس تبدیل کرتے ہیں ، جس جنس پر اُن کی تخلیق ہوئی ہے، مصنوعی طریقوں سے اُسے بدل دیتے ہیں، ہم جنس پرستی کے ذریعے لذت حاصل کرتے ہیں، جبکہ اس کے بارے میں بڑی وعید آئی ہے۔

قومِ لوط کے بارے میں فرمایا: ’’اورلوط کویاد کروجب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم ایسی بے حیائی کرتے ہوجو تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کی تھی، بے شک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس نفسانی خواہش کے لیے آتے ہو ،بلکہ تم (حیوانوں کی) حد سے (بھی) تجاوز کرنے والے ہو۔ (الاعراف:80-81)‘‘۔ آگے چل کر فرمایا (1): ’’اور ہم نے اُن پر پتھر برسائے، سو دیکھو مجرموں کا کیسا انجام ہوا۔ (الاعراف:84)‘‘۔ (2)’’پس جب ہمارا عذاب آ پہنچا تو ہم نے اس بستی کا اوپر والا حصہ نیچے والا بنا دیا اور ہم نے ان کے اوپر لگاتار پتھر کے کنکر برسائے جوآپ کے رب کی طرف سے (اپنے ہدف کے لیے) نشان زَد ہ تھے اور یہ سزا ظالموں سے کچھ دور نہ تھی۔ (ہود:82-83)‘‘۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’مجھے اپنی امت کی بربادی کا جس چیز سے زیادہ خوف ہے، وہ قومِ لوط کا عمل ہے۔ (سنن ترمذی:1457)‘‘۔

سو ہمارے پرجوش مفتیانِ کرام کو چاہیے کہ کسی جدید مسئلے پر فتویٰ جاری کرنے سے پہلے اس کے عواقب پر ضرور غور فرمائیں یا اپنے اکابر سے مشاورت کرلیا کریں، جن باتوں کے فروغ کے پسِ پردہ این جی اوز کارفرما ہوں اور وہ اتنی مؤثر ہوں کہ ارکانِ پارلیمنٹ کے تساہُل اور شہرت پسندی کے سبب پارلیمنٹ کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتی ہوں، تو یقینا اُن کے پیچھے عالمی ایجنڈا اور دور رس و دیرپا مقاصد ہوتے ہیں، پھر وہ معاملات کی تشریح اپنے مقاصد کے تحت کرتے ہیں اور کسی قسم کی لفظی ہیر پھیر سے گریز نہیں کرتے، نیز جب ایک لفظ یا اصطلاح متعدد یا متضاد معانی کی حامل ہو تو اس کے بارے میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

سینٹ میں پاس کردہ ’’تحفظِ حقوقِ خواجہ سرابِل‘‘ میں بھی یہ شرارت شامل ہے۔ بِل کی دفعہ 3 میں کہا گیا ہے :’’(۱) ایک Transgender Person کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اُسے اس کے اپنے خیال یا گمان یا زعم (Self Perceived) کے مطابق خواجہ سرا تسلیم کیا جائے‘‘۔ یعنی اس سے قطع نظر کہ وہ پیدائشی طور پر مردانہ خصوصیات کاحامل تھا یا زنانہ، وہ اپنے بارے میں جیساگمان کرے یا وہ جیسا بننا چاہے، اس کے اس دعوے کو تسلیم کرنا پڑے گا اور ذیلی سیکشن 2 میں کہا گیا ہے کہ نادرا سمیت تمام سرکاری محکموں کو اس کے اپنے دعوے کے مطابق اُسے مرد یا عورت تسلیم کرنا ہوگا، اور اپنی طے کردہ جنس کے مطابق اُسے نادرا سے قومی شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، چلڈرن رجسٹریشن سرٹیفکیٹ وغیرہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

اس بل میں یہی وہ شق ہے جو مغرب میں LGBT گروپ کے مقاصد کی تکمیل کا سبب بنتی ہے، تحفظِ حقوقِ خواجہ سرا بل کے نام پر یہی وہ روزن ہے، جہاں سے نقب لگایا جا سکتا ہے۔ ہمیں غالب یقین ہے کہ جن چار سینیٹرز کی طرف سے یہ بل سینٹ میں پیش کیا گیا ہے، انہیں بھی اس کے عواقب اور اس کی بنیادوں میں نصب کردہ بارود (Dynamite) کا علم نہیں ہوگا۔ عالَم غیب سے ان کے ہاتھ میں ایک چیز تھما دی گئی اور انہوں نے سینیٹ میں قانون سازی کے لیے تحریک پیش کر دی۔ سینیٹ میں پاس شدہ ’’چائلڈ میرج ایکٹ‘‘ میں ترمیمی بل تو سرِدست بےاثر ہوگیا، کیونکہ اُسے کسی نے اسمبلی میں پیش نہیں کیا، لیکن تازہ ترین معلومات کے مطابق’’خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کا بِل‘‘ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہونے کے بعدایکٹ یعنی قانون بن چکا ہے۔ ملاحظہ ہو: ’’دی گزٹ آف پاکستان، اشاعت:24مئی 2018ء‘‘۔

اصولی طور پر تو کسی شخص کی پیدائش کے وقت جنسی اعتبار سے جو علامات ظاہر ہوں، انھی کے مطابق ان کا جنسی تشخّص مقرر کیا جانا چاہیے، لیکن اگر کسی کا دعویٰ ہو کہ بعد میں فطری ارتقا کے طور پر کسی کی جنس میں تغیر آگیا ہے، تو اس کا فیصلہ میڈیکل ایگزامینشن یعنی طبی معائنے سے ہونا چاہیے نہ کہ اسے کسی شخص کے ذاتی خیال یا گمان یا خواہش پر چھوڑ دیا جائے، جیساکہ اس بل میں کہا گیا ہے اور یہی عالمی سطح پر LGBT گروپ کا ایجنڈا ہے اور اسے مغرب میں پذیرائی مل رہی ہے۔ دینی تعلیمات اور دینی اقدار میں تو اس کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ ہماری تہذیبی روایات اور معاشرتی اقدار میں بھی اس کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ تو زرخیز زمین میں ببول کا درخت اگانے کی مذموم کوشش ہے، جس کا راستہ پرامن طریقے سے روکنا ہرمسلمان اور پاکستانی کی ذمے داری ہے، خاص طور پر ارکانِ پارلیمنٹ پر اس کی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ بیشتر ارکانِ پارلیمنٹ یا تو اپنی پارٹی کی ہدایات کے پابند ہوتے ہیں اور یا وہ اس طرح کے قانونی مسوّدوں کے اسرار ورموز کو جاننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، یہ بات ناگوار ضرور ہے، لیکن حقیقت یہی ہے۔ اسی لیے پارلیمانی کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، تاکہ ہر مسوّدۂ قانون کا گہرا جائزہ لیا جائے، ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے اس پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں تحقیق کی جائے اور اگر کوئی مسودۂ قانون فنی امور سے متعلق ہے، تو اس شعبے کے متخصصین اور فنی ماہرین کو بلا کر پارلیمنٹ کی کمیٹی آگہی اور رہنمائی حاصل کرسکتی ہے۔

اس بل میں ایک اور تضاد بھی ہے: اس بل کی دفعہ 4 ذیلی دفعہ E میں کہا گیا ہے: ’’ہرطرح کے سامان، رہائش گاہ، خدمات، سہولتوں، فوائد، استحقاق یا مواقع جو عام پبلک کے لیے وقف ہوتے ہیں یا رواجی طور پر عوام کو دستیاب ہوتے ہیں، خواجہ سراؤں کے لیے اُن سے استفادے یا راحت حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی‘‘، جبکہ دفعہ 6 کی ذیلی دفعہ E میں کہا گیا ہے: ’’خواجہ سراؤں کے لیے خصوصی جیل خانے، حفاظتی تحویل میں لیے جانے کے مقامات وغیرہ الگ بنائے جائیں‘‘۔ آپ نے غور فرمایا: جیل خانے یا Confinement Cells تو خواجہ سراؤں کے لیے الگ ہونے چاہییں، لیکن عام پبلک مقامات تک اُن کی رسائی کسی رکاوٹ کے بغیر ہونی چاہیے، مثلاً: کوئی مردانہ خصوصیات کا حامل خواجہ سرا ہے تو وہ بلا تردد زنانہ ٹوائلٹ اور واش روم بھی جاسکتا ہے، وغیرہ۔ الغرض ایک طرف مرد و زن کی تمیز کے بغیر عوامی مقامات پر کسی رکاوٹ کے بغیر رسائی کا مطالبہ ہے اور دوسری طرف خصوصی جیل اور حفاظت خانوں کا مطالبہ ہے، اس تضاد کے کیا معنی ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ اگر کوئی مسلمان لڑکی کسی آشنا کے ساتھ چلی جاتی ہے اور اس کے سرپرست رسائی اور تحویل میں لینے کے لیے عدالت سے رجوع کرتے ہیں تو عدالت اُسے ’’دارالامان‘‘ بھیج دیتی ہے، لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے دو نومسلم ہندو لڑکیوں کو اُن کے ہندو ماں باپ کی تحویل میں دیا، ایسے تضادات ناقابلِ فہم ہیں۔

خواجہ سرا کے لیے وراثت میں حصہ: بل کی دفعہ7 کی ذیلی دفعہ 3 (III) میں کہا گیا ہے (a):’’اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے پر وراثت میں مرد خواجہ سرا کے لیے مرد کے برابر حصہ ہوگا‘‘، (b) میں کہا گیا ہے: ’’زنانہ خواجہ سرا کے لیے عورت کے برابر حصہ ہوگا ‘‘، (c) میں کہا گیا ہے: ’’وہ خواجہ سرا جو مذکر اور مؤنث دونوں خصوصیات کا حامل ہو، یا اس کی جنس واضح نہ ہو، تواُسے مرد اور عورت دونوں کی اوسط کے برابر حصہ ملے گا، (d) میں کہا گیا ہے : اٹھارہ سال سے کم عمر ہونے کی صورت میں اس کی جنس کا تعیُّن میڈیکل آفیسر طے کرے گا۔

اسلام میں اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ عمر یا کم از کم عمر کے وارث کا وراثت میں حصہ ایک ہی ہے، اس میں عمر کے لحاظ سے کوئی تفاوت نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر مُورِث کی وفات کے وقت کسی وارث کی عمر ایک دن یا چند دن تھی، تو وہ بھی اپنی صِنف کے اعتبار سے برابر کا حصے دار ہوگا۔ نیز صنف کا تعیُّن پیدائش کے وقت سے ہی ہوجاتا ہے، اس کا تعلق کسی کے اپنے گمان و خیال یا خواہش سے نہیں ہے، اور اگر اس بارے میں کوئی ابہام ہے اور طبی معائنے سے طے کرنا ہے، تو بھی اس میں اٹھارہ سال یا اس سے کم عمر میں کوئی تفریق روا نہیں رکھی جا سکتی۔ Self Perception یعنی کسی کی اپنی خواہش پر جنس کے تعیُّن کے معنی یہ ہیں کہ وہ عورت ہوتے ہوئے اپنے آپ کو مرد قرار دے دے، تو اس کا حصہ عورت کے مقابلے میں دگنا ہوجائے گا، شریعت میں اس کی گنجائش نہیں ہے، سو شریعت کی رُو سے اس بل میں یہ بہت بڑا تضاد اور ابہام ہے۔ نوٹ:خُنثٰی کی وراثت پر ہم الگ سے تفصیلی فتویٰ لکھ رہے ہیں۔

احادیثِ مبارکہ میں نسوانی وضع اختیارکرنے والے مردوں اور مردانہ وضع اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی گئی ہے: (1) ’’حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں: نبی ﷺ نے اُن مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کی وضع اختیار کرتے ہیں اور اُن عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردوں کی وضع اختیار کرتی ہیں، اور فرمایا: انھیں اپنے گھروں سے نکال دو، انہوں نے کہا: حضرت عمر نے بھی ایسے ایک شخص کو گھر سے نکال دیا۔ (بخاری:5886)‘‘۔ (2)’’اللہ تعالیٰ نے زنانہ صورت اختیار کرنے والے مردوں اور مردانہ صورت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (مسند احمد:3151)‘‘۔ (3)’’حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں : نبی ﷺ کے سامنے ایک مُخَنَّث لایا گیا جس کے ہاتھ اور پاؤں پر مہندی لگی ہوئی تھی، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا گیا: یہ عورتوں سے مشابہت کرتا ہے، آپ نے اُسے مدینہ منورہ سے نکالنے کا حکم دیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! ہم اسے قتل نہ کر دیں؟، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے مسلمانوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (سنن ابودائود: 4928)‘‘۔ (4)’’حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خواجہ سرا حضور کے گھر آیا کرتا تھا، ایک بار آپ نے اُسے ایک عورت کی جسمانی ساخت پر گفتگو کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: اسے گھروں سے نکال دو۔ (ابودائود:4929)‘‘۔(5)’’حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے زنانہ لباس پہننے والے مردوں پر اور مردانہ لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ (سنن ابودائود: 4098)‘‘۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.