میں نے صبر کرنا ایک چھوٹے بچے سے سیکھا - محمد سلیم

فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ دوسری صدی ھجری کے علماء میں سے ہیں ، سمرقندی ہیں ۔ علم میں ثقہ شمار ہوئے ہیں ، ان کے زمانے کے علماء ان کے بارے مین کہتے تھے کہ آج روئے زمین پر ان سے بہتر شخص اب کوئی نہیں ہے ۔ آپ 107 ھجری میں سمرقند اوزبکستان میں پیدا ہوئے اور 187 ھجری میں مکہ میں وصال فرمایا ۔ آپ نے اموی اور عباسی دونوں زمانے دیکھے ہیں ۔ اھل سنت کے عقیدہ پر تھے، امام شافعی آپ کے شاگردوں میں سے ایک ہیں ۔

آپ کہتے ہیں کہ میں نے صبر کرنا ایک چھوٹے بچے سے سیکھا۔ فرماتے ہیں : ایک بار میں مسجد جا رہا تھا کہ میں نے راستے میں ایک گھر سے ایک بچے کی رونے چلانے اور چیخنے کی آوازیں سنیں جسے اُس کی ماں بہت ہی برے طریقے سے چیخ چیخ کر مار رہی تھی۔ بچہ ماں سے اپنی جان چھڑا کر، دروازہ کھول کر بھاگ نکلا ۔ اور ماں نے پیچھے سے دروازہ دھڑام سے بند کر لیا۔

کہتے ہیں: پہلے پہل تو بچہ اپنے جسم پر پڑی مار کو روتے روتے سہلاتا رہا۔ پھر دائیں بائیں دیکھا تو کوئی اسے دلاسہ یا سہارا دینے والا نہیں تھا۔ اب اسے اپنی ماں ہی واحد ہستی نظر آئی جس کے پاس جا کر اپنے غم کا مداوا کر سکے۔ واپس گھر کی طرف گیا تو کواڑ سختی سے بند تھے۔ بچے نے اپنے گال دروازے کی چوکھٹ پر رکھے اور سو گیا۔ کافی دیر کے بعد بچے کی ماں نے جب دروازہ کھولا اور اپنے لال کو چوکھٹ پر ایسے حال میں سوتے پایا تو شفقت سے اس پر گر سی گئی۔ بچے کو اٹھا کر سینے سے لگایا، چوما، پیار کیا، اس کا چہرہ صافٖ کیا اور بھرائی ہوئی آواز میں بچے سے کہا: میری جان، کدھر چلے گئے تھے؟ کون ہے میرے سوا جو تیرا خیال رکھے گا؟ تجھے روز کہتی ہوں مجھے تنگ نہ کیا کر، میرا کہنا مانا کر، مگر تو ہے کہ میری سنتا ہی نہیں، مجھے بہت ستاتا ہے۔ اور پھر بچے کو اٹھائے، سینے سے لگائے گھر میں اندر چلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   کدھر جائیں؟ محمد وقار بھٹی

فضیل بن عیاض یہ ماجرا دیکھ کر اتنا روئے کہ داڑھی آنسوؤں سے تربتر ہو گئی: کہنے لگے، سبحان اللہ، اگر انسان اللہ کی چوکھٹ پر تھوڑا سا صبر کر کے رکا رہے تو اللہ تعالٰ ضرور اس کیلیئے اپنے در وا کرے گا۔ صحابی جلیل سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے: دعائیں سنجیدگی سے اور پورے اخلاص کے ساتھ مانگا کرو، جو دعائیں زیادہ مانگتا ہے وہ گویا دروازے کو بار بار کھٹکھٹاتا ہے، ضروری ہے کہ اس کیلیئے دروازہ کھلے ہی گا۔