ڈاکٹر صاحب، چند یادیں چند باتیں - راؤ اسامہ منور

سوموار کی شام عدنان فیصل بھائی کو کسی کام کے سلسلے میں فون کیا، سلام دعا کے بعد انہوں نے "انا للہ وانا الیہ راجعون" پڑھا تو دل یکبارگی کانپ اُٹھا، پہلا خیال ذہن میں ڈاکٹر صاحب کا آیا لیکن پھر سوچا کہ ڈاکٹر صاحب کیسے ہوسکتے ہیں؟ آج ہی تو ہم ان کے گھر کلامِ الٰہی اور وظائف کی تلاوت کر کے آئے ہیں تاکہ ان پر سے بُرے اثرات ختم ہو سکیں، لیکن عدنان بھائی سے استفسار پر خدشہ درست نکلا۔ ان کے الفاظ "ڈاکٹر صاحب اللّٰہ کو پیارے ہوگئے" سن کر چند لمحے تو دل و دماغ سُن ہوگئے، پھر زباں سے "انا للہ" کا کلمہ اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

وفات سے دو دن پہلے ڈاکٹر سید وسیم اختر کوما میں چلے گئے تھے، اس سے پہلے کی کیفیت شیخ نعیم صاحب جو اس وقت وہیں تھے، بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ "مجھے وضو کرواؤ اور نماز پڑھواؤ"۔ بار بار یہی الفاظ دہرائے جا رہے تھے، پھر آخر میں ان کے منہ سے "یا رحمٰن" نکلا اور اس کے بعد کوما کی کیفیت طاری ہوگئی۔ بےشک اللہ بڑی غیرت والی ہستی ہے کہ جو بندہ تاحیات اس کا نام پکارتا رہا، آخری سانس لیتے وقت بھی اُس نے اپنے بندے کو اپنا نام پکارنے کی توفیق دے دی، بےشک یہ اپنے حقیر بندے پر اس کا بڑا انعام تھا۔

"ڈاکٹر صاحب" .... یہ نام پہلی دفعہ یاد نہیں کب سنا، ہاں اتنا یاد ہے کہ ہوش سنبھالتے ہی یہ نام کانوں میں پڑنا شروع ہوگیا تھا، گھر میں بھی اور باہر بھی، لوگوں سے کسی نہ کسی حوالے سے سنتے رہتے۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کیسی تھی؟ اس چیز کا ایک مختصر سی تحریر میں احاطہ کرنا ممکن نہیں، اس لیے کہ ان کی شفقت، محبت، سیاست، خدمت اور تنظیمی زندگی کے اَن گنت واقعات ہیں جن کو ناقابلِ فراموش کہا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر سید وسیم اختر 9 ستمبر 1954ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، والد سید اختر حسین شاہ فوج میں اکاؤنٹس کے شعبے سے وابستہ تھے، جنھوں نے ایک دیانت دار افسر کی حیثیت سے ساری زندگی گزاری۔ ڈاکٹر صاحب کی والدہ رشتے میں امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی نواسی تھیں، ڈاکٹر صاحب نے والدہ کے زیر سایہ تربیت پائی۔ ابتدائی تعلیم لاہور سے جبکہ میٹرک اور انٹر کی تعلیم راولپنڈی سے حاصل کی، اس کے بعد قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور میں داخلہ ہوگیا تو بہاولپور آ گئے اور تا دمِ آخر اسی شہر کے ہو کر رہ گئے۔

قائداعظم میڈیکل کالج میں اسلامی جمعیت طلبہ نے ان کے اندر چھپے قائد، مربی اور ایک بہترین انسان کو دیکھ لیا تھا، لہٰذا انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے تنظیمی ربط رکھنا شروع کیا اور کچھ ہی عرصے میں ڈاکٹر صاحب اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بنے اور بعد ازاں میڈیکل کالج کی یونین کے صدر منتخب ہو گئے۔ اس دوران ڈاکٹر صاحب کی قائدانہ صلاحیتیں سامنے آئیں جب انھوں نے صدر کی حیثیت سے خوش اسلوبی سے سارے فرائض سرانجام دینا شروع کیے اور طلبہ کے اندر مثبت سرگرمیوں کے فروغ کا کام شروع کیا۔

ڈاکٹر صاحب روایتی سیاست دانوں کی طرح جیت کر خالی خولی بڑھکیں مارنے اور افتتاحی منصوبوں کا بار بار افتتاح کرنے والی روایت پر نہیں تھے، بلکہ وہ اسمبلی اجلاسوں میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کرتے، دلیل کے ساتھ اپنی بات رکھتے اور حلقے کے حقوق کا بھرپور دفاع کرتے. یہی وجہ تھی کہ ان کے گزشتہ دور میں (2013 تا 2018) جب وہ ممبر صوبائی اسمبلی تھے، انھوں نے اپنے حلقے کے لیے حکومتی MPA's سے بھی زیادہ بجٹ منظور کروایا اور اس کی حلقے میں بہترین تقسیم بھی کی، شہرِ بہاولپور کی خوبصورتی اور یہاں پر صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی آج بھی اُن کی اس خوبی اور محنت کی گواہی دے رہی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   دی لیگیسی آف اے ہاؤس وائف - اسعد عمران

ایک دلچسپ واقعہ جو ان کے کامیاب پارلیمنٹیرین ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ ایک دفعہ اسمبلی اجلاس کے دوران ڈپٹی سپیکر صاحب کی طرف سے انھیں ایک پرچی آئی، اس پر اجلاس کے وقفے میں علیحدہ ملنے کی گزارش کی گئی تھی۔ جب وقفے میں ڈپٹی سپیکر سے ملے تو اس نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب فلاں فلاں حلقے کے ایم پی اے چونکہ خود حکومتی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا وہ اسمبلی میں اپنے ہی وزیراعلیٰ کے خلاف حلقے کے مسائل سے متعلق آواز اٹھانے سے گھبراتے ہیں، آپ ان کے حلقے کے مسائل پر بھی اسمبلی میں بات رکھ دیں، لہٰذا ڈاکٹر صاحب نے ان کی یہ بات تسلیم کر لی اور دوسرے حلقوں کے مسائل پر بھی آواز اٹھائی. اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نہ صرف اپنوں کے بلکہ مخالفین کے بھی ہمدرد تھے. ان کی اسی کارکردگی کی بدولت "فافن" نے انہیں کامیاب پارلیمنٹیرین قرار دیا.

جرات و شجاعت بھی ان کی ایک ایسی صفت تھی جو انھیں حقیقی لیڈر کے مرتبے پر فائز کرتی تھی. ایک دفعہ الیکشن کمپین کے دوران کسی علاقے میں گئے تو وہاں جماعت کا کوئی پوسٹر یا بینر وغیرہ موجود نہ پایا، وہاں کے ذمہ داران سے اس بابت استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ مخالف اُمیدوار (جو ایک چھٹا ہوا بدمعاش تھا) کے غنڈے پوسٹرز اتار دیتے ہیں، یہ علاقہ ان کا گڑھ ہے تو ہم کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب گاڑی سے اُترے اور پیدل ہی اس امیدوار کے دفتر کی طرف چل پڑے۔ اسے خبر ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب آ رہے ہیں، پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ چھٹا ہوا بدمعاش جو بات بات پر گولی چلانے کا عادی تھا، بغیر وقت ضائع کیے اٹھا اور وہاں سے بھاگ نکلا، حالات بہتر ہونے پر واپس آیا تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب اس کے دفتر میں پوسٹرز اور بینرز چھوڑ گئے ہیں. پھر اسے جرات نہ ہوئی کہ کمپین میں کوئی مسائل پیدا کرتا.

ڈاکٹر صاحب نے بہاولپور میں جماعت اسلامی کے ایک ایک کارکن کو ایسا اعتماد دیا کہ وہ بغیر شرم و جھجک اور خوف کے دعوت الی اللہ کا کام کرنے لگے. جماعت کا ہر رکن اپنے علاقے میں مظلوموں کی داد رسی کرنے والا بن گیا اور پورے شہر کے غنڈے بدمعاش جماعت کے کارکنان پر کسی بھی قسم کا ظلم ڈھانے سے کترانے لگے. (بہاولپور میں یہ غنڈہ اور مافیا راج کافی عام تھا، اب بھی اس میں کوئی خاص کمی نہیں آئی.)

ایک دفعہ ہمارے ہی علاقے میں ایک محلے کو غیر قانونی قرار دے کر حکومت نے ڈھانے کا فیصلہ کرلیا، مقررہ دن پر بلڈوزر لایا گیا، والد صاحب سمیت یہاں کُل 3 ارکانِ جماعت موجود تھے، انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ لاہور ہیں (اس وقت بھی MPA تھے) وہاں سے حکم دیا کہ میں یہاں سے نکلتا ہوں لیکن تم لوگ ڈٹ جاؤ، بلڈوزر کے آگے لیٹ جاؤ یا جو بھی کرو میرے آنے تک کسی ایک گھر کو بھی خراش تک نہیں آنی چاہیے. کارکن کو تو قائد کا حکم چاہیے ہوتا ہے، ان لوگوں نے حکم کی تعمیل کی اور ڈاکٹر صاحب کے آنے تک بلڈوزر کو ایک اِنچ بھی نہیں ہلنے دیا، حتیٰ کہ پولیس نے بھی کوشش کر دیکھی لیکن ناکام و نامراد لوٹ گئی. یہ ایک لیڈر پر کارکن کا اعتماد تھا اور یہ اعتماد اسی لیے تھا کہ کارکن کو معلوم تھا میں جیوں یا مروں، میرا لیڈر ہر حالت میں میرے ساتھ کھڑا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   ’’اخوان‘‘ آصف محمود

ڈاکٹر صاحب تین دفعہ پنجاب اسمبلی میں بہاولپور کے نمائندے کی حیثیت سے گئے اور اللہ نے ایسی عزت دی کہ جس معاشرے میں لوگ معمولی سی بلدیاتی سیٹ ملنے پر بھی لاکھوں کی کرپشن کر جاتے ہیں، وہاں اس بندہ خدا کا دامن تین دفعہ ایم پی اے رہنے کے باوجود بھی کرپشن سے پاک رہا. انہوں نے ہر دفعہ حلقے کی عوام کی بڑھ چڑھ کر خدمت کی. ان کا دفتر ہر خاص و عام کےلیے کُھلا رہتا تھا، درد دل رکھنے والا یہ انسان ہر فرد کے مسئلے کو یوں حل کرنے کی کوشش کرتا جیسے یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہو. ایسی مثالیں ہماری سیاست میں بہت کم ملا کرتی ہیں. کتنے ہی لوگ ہم نے ایسے دیکھے جو ڈاکٹر صاحب کو روایتی سیاستدان سمجھ کر ان کے پاس جاتے ہوئے گھبراتے لیکن جب ایک دفعہ چلے جاتے تو حیرانی و خوشی کے جذبات کے ساتھ ان کی تعریفیں کرتے نہ تھکتے.

جماعت اسلامی میں تنظیمی لحاظ سے بھی ڈاکٹر سید وسیم اختر بڑے قد کے مالک تھے.انہوں نے چھ سال تک جماعت اسلامی پنجاب کی امارت کے فرائض انجام دیے، اور صادق آباد سے اٹک پل تک پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی قیادت کا حق ادا کیا. کارکنان سے رابطہ، برادر تنظیمات کی ضروریات کا خیال، عوامی مسائل کا حل غرض کہ ہر جگہ ان کی شخصیت اپنا اثر لیے موجود ہوتی. بیرون شہر ہونے کی وجہ سے میرا بہت کم وقت ان کے ساتھ گزرا (اس پر شدید افسوس ہے) مگر بہاولپور جمعیت میں ہوتے ہوئے جب کبھی ان سے ملاقات ہوئی، انہیں ہمیشہ مدد کرنے والا پایا. اسلامی جمعیت طلبہ کے لوگوں سے ان کی محبت مثالی تھی، ڈاکٹر صاحب چونکہ خود بھی بہاولپور جمعیت کے ناظم رہے تھے، اس لیے ہمیشہ تلقین کرتے کہ آپ لوگ بہتر سے بہترین کام کریں، مالی امداد اور تھانے کچہری کے معاملات میں ہمیشہ جمعیت کو ان کی بھرپور حمایت حاصل رہی.

شہرِ بہاولپور میں کتنی ہی بیواؤں کے گھر کا راشن، کتنے ہی یتیموں کی تعلیم کا خرچ، کتنی ہی غریب بچیوں کی شادی کے اخراجات اور کتنے ہی ضرورت مندوں کی ضروریات ڈاکٹر صاحب کے وسیلے سے پوری ہو رہی تھیں. وہ سب افراد ہی یتیم ہوگئے. میں نے کتنے ہی لوگوں کو جنازے کے دن کہتے سنا کہ آج ہم یتیم ہو گئے، آج پورا شہر یتیم ہوگیا، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے افسران جو جنازے کے انتظامات دیکھ رہے تھے ان کے چہروں پر بھی میں نے رنج و الم دیکھا اور یقیناً یہ اس بات کی گواہی تھی کہ اللہ کا یہ بندہ نہ صرف خالق کا بلکہ اس کی مخلوق کا بھی محبوب تھا.

ڈاکٹر صاحب کا آخری دیدار کرنے کا موقع ملا، ان کے بیٹے عبدالرحمٰن بھائی سے درخواست کی تو انھوں نے جنازے والے دن کی صبح ہمیں چہرہ دکھانے کا اہتمام کیا، مرشد کے چہرے پر نظر پڑتے ہی زبان سے 'اللہ اکبر' کے الفاظ نکلے اور "یا ایّتھا النّفس المطمئنّۃ " کی آیت ذہن میں آئی، چہرے پر موجود پُرسکون مسکراہٹ اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ رب تعالیٰ نے اپنے بندے کی پوری زندگی کی جدوجہد قبول کر کے اسے اپنی جنت کا دیدار کرا دیا ہے.

جب بھی ان کا خیال آتا ہے دل ڈوبنے لگتا ہے، لیکن ساتھ ہی ایک عزم بھی دماغ میں جنم لیتا ہے کہ ہم بھی اپنے قائد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تحریکِ اسلامی کا کام کریں اور اپنی پوری زندگی اللہ کی بندگی میں وقف کر دیں. اور ہم ایسا کریں گے تو یقینا رب تعالیٰ اپنی جنتوں میں ہم سب کو اکٹھا کر دے گا. ان شاءاللہ