محمد مرسی کی موت، ہماری حکومت کا افسوسناک رویہ- فضل ہادی حسن

سابق منتخب مصری صدر، محمد مرسی کی وفات کے بعد ہمارے کچھ دوست جہاں محمد مرسی کا سابق پاکستانی صدر و وزیر اعظم سے موازنہ کرنے لگے تو کچھ کرم فرماؤں نے حکومت پاکستان کی طرف سے روایتی تعزیت نہ کرنے پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اس بارے میں چند نکات پیش خدمت ہیں۔

1۔قائد اعظم محمد علی جناح نے بطور سربراہ مملکت اگر کوئی دورہ کیا تھا تو وہ {برطانیہ کے بعد} صرف مصر کا دورہ تھا جو کنگ فواد کی دعوت پر تھا۔

2۔ پاکستان مصر کے ساتھ پہلے دن سے رابطہ و تعلق کا رشتہ قائم ہوگیا تھا البتہ سفارتی تعلقات 1951 سے بنے تھے۔

3۔عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان کا تعاون بھی مصر کو حاصل رہا ہے اور شاید یہی ان وجوہات میں سے ایک یا بنیادی وجہ قرار دی جاسکتی ہے جس کی بنیاد پر اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف وقتا فوقتا کچھ مذموم مہمات اٹھاتا رہا ہے۔

4۔ قائد کے علاوہ پاکستان کے کئی سربراہان نے مصر کے دورے کیے ہیں جبکہ مصری قیادت میں ایک دو نام ہیں، جن میں انور السادات نے 1974 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، یاد رہے یہ دورہ در اصل دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے تھا۔

6۔ مارچ 2013 میں صدر محمد مرسی پہلے جمہوری اور منتخب مصری صدر تھے جنہوں نے پاکستان کا ایک روزہ دورہ کیا تھا۔ یاد رہے یہ دورہ اس وقت پانچ دہائیوں میں کسی مصری رہنما کا پہلا سرکاری دورہ تھا، اس موقع پر پاکستان کی معروف یونیورسٹی NUST نے انہیں اعزازی PhDڈگری سے بھی نوازا تھا۔

7۔ ڈاکٹر مرسی کے دورہ پاکستان کو جہاں دو طرفہ تعلقات کا شاندار باب قرار دیا گیا تھا وہاں پاکستانی دفتر خارجہ نے اس شاندار باب کے بارے میں “watershed and a landmark” جیسے الفاظ سے تبصرہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت نے کشمیر کا سودا کر دیا؟ آصف محمود

8۔ یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کا مقدمہ جو کہ درا صل پاکستان کا مقدمہ تھا، او آئی سی میں اٹھانے (ایجنڈا پر لانے)کے لئے ترکی اور قطر کے بعد مصر کی محمد مرسی حکومت کی کوشش شامل تھی لیکن حکومت پاکستان کی طرف سے کمزوری دکھانے پر یہ معاملہ پس منظر میں چلا گیا تھا۔ {اس کے محرکین میں سابق مرشد عام استاذ مہدی عاکف مرحوم بھی شامل تھے}

جذبات اور خوابوں کی دنیا سے قطع نظر، خارجہ پالیسیاں مجبوری ، محتاجی اور طاقت کے درمیان بنتی اور رہتی ہیں۔ اگر آپ مضبوط ہیں ، کسی کے محتاج نہیں ہیں تو آپ کی خارجہ پالیسی مجبوریوں سے آزاد رہے گی تب آپ کسی برادر ملک کی قید میں معزول صدر کے حق میں آواز بھی اٹھاسکیں‌گے اور دوران قید موت کو قتل قرار دیکر مذمت بھی کرسکیں گے لیکن دوسری صورت میں تو باقی چیزیں درکنار، آپ تعزیت کرنے کے بھی "قابل" نہیں رہتے۔

ملکوں کے سفارتی تعلقات اگر حکومتوں کیساتھ جوڑے رہتے ہیں تب بھی کسی سابق حکمران کی موت پر تعزیت میں اخلاقی، قانونی اور سفارتی پہلو اتنا بڑا ایشو یا رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ میں حیران ہوں کہ جس مصری صدر نے پاکستان کو بھارت پر ترجیح دیتے ہوئے تعلقات کے شاندار دور کا آغاز کرنا چاہا تھا، اس کی موت پر تعزیتی بیان سے گریز کیسے سفارتی آداب اور تعلقات کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے؟

تعزیت کرنا تو بس ایک رسم اور روایت ہے، چلے دیکھتے ہیں کل کلاں حسنی مبارک، حسینہ واجد اور حامد کرزئی وغیرہ کی موت پر ہمارے دفتر خارجہ کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.