فضلائے مدارس کے معاشی مسائل - عابد محمود عزام

وفاق المدارس کے امتحانات کے بعد ہزاروں فضلاء مستقبل میں درپیش مسائل کا خوف لیے عملی زندگی کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔ مدارس میں ہمیشہ دین پڑھا ، سیکھا۔ ہمیشہ دین پھیلانے اور دین کی خدمت کرنے کی فکر کی، جو بہت ہی عظیم کام ہے، لیکن زندگی میں بہت سی دنیاوی ضروریات بھی ہوتی ہیں، جن سے کسی انسان کو مفر نہیں ۔ معاش ان سب میں شاید سب سے بڑی ضرورت ہے، دیگر بیشتر ضروریات اس سے جڑی ہوئی ہیں ۔

آٹھ دس سال دینی مدارس میں پڑھنے کے بعد اچانک سے ان کے کاندھوں پر عملی زندگی کی ان گنت ذمہ داریاں آن پڑی ہیں، مگر ان کو حالات کے تقاضوں کے مطابق ادا کیسے کرنا ہے، اکثریت کو اس کا تجربہ ہے، نہ تیاری اور ادراک بھی نہیں، کیونکہ کبھی ان سے متعلق سوچا ہی نہیں۔ نئے فضلاء کو بہت جلد اندازہ ہوجائے گا کہ مدرسے کے اندر اور باہر کی دنیا میں کتنا فرق ہے اور دینی تعلیم میں بہت زیادہ مہارت رکھنے والے فضلاء کے لیے بھی عملی زندگی میں کتنی زیادہ مشکلات ہیں۔ دینی تعلیم حاصل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا خدا کے نزدیک بہت ہی محبوب عمل ہے، مگر اس سے معاشی کفالت نہیں ہوسکتی۔ معاشی کفالت کے لیے دیگر ذرایع ہی استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ اس لیے فضلائے مدارس کو معاشی کفالت کے لیے ایسے ذرایع ضرور اختیار کرنا ہوں گے، جس کے بعد وہ پورا دن محنت کرکے مہتمم کی طرف سے ملنے والے آٹھ ہزار روپے کے محتاج نہ رہیں۔ اس دور میں آٹھ دس ہزار روپے میں فیملی کے ساتھ گزارا کرنا ناممکنات میں سے ہے، لیکن مدرسین مدارس کو نہ چاہتے ہوئے بھی گزارا کرنا پڑتا ہے۔ اور بہت سے فضلاء کو تو ان سے بھی دشوار حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب بتانے کا مقصد دینی مدارس اور دینی تعلیم سے بدظن اور دور کرنا ہرگز نہیں، .

بلکہ فضلاء کو مستقبل کے ان معاشی چیلنجز سے آگاہ کرنا مقصود ہے، جو مدرسے سے باہر قدم رکھتے ہی فضلائے مدارس کو حیران و پریشان کرنے کے لیے تیار ہیں، جن سے انہیں ہی نمٹنا ہے۔ فضلائے مدارس کو درپیش مسائل کی ذمہ دار کافی حد تک ملکی سطح پر مدارس کی انتظامیہ اور مدارس کو بزنس سمجھنے والے مہتممین کی اکثریت ہے، لیکن ان مسائل کی کلی ذمہ داری ان پر عاید نہیں کی جاسکتی، بلکہ فضلاء خود بھی ذمہ دار ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ملکی سطح پر مدارس کی انتظامیہ نے ہر سال بننے والے ہزاروں فضلاء کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں اور مہتممین کی اکثریت نے بھی اپنے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو ہمیشہ اخلاص کا سبق دیا ، جبکہ تمام تر توجہ صرف اپنی اولاد کا مستقبل سنوارنے اور انہیں دولت کمانے کے نت نئے طریقوں سے روشناس کرانے پر دی۔ اس سب کے باوجود فضلائے مدارس بھی معاشی بحران سے نمٹنے میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے آرہے ہیں۔ دینی تعلیم حاصل کرنا بہت عظیم عمل ہے، جو انسان کو پستی سے اٹھا کر اوج ثریا پر پہنچا دیتا ہے۔ دینی تعلیم کا حصول اتنا عظیم عمل ہے کہ اس سے فرشتے قدموں تلے پر بچھاتے ہیں اور آخرت کی کامیابی اور جنت کا حصول آسان ہوجاتا ہے.

لیکن اس سے معاشی بحران سے نہیں نکلا جاسکتا، معاشی بحران سے نکلنے کے لیے وہی طریقے اختیار کرنا پڑیں گے جو دنیا میں مروج ہیں۔ مدرسے میں داخلہ لینے کے ساتھ مستقبل میں معاشی مسائل سے نمٹنے کی منصوبہ بندی بھی کرلینی چاہیے، ورنہ بعد میں پچھتانا پڑ سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو مدارس میں داخلہ لینے سے پہلے کسی سکول سے کم از کم میٹرک ضرور کر لیں، اس عمر کے بعد ہی مدارس کا نصاب آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے، جبکہ سکول میں چند سال تعلیم حاصل کر کے آنے والے بچوں کی شعوری صلاحیت بھی شروع سے مدارس میں پڑھنے والے بچوں سے زیادہ ہوتی ہے اور میٹرک کرنے کے بعد عصری تعلیم میں آگے جانے کے لیے قدم خود ہی اٹھ جاتے ہیں۔ دینی تعلیم کے ساتھ جس حد تک ممکن ہو، عصری تعلیم جاری رکھیں۔ انفرادی طور پر امتحانات دیتے رہیں، جب تک درس نظامی مکمل ہوگا، اس وقت تک ایم اے بھی مکمل ہوچکا ہوگا۔ ایم اے تک عصری تعلیم حاصل کرنے سے اگرچہ باعزت روزگار کے حصول کی گارنٹی نہیں، لیکن بہرحال امید بہت حد تک قوی ہوجاتی ہے اور کہیں نہ کہیں باعزت روزگار مل ہی جاتا ہے۔ سب سے معزز پیشہ تدریس ہے، ایم اے کے بعد تدریس کے بہت سے مواقع ہوتے ہیں۔

ایم اے کی بنیاد پر ہر سال سکول و کالجز میں تدریس کے لیے سرکاری جابز آتی ہیں، جن میں مدارس کے فضلاء بغیر رشوت و سفارش آسانی سے منتخب ہوسکتے ہیں۔ مدارس کے بہت سے فضلاء ایم اے کے بعد سرکاری و غیر سرکاری ٹیچر و لیکچرار کی جاب کر رہے ہیں۔ یہ باعزت پیشہ اختیار کرنے سے ایک تو معاشی ضرورت بہتر طریقے سے پوری ہوتی رہے گی، جبکہ سکولز و کالجز میں پڑھنے والوں کی دینی تربیت کرنے کا موقع بھی مل سکے گا۔ سکول، کالج میں دین کی خدمت کی ضرور مدارس میں دین کی خدمت سے زیادہ اہم ہے۔ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے دینی مدارس میں پڑھنے والوں کو چاہیے دوران تعلیم کوئی ایسا ہنر ضرور سیکھ لیں جس سے معاشی ضرورت پوری کی جاسکے۔ کسی ہنر میں مہارت ہو تو وہ ضرور کام آجاتا ہے۔ کوئی بھی ہنر روز عصر کے بعد کچھ وقت دے کے سیکھا جاسکتا ہے۔ مدارس کے فضلاء کے لیے سب سے بہترین ذریعہ معاش کاروبار کرنا ہے۔ بزنس میں اللہ تعالی نے بہت برکت رکھی ہے، جن فضلاء کے پاس زیادہ سرمایہ نہیں ہے، وہ کم سرمایہ سے بھی بزنس شروع کرسکتے ہیں، جو دن رات ڈیوٹی کرکے مہینے بعد مہتمم سے ملنے والے آٹھ دس ہزار روپے سے بہتر ہے۔ کاروبار اچھا چل جائے تو دین کی خدمت بھی بہتر طریقے سے ہوسکتی ہے۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.