ہم کہاں جا رہے ہیں - فری ناز خان

کسی بھی معاشرے کا وجود وہاں کے بسنے والے لوگوں سے ہوتا ہے۔ لوگوں کے رہن سہن اور عادات و اطوار کا کسی بھی معاشرے میں اہم کردار ہوتا ہے۔ یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ معاشرہ لوگوں کی پہچان ہوتا ہے۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہ ایک اسلامی ملک ہے۔

اسلامی اصولوں کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے اور کسی بھی اسلامی ملک کی پہچان کے لیے اس ملک کے لوگوں کا رہن سہن اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسلام نے ہمیں مکمل آزادی اور تحفظ فراہم کیا ہے تاکہ ہم اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزار سکیں مگر وہیں کچھ ایسی حدود بھی بنا کر دی ہیں جن کو عبور کرکے ہم صرف اور صرف بربادی اور بدنامی کے اندھیروں میں غرق ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم اپنی حدود کو عبور نہ کریں۔ پچھلے دنوں میری نظر سے ایک خبر گزری۔ خبر کچھ یوں تھی کہ گوجرہ چک نمبر 337کے قریب نہر جھنگ کے کنارے سے ایک بوری میں بند ایک لڑکی کی لاش برآمد لڑکی کی عمر 20 سال اور اس کا سر اس کے جسم سے بڑی بے رحمی سے کاٹ کر الگ کر دیا گیا۔ پہلے میں اس خبر کو پڑھ کر جھوٹ سمجھی مگر جب اس لڑکی کی لاش کی تصویر دیکھی تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ کافی دیر کے بعد تصویر کا بغور جائزہ لیا تو اس بات کا اندازہ ہوا کہ اس کے ساتھ کیا حادثہ ہوا ہے اور اسے کیوں مارا گیا ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے مگر مجھے ایک بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا کہ جب ہم اپنے رب کی بنائی ہوئی حدود کو پھلانگتے ہیں تو اس کا انجام کچھ اسی طرح کا سامنے آتا ہے۔

کیونکہ ہماری نوجوان نسل اور خاص طور پر ہماری نوجوان لڑکیوں کے سروں پر جو آزادی کا بھوت چڑھا ہوا ہے اور جس کی وجہ سے کافی احتجاج اور ریلیاں بھی نکالی گئی تھیں ان کے کچھ تو اثرات نظر آنے تھے۔ انہیں اس انجام تک پہنچانے میں خود ان کی اپنی مائیں بھی شامل ہیں۔ آج کل لڑکیاں اپنی آزادی اور تعلیم کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ بعض اوقات تعلیم کے نام پر بہت سے نام نہاد تعلیمی ادارے بھی نوجوان لڑکیوں کو گمراہیوں کے اندھیرے دلدل میں دھکیل رہے ہیں اور لبرل ازم کا نام لے کر آزادی کا نعرہ بلند کر رہے ہیں اور اپنے تعلیمی معیار کو پس پشت ڈال رہے ہیں اور آج کل کی لبرل مائیں خوشی خوشی اس نظام کو آزادی کے نام پر قبول کر رہی ہیں۔ فیشن اور لبرل ازم کے نام پر اپنی بیٹیوں کو آزادی دینے والی مائیں خود بھی اپنے آپ کو اتنا ہی جوان رکھنے میں کوشاں ہیں۔ اگر کوئی انھیں ان کی بیٹی کے ساتھ دیکھ کر بیٹی کی بڑی بہن کا لقب دے تو ان کی خوشی کی انتہاء نہیں رہتی اور وہ اس لقب کو برقرار رکھنے کے لیے کس قدر محنت میں لگ جاتی ہیں۔ جب مائیں بیٹیوں کی ماں بننے کے بجائے ان کی بڑی بہن اور آنٹیاں کہلوانا پسند کرنے لگیں تو ان نوجوانوں کی رہنمائی کون کرے گا اور کون ان لڑکیوں کو صحیح اور غلط میں امتیاز کرنا سکھائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   امتحانات اور مائیں - سعدیہ نعمان

جن معاشروں میں مائیں خود اپنی بیٹیوں کو سجا سنوار کر رونقِ محفل بنانا چاہتی ہوں اور انہیں اتنی آزادی دیں کہ وہ کسی کے بھی ساتھ جب چاہیں اور جہاں چاہیں جاسکتی ہیں تو ہر مثبت سوچ رکھنے والے اس کا انجام سوچ سکتے ہیں۔ آج کل آزادی کے نام پر مردوں سے دوستی کرنا ایک عام سی بات بن گئی ہے اور ان ماوں کا حال یہ ہے کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں کہ یہ دوستی کس حد تک پہنچ چکی ہے کیونکہ کہیں نہ کہیں وہ خود بھی اپنی نام نہاد دوستیاں استوار کر رہی ہوتی ہیں۔ انہیں خود اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی بیٹیوں پر نظر رکھ سکیں اور جس کا انجام بلا آخر کسی نہر کے کنارے پڑی لاش کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔ مگر پھر بھی ہماری آنکھیں نہیں کھلتی ہم کسی دوسری لڑکی سے نصیحت نہیں لیتے بلکہ اس پر مزید اور دس بارہ الزامات لگا کر وہاں سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
اگر مائیں لڑکیوں کی بہنیں اور آنٹی کہلوانے پر فخر کرنے کے بجائے ماں کہلوانا پسند کریں تو شاید ان حادثات میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی ہونا شروع ہو جائے مگر نہجانے وہ دن کب آئے گا جب مائیں اپنا فرض اور اپنا رتبہ پہچانیں گی اور بیٹیوں کی صحیح معنوں میں پرورش کر پائیں گی یا پھر یہ صرف ایک خواب ہی رہ جائے گا۔ انہیں کب اس بات کا احساس ہو گا کہ وہ ایسے راستے پر جا رہے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہے۔