ہندو لڑکیوں کا معاملہ، لبرل طبقے کا یوٹرن - ابو محمد مصعب

کچھ مسائل کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ سوشیالوجی سے ہوتا ہے۔ عاشقی معشوقی کا کاروبار، دنیا بھر میں اور ہر سوسائٹی میں چلتا ہے لیکن پھر اسے مذہبی رنگ دے دیا جاتا ہے۔

ہمارے یہاں، ہندو لڑکیوں کو مسلمان کر کے شادی کرنے کے معاملات بھی کچھ اسی نوعیت کے ہوتے ہیں، جن کو یار لوگ، اقلیتوں کے ساتھ زیادتی قرار دے دیتے ہیں۔ ہمارا ماضی اس پر گواہ ہے کہ لبرل طبقے نے ہر دور میں ایسی شادیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جس میں لڑکا لڑکی، والدین سے چھپ چھپا کر میل جول رکھتے ہوں اور پھر ایک دن گھر سے بھاگ کر، عدالت پہنچ کر نکاح کرتے ہوں۔ اگر کسی کو سنہ 1996ء میں، صائمہ وحید کیس یاد ہو جو اہل حدیث کے معروف عالم، حافظ عبدالوحید روپڑی کی بیٹی تھی، اور جس نے گھر سے بھاگ کر، اپنے بھائی کے ٹیوٹر سے چھپ کر شادی کر لی تھی تو وہ میری بات کی تائید کرے گا۔ عاصمہ جہانگیر نے اس کو اپنے ادارے، دستک میں چھپا لیا تھا، پھر معاملہ، “ولی کی اجازت کے بغیر شادی” کے عنوان سے وفاقی شرعی عدالت میں پہنچا، جس نے اس نکاح کو ناجائز قرار دیا، پھر ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کی تائید کی مگر پھر چھ سال تک یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے سرد خانے میں پڑا رہا اور بالآخر مشرف کے دور میں، سنہ 2003 میں، اس کا فیصلہ لڑکی کے حق میں آ گیا۔

اس پورے عرصے میں نہ صرف عاصمہ جہانگیر، بلکہ پورا لبرل طبقہ، صائمہ وحید کی سپورٹ میں کھڑا رہا۔ اور جب سپریم کورٹ نے “ولی کی اجازت کے بغیر، لڑکی کی شادی” کے حق میں فیصلہ دیا تھا تو پوری لبرل برادری نے جشن منایا تھا اور اس کو اپنی فتح قرار دیا تھا۔

لیکن اب تازہ معاملہ چوں کہ ہندو لڑکیوں کا ہے اس لیے لبرل موقف نے یو ٹرن لے لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   معاملہ سندھ میں ہندو لڑکیوں کے قبول اسلام کا- محمد عامر خاکوانی

تازہ واقعہ اتنا سادہ نہیں۔ اس کے چار پہلو ہیں:

اوّل: لڑکیوں کا گھر سے فرار یا اغوا ہونا (اس چیز کا تعین پولیس اور عدالت کرے گی۔ اگر لڑکیاں اغوا نہیں ہوئیں تو لڑکوں پر اغوا کا مقدمہ نہیں بنے گا۔)

دوئم: ان کا مذہب تبدیل کرنا۔۔۔بالرضا یا جبراً (اس چیز کا تعین بھی عدالت کرے گی کہ آیا درست ہے یا نہیں۔ اگر جبر نہیں ہوا تو لڑکیوں سمیت تمام فریق بےقصور ہوں گے ورنہ جبر میں ملوث افراد پر مقدمہ ہوگا۔)

سوئم: مسلمان لڑکوں سے نکاح ۔۔۔بالرضا یا جبراً (اگر تو بالرضا ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور اگر جبراً ہے تو یہ تو پھر مسلمان لڑکیاں ہوتیں تو بھی غلط تھا، کجا کہ غیر مسلم ہوں۔) جبراً نکاح کی صورت میں نہ صرف لڑکوں، بلکہ نکاح خواں پر بھی مقدمہ بنے گا۔

چہارم: لڑکیوں کا نابالغ یا بالغ ہونا (اس چیز کا تعین بھی عدالت، میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے کرے گی۔ (ویسے ہمارے یہاں ایسے کیسز میں میڈیکل ٹیسٹ ہمیشہ اقلیتوں کے حق میں ہی آیا کرتے ہیں۔)

اگر لڑکیاں نابالغ ہیں تو ان کا قبولِ اسلام اور رضا سے ہونے والا نکاح قبول ہونا چاہیے لیکن اس صورت میں ان کو ان کے والدین کے حوالے کرنے کے بجائے بلوغت تک، دارالامان میں رکھنا چاہیے، کیوں کہ یقینی ہے کہ اگر اس صورت میں والدین کے حوالہ کیا گیا تو انہیں بہ زور واپس پھیر لیا جائے گا۔ اور اگر جبراً یہ سب ہوا ہے تو چاہے بالغ ہی کیوں نہ ہوں، بے شک لڑکیوں کو واپس اپنے والدین کے پاس بھیج دینا چاہیے۔ اور اغوا کاروں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے.

باقی جو لوگ ہمیں یہ طعنہ دیتے ہیں کہ کیا ہم کسی مسلم عورت کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ اسی طرح مذہب تبدیل کرے اور پھر کسی ہندو، سِکھ یا عیسائی سے شادی کرے تو ایسے بھائیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ سیکیولر بیانیہ ہے اسلامی بیانیہ نہیں۔ اگر ہم سیکولرازم کو فالو کر رہے ہوتے تو آپ حق بجانب تھے کہ ہم سے ایسا مطالبہ کرتے لیکن آپ جانتے ہیں کہ ہم اسلام کو زندگی کے تمام شعبوں پر لاگو کرتے ہیں، ہمارے ملک کا آئین بھی اسلامی ہے۔ اس لیے ہمارے فیصلے اپنے سیکولر بیانیہ کے مطابق کرنے کی کوشش مت کریں۔ اگر ہمارا مذہب اور ہمارے ملک کا آئین ہمیں اس کام کی اجازت نہیں دیتا تو پھر آپ کیوں اپنا سیکولر اور لبرل بیانیہ ہم پر مسلط کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   ہندو لڑکیوں کی پسند کی شادی پر وزیراعظم کا نوٹس - محمد عاصم حفیظ

ذیل میں انڈیا ٹائمز کی ایک خبر کا لنک ہے جس میں، ہندوستان کی ایک مسلمان لڑکی، ایک ہندو سے شادی کرتی ہے اور دنیا بھر کے لبرل و سیکیولر، اس لڑکی کی پشت پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

https://www.indiatimes.com/news/india/kerala-muslim-girl-who-married-a-hindu-boy-alleges-threat-to-her-life-from-islamist-outfit-269697.html