نظریہ پاکستان کی بقا کیسے ممکن ہے؟ محمد عارف خلجی

بظاہر تو یہ ایک سادہ سا سوال معلوم ہوتا ہے مگر اِس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ہمیں تاریخ کے دریچوں میں جھانکنا ہوگا اور ان عوامل کی نشان دہی کرنی ہوگی جن کی بدولت پاکستان کو نظریاتی مملکت ہونے کا خداداد اعزاز ملا۔ پاکستان کی نظریاتی اساس اور اِس کی امتیازی شان اِسے دنیا کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔ ”لا الہ الا اللہ“ کے سحر انگیز اور وجد آفرین نعرہ پر بننے والے اِس ملک کی تاریخ لازوال قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔

برصغیر کی تاریخ اِس بات کی شاہد ہے کہ مسلمانوں نے بطور حکمران آٹھ صدیوں سے زیادہ یہاں کی عنانِ حکومت سنبھالی۔ اُنہوں نے اپنے زریں ادوار میں اپنی رعایا کی فلاح و بہود کا خیال رکھا۔ ہندوﺅں اور مسلمانوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے۔ محمد بن قاسم کی آمد سے لے کر آخری تاجدار ِ ہند بہادر شاہ ظفر تک مسلمانوں کی تاریخ بالکل واضح اور واشگاف ہے۔ تاریخ یہاں تک لکھتی ہے کہ جب خلیفہ ولید بن عبد الملک نے محمد بن قاسم کو معزول کر دیا تو اُن کے جانے کے وقت اُن کی ہندو رعایا رونے لگی۔ وہ کسی قیمت پر ایسے عادل بادشاہ کو نہیں کھونا چاہتے تھے جس نے چند سالوں میں اپنی دانشمندی اور معاملہ فہمی سے ہندوﺅ ں کے دل موہ لیے تھے۔ اُن کو مکمل مذہبی آزادی دی تھی اور ہر طرح کے مظالم کا سدِباب کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ محمد بن قاسم کی معزولی کے بعد کچھ ہندوﺅں نے اُن کی مورتی بنا لی تھی اور اُس مورتی کو بھگوان کی طرح پوجنے لگے تھے۔ بہرحال جب تک طاقت کا پلڑا مسلمانوں کے حق میں جھکا رہا، ہندوﺅں کے ساتھ اُن کا رویہ قابل تحسین و صد آفرین رہا۔ مسلمانوں کی سلطنت کا سورج غروب ہوتے ہی اُن پر ہر طرف سے قیامتیں ٹوٹ پڑیں۔

وقت بدل گیا اور صدیوں پر محیط مسلم سلطنت زوال کا شکار ہوگئی۔ انگریزوں نے نئی سلطنت کی بھاگ دور سنبھالی۔ اُنہیں اِس بات کا احساس تھا کہ چونکہ حکومت مسلمانوں سے چھینی گئی ہے لہذا مسلمان ہی ایسی قوم ہے جو دوبارہ انگریزوں کو زیر کرنے کی کوشش کرے گی۔ اُنہوں نے حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہندوﺅں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کا سوچا۔ یوں تو1857ء کی جنگ آزادی تک ہندو مسلم ایکا اور اتحاد کا جوش دونوں اقوام کو وقتی طور پر قریب بھی لے آیا مگر جنگ ِآزادی کی ناکامی کے بعد اِس کا سارا ملبہ مسلمانوں پر ڈال دیا گیا۔ اِس لیے کہ ہندو تو گنگا نہا آئے تھے۔ انگریزوں نے بھی مسلمانوں کے جذبہ حریت اور جذبہ جہاد کو کچلنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا تاکہ مسلمانوں کو ہمیشہ کی غلامی پر رضامند کیا جائے۔

ہندو مسلم اتحاد کا معاملہ تو پہلے ہی کھل چکا تھا۔ سرسید احمد خان جوکہ اب تک مسلمانوں اور ہندوﺅں کے اتحاد کے علمبردار تھے، اچانک ایک واقعے نے اُن کی سوچ کا زاویہ ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ 1866ء میں سرسید احمد خان نے ”برٹش انڈین ایسوسی ایشن “ قائم کی۔ اِس کا مقصد حکومت سے ایک ایسی یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ تھا جس میں انگریزی علوم کو اُردو زبان میں پڑھانے کا انتظام ہو۔ انگریزی زبان کو لازمی مضمون کی حیثیت دی گئی۔ ہندو بھی اس کے رکن تھے۔ ایک سال بعد یعنی 1867ء میں بنارس کے ہندوﺅں نے ہندی کی سرکاری سطح پر ترویج کے حق میں اور اردو کے خاتمے کے لیے ایک نئی تحریک کا آغاز کر دیا۔ سرسید جو کہ اُس وقت تک” ہندو مسلم اتحاد“ کے حامی تھے، ہندوﺅں کی متعصبانہ ذہنیت اور مسلم ثقافت دشمن کارروائیوں کو دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ برصغیر کے اندر دو قومیں آباد ہیں، ہندو اور مسلمان۔ اور اب یہ دو اقوام کبھی ایک نہیں ہوسکتیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے- محمد ابوبکر

سرسید حالات کا درست اور پُر بصیرت اندازہ لگا چکے تھے۔ بعد کے حالات نے یہی ثابت کیا۔ 1885ء میں انگریزوں کی آشیرباد سے انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھی گئی جس کا ظاہری مقصد یہی تھا کہ برصغیر کے باشندوں کی آواز کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا جائے۔ لیکن درحقیقت کانگریس ہندوﺅں کے مفادات کی محافظ جماعت تھی۔ برصغیر کے مسلمان اِس بات کی ضرورت محسوس کر رہے تھے کہ اُن کے لیے بھی علیحدہ سیاسی جماعت ہو۔ چناچہ اِسی مقصد کے تحت 1906ء میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ مسلم لیگ مسلمانوں کی سچی نمائندہ جماعت ثابت ہوئی۔ مسلم لیگ کا نعرہ ہی یہی تھا کہ مسلمان ایک علیحدہ قومیت ہیں، اُن کی تہذیب و ثقافت ہندوﺅں سے بالکل الگ ہے۔ مسلمان رہنماﺅں جیسے مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ظفر علی خان، علامہ محمد اقبال، قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر نے آزادی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کی حصہ لیا۔ 1930ء میں علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الہ آباد میں فرمایا، ”ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔ ان میں کوئی بھی چیز مشترک نہیں اور گزشتہ ایک ہزار سال سے وہ ہندوستان میں اپنی ایک الگ حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔“ اِسی موقع پر آپ نے پاکستان کے قیام کا خاکہ پیش کیا۔ اِسی لیے آپ کو مصور پاکستان یا مفکرِ پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

قائد اعظم نے بھی نظریہ پاکستان اور مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کی بار بار وضاحت کی ۔ چنانچہ 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا، ”اسلام اور ہندو دھرم دو مذاہب ہی نہیں بلکہ درحقیقت دو مختلف معاشرتی نظام ہیں۔ چنانچہ اس خواہش کوخواب و خیال ہی کہنا چاہیے کہ ہندو اور مسلمان مل کر ایک مشترکہ قومیت کی تخلیق کرسکیں گے“۔ 31 جنوری 1948ء کو اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا، ”ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اُصولوں کی سچائی ثابت کرسکیں“۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام اور مسلم - محمد فیضان

پروفیسر عبدالقادر خان رقم طراز ہیں، ”نظریہ پاکستان اس عقیدے اور نصب العین کو کہا جاتا ہے جس کی بنیاد پر قیام پاکستان کی تحریک چلائی گئی۔ یہ عقیدہ بلاشبہ اسلام تھا اور نصب العین یہ تھا کہ دو قومی تصور کی بنیاد پر ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ایسی ریاست قائم کی جائے جس میں رہتے ہوئے وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تنظیم اسلامی اصولوں کے مطابق کرسکیں۔“

اِن ساری باتوں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مملکت خداداد کا قیام اِسی لیے عمل میں لایا گیا تاکہ مسلمان آزادانہ طور پر اپنے دین و مذہب کے اُصولوں کا اجرا کرسکیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ایک ایسا ملک بنایا جائے جو اسلام کے اُصولوں کی عملی تفسیر ہو۔ پاکستان کے قیام کے مطالبے کا محرک بھی یہی تھا۔

آج ستر سال گزرنے کے باوجود پاکستان اسلام کا وہ مثالی مرکز کیوں نہیں بنا جس کا خواب قائداعظم اور علامہ اقبال نے دیکھا تھا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہمارے صاحبان اقتدار کو دینا چاہیے۔ پاکستان کی نظریے کی بقا کا راز بھی اِسی بات میں مضمر ہے کہ پاکستان کو درحقیقت اسلام کا قلعہ اور اسلامی اُصولوں کے عملی نفاذ کا بہترین نمونہ بنادیا جائے۔ اس ضمن میں سب سے اہم چیز رعایا کو بلا تفریق ِرنگ و نسل، زبان و مذہب انصاف کی فوری فراہمی ہے۔ پاکستان کی نظریاتی بقا کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ نئی نوجوان نسل کو اُن کے اسلاف کے کارناموں سے روشناس کرایا جائے۔ اُنہیں اس ملک کے قیام کا مقصد سمجھایا جائے۔ حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ عملی طور پر اپنے اعمال و اقوال سے یہ ثابت کریں کہ پاکستان اسلام اور صرف اسلام کے نام پر بننے والی ریاست ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے نظریاتی اسا س کا تحفظ صرف اُسی صورت میں ممکن ہے جب ہم قومیت اور لسانیت کا امتیاز ختم کریں اور صرف ایک مسلم ہونے کا نعرہ بلند کریں۔ اگر ہم پاکستان کو متحد ،مستحکم اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں زبان اور قومیت کے بت کو پاش پاش کرکے دوبارہ اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہونا پڑے گا۔ ہمارے اسلاف نے بھی اختلاف کو بھلا کر اتحاد کے زریعے ہی اس ملک کو حاصل کیا تھا اور آج بھی جبکہ وطن عزیز کو ہر طرف سے سازشوں کا سامنا ہے، ہم اتحاد ہی کے زریعے نظریہ پاکستان کی بقا کا کام سرانجام دے سکتے ہیں۔