معاشرتی تبدیلی کی فطری ڈائرکشن - عاطف الیاس

ہمیں دو الگ الگ باتوں کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔

پہلی بات ایک فطری حقیقت ہے: الناس علی دین ملوکھم، کہ لوگ اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت معاشرے پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے فطری ڈائرکشن کو ظاہر کرتی ہے۔ یعنی عوام، حکمرانوں یا رہنماؤں سے اثر قبول کرتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں ناکہ حکمران ان کے نقش قدم پرچلتے ہیں۔

اس کی تائید بےشمار قرآنی آیات، احادیث، تاریخی شواہد اور عام مشاہدے سے ہوتی ہے۔ یہ بالکل فطری سا عمل ہے۔ جس طرح پانی نشیب کی طرف بہتا ہے اسی طرح معاشرہ کی تشکیل ان اصول و ضوابط اور تعلیم و تربیت کی بنیاد پر ہوتی ہے جنھیں حکمران نافذ کرتے ہیں۔

یہ بالکل عام سا معاشرتی کلیہ ہے جس کا اثر ہر جگہ نظر آتا ہے۔ گویا حکمرانوں کا ذاتی کردار، نافذ قوانین، تعلیم و تربیت کا نصاب یہ سب مل کر ایک معاشرے کی تشکیل کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک گھر کا سربراہ اپنے بچوں کو، ایک سکول کا سربراہ اپنے طالب علموں کو اور ایک ادارے کا سربراہ اپنے ملازموں کو منظم کرتا ہے۔

جبکہ دوسرا ایک قول ہے : اعمالکم عُمالکم، یعنی جیسے اعمال ہوں گے ویسے ہی حکمران ہوں گے۔ یہ حدیث نہیں بلکہ ایک قول ہے۔۔۔اور اس قول کی تصدیق چند قرآنی آیات اور احادیث سے صرف اس طرح ہوتی ہے کہ ظالموں پرمزید برے لوگوں کو مسلط کردیا جاتا ہے۔ گویا یہ ان کے لیے ایک سزا کی صورت ہے۔ جو ان کے اعمال کی وجہ سے انھیں پیش آتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے بنی اسرائیل کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر بخت نصر یا ٹائٹنس جیسے ظالم مسلط کیے گئے تھے۔

یہ دوسری صورت بھی پہلی فطری ڈائرکشن کا لازمی نتیجہ ہی ہے۔ مثلا جب حکمران بداعمالیوں، عیاشیوں اور فضول خرچیوں پر اتر آئیں، اسلام سے دوری اختیار کریں، غیراسلام کو نافذ کریں اور ان سب کے جواب میں لوگ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے کی بجائے ان کے پیچھے پیچھے چلیں تو پھر رفتہ رفتہ وہ قوم بداعمالیوں کی دلدل میں اس طرح دھنس جائے گی کہ اسے اللہ کے عذاب کا انتظار ہی کرنا چاہیے۔ اسے اُن حکمرانوں سے بھی بدتر ظالموں کی توقع رکھنی چاہیے کیونکہ وہ خود ظالم یعنی حد سے نکلنے والے بن چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

تو دراصل "اعمالکم عمالکم" بھی پہلی حقیقت ہی کی منفی صورت ہے جو اللہ کی طرف سے آنے والا عذاب یا آزمائش بن کر آتا ہے۔ جیسے آج پچھلے ستر سالوں سے حکمران کرپشن، اسراف، ریا، عیش و عشرت اور غیر اسلام کو نافذ کرنے کے جرم میں مبتلا ہیں لیکن عوام احتساب اور امربالمعروف و نہی عن المنکر کی بجائے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہیں۔ تو انھیں اپنی ان بداعمالیوں پر ہمارے حکمرانوں جیسے ظالموں ہی کی توقع رکھنی چاہیے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ تو جواب بہت سادہ سا ہے : اسلام کی بنیاد پر ریاست قائم کرنے اور حکمرانوں کی اصلاح کی کوشش۔ جس کی کامیابی کے نتیجے میں "خیر" اوپر سے نیچے کی طرف اپنی فطری ڈائرکشن میں منتقل ہوگا۔ اور معاشرے کی تطہیر کرکے، گندگی کو نکال باہر کرے گا۔ ان شاءاللہ.

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.