اہلکاروں کی جانب سے اکراہ کا عذر - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امام سرخسی نے اکراہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: " اکراہ ایسے فعل کو کہتے ہیں جو انسان کسی اور کے ساتھ اس طور پر کرے کہ اس کی رضا ختم ہوجائے یا اس کا اختیار فاسد ہو جائے مگر جسے مجبور کیا جائے اس کی اہلیت ختم نہیں ہوتی، نہ ہی اس سے خطاب ساقط ہوتا ہے، کیونکہ جسے مجبور کیا جائے وہ آزمائش میں پڑ گیا اور آزمائش سے خطاب کا موجود ہونا ثابت ہوا۔"

اس کے بعد وہ اکراہ کی مختلف صورتوں کے قانونی اثرات کے درمیان فرق یوں واضح کرتے ہیں: " پس کبھی اس سے جو کام طلب کیا جائے اس کا کرنا اس پر لازم ہوتا ہے، کبھی وہ اس کے لیے جائز ہوتا ہے، کبھی اسے اس کی رخصت ہوتی ہے (اگرچہ نہ کرنا بہتر ہوتا ہے) اور کبھی اس کا کرنا اس پر حرام ہوتا ہے۔ "

اس کے بعد اپنے مخصوص قانونی انداز میں اکراہ کے ارکان کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"پھر اکراہ میں کچھ خصوصیات مجبور کرنے والے شخص میں معتبر ہوتی ہیں، کچھ مجبور کیے گئے شخص میں، کچھ اس کام میں جس پر اسے مجبور کیا گیا اور کچھ اس دھمکی میں جس کے ذریعے اسے مجبور کیا گیا۔ پس مجبور کرنے والے میں جو خصوصیت معتبر ہے وہ یہ ہے کہ اس نے جو دھمکی دی اسے عملی جامہ پہنانا اس کے لیے ممکن ہو کیونکہ اگر وہ اس کے لیے ممکن نہ ہو تو اس کی دھمکی محض ہذیان ہوگی۔ مجبور کیے گئے شخص میں معتبر خصوصیت یہ ہے کہ اسے خوف ہو کہ مجبور کرنے والا شخص اپنی دھمکی کو فوری طور پر عملی جامہ پہنائے گا کیونکہ اسی خصوصیت سے وہ بے بس ہوجاتا اور طبعی طور پر اس کام پر مجبور ہوجاتا ہے۔ جس کام کی دھمکی اسے دی گئی اس میں معتبر خصوصیت یہ ہے کہ وہ زندگی ختم کرنے والا ہو، اسے ناکارہ کرنے والا ہو، کسی عضو کو تلف کرنے والا ہو یا کوئی اور ایسا نتیجہ پیدا کرنے والا ہو جس کی بنا پر رضا ختم ہوجاتی ہے۔ جس کام کے کرنے پر اسے مجبور کیا گیا اس میں معتبر خصوصیت یہ ہے کہ مجبور کیا گیا شخص پہلے سے اس سے باز رہا ہو یا اپنے حق کی بنا پر، یا کسی اور آدمی کے حق کی وجہ سے، یا شریعت کے حق کو مد نظر رکھنے کی بنا پر۔ ان امور میں اختلاف کی بنا پر اکراہ کا حکم بھی تبدیل ہوتا ہے۔"

اکراہ کی وجہ سے بے گناہ کا قتل
اگر کسی کو مجبور کیا گیا کہ وہ کسی دوسرے معصوم شخص کو قتل کردے تو تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ مجبور شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ خود کو بچانے کے لیے کسی معصوم شخص کو قتل کردے۔ پچھلے مباحث کے نتیجے میں یہ بات بھی واضح ہے کہ اکراہ ناقص کی صورت میں قصاص مجبور کیے شخص سے لیا جائے گا۔ تاہم اس امر میں اختلاف ہے کہ اکراہ تام کی صورت میں مجبور کرنے والے اور مجبور کیے گئے شخص کی قانونی پوزیشن کیا ہوگی؟

چنانچہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کی رائے یہ ہے، اور اسی پر احناف کا فتوی ہے، کہ قصاص مجبور کرنے والے سے لیا جائے گا، نہ کہ مجبور کیے گئے شخص سے۔ وہ قرار دیتے ہیں کہ اکراہ تام کی صورت میں مجبور کیے گئے شخص کی مثال مجبور کرنے والے کے ہاتھ میں آلے کی سی ہوجاتی ہے اور فعل بظاہر مجبور شخص نے کیا ہوتا ہے لیکن اسے قانونی لحاظ مجبور کرنے والے ہی کی طرف منسوب کیا جائے گا۔ چنانچہ فقہ کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ مباشر اور متسبب ایک ہی فعل میں مجتمع ہوں تو فعل کو مباشر کی طرف منسوب کیا جائے گا۔ اس کے باوجود اکراہ تام کی صورت میں اگر کسی نے کسی کا مال ضائع کیا تو ضمان کی ادائیگی مجبور کیے گئے شخص پر نہیں ہوگی بلکہ مجبور کیے جانے والے شخص پر ہوگی۔ گویا قانون نے اکراہ تام کی وجہ سے مجبور کرنے والے کو ہی مباشر فرض کرلیا ہے۔ یہی صورت قتل نفس کے معاملے میں بھی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مجبور کیے جانے والے شخص نے اپنی جان بچانے کے لیے بے گناہ شخص کی جان لی تو احناف بھی قرار دیتے ہیں کہ اس فعل کے لیے مجبور کیا جانے والا شخص بہرحال گنہگار ہوگا۔ تاہم گنہگار ہونا اور بات ہے اور قصاص کا سزوار ہونا اور۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے اپنا ہاتھ کاٹنے کے لیے کسی دوسرے سے کہا اور اس نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا تو کاٹنے والا گنہگار ہوگا۔ تاہم اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا اور قانون کا مفروضہ یہ ہوگا کہ حکم دینے والے نے خود اپنا ہاتھ کاٹ لیا اور کاٹنے والا اس کے ہاتھ میں آلہ تھا۔

امام ابو یوسف کی رائے میں ان میں سے کسی سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ مجبور کیے گئے شخص سے اس وجہ سے کہ اس کی مثال آلے کی سی ہوتی ہے، اور مجبور کرنے والے سے اس وجہ سے کہ چونکہ مجبور کیا گیا شخص اس فعل کی وجہ سے گنہگار ہوتا ہے اس لیے فعل کو کلیتاً مجبور کرنے والے کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا، جبکہ قصاص صرف اسی وقت لیا جاتا ہے جب فعل کے مرتکب کی طرف فعل کی مباشرت کی نسبت کلیتاً کی جاسکے۔ تاہم اس کا جواب ائمہئ احناف کی جانب سے یہ دیا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں اس فعل کا مباشر مجبور کرنے والا ہی ہے۔ اسی وجہ سے تو قتل کے دیگر احکام ۔ مثلاً حرمان میراث، کفارہ (جہاں واجب ہو)، دیت ۔ کا اطلاق اس پر ہوتا ہے۔ اسی طرح قصاص کے حکم کے لیے بھی اسی کو مباشر کہا جائے گا۔ اسی بنا پر قرآن مجید نے بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کا مرتکب فرعون کو ٹھہرایا:
یُذَبِّحُ أَبْنَاء ہُمْ وَیَسْتَحْیِیْ نِسَاء ہُمْ (سورۃ القصص، آیت ۴)
( وہ ان کے بچوں کو ذبح کیا کرتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔)

حالانکہ ظاہر ہے کہ اس نے تو صرف قتل کے احکامات ہی جاری کیے تھے اور بظاہر فعل قتل کے لیے مباشر وہ نہیں تھا۔ تاہم چونکہ وہ حاکم تھا اور اس کے ماتحت اس کا حکم ماننے پر مجبور تھے اس لیے قانون کی نظر میں وہی اس فعل کا مباشر تھا۔

اکراہ کی وجہ سے کی جانے والی تعدی کی دیگر اقسام
اگر مجبور کرنے والے نے کسی کو قتل کرنے کے بجائے زخمی کرنے کا حکم دیا تو پھر بھی حکم یہی ہوگا: " کیونکہ مومن کے اعضاء کی حرمت اس کے نفس کی حرمت کی طرح ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اضطرار کی حالت میں گھرے ہوئے شخص کے لیے جس طرح یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے شخص کو قتل کردے ایسے ہی اس کے لیے جائز نہیں کہ اس کا ہاتھ کھا کر اپنی جان بچائے؟"

پس احناف کے نزدیک قصاص مجبور کرنے والے سے لیا جائے گا۔ تاہم حکمران مناسب سمجھے تو مجبور کیے گئے شخص کو تعزیری سزا دے سکتا ہے کیونکہ اس نے بہر حال ایک ناجائز کام کا ارتکاب کیا۔

اگر کسی کو قتل کی دھمکی دے کر مجبور کیا گیا کہ وہ کسی کو ایک ضرب لگائے، یا اس کا سر یا ڈاڑھی مونڈھ لے، یا اسے محبوس کرلے تو عزیمت کی راہ یہی ہے کہ مجبور کیا گیا شخص اس سے انکار کرے۔ تاہم اگر اس نے قتل کی دھمکی سے مجبور ہو کر اس کام کا ارتکاب کیا تو امام شیبانی کہتے ہیں کہ ”امید ہے کہ وہ گنہگار نہیں ہوگا“۔ اس کی تشریح میں امام سرخسی کہتے ہیں: "کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس طرح بچالیتا ہے کہ دوسروں پر گھٹن اور غم طاری کردیتا ہے۔۔۔اور جان بچانے کے لیے شریعت نے اسے رخصت دی ہے کہ وہ دوسروں پر گھٹن اور غم طاری کردے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اضطرار کی حالت میں گھرے ہوئے شخص کو دوسرے کا کھانا اس کی اجازت کے بغیر کھانے کی اجازت ہوتی ہے حالانکہ اس طرح کھانے کا مالک یقینا غمزدہ ہوتا ہے؟ البتہ امام محمد نے چونکہ کوئی ایسی نص نہیں پائی جو اس کام کی بعینہ رخصت دے اور ایسے کام کا مطلق فتوی جائز نہیں ہے جس میں دوسروں پر ظلم ہو، اس لیے انہوں نے جزم کے صیغے کے بجائے امید کا صیغہ استعمال کیا اور کہا: امید ہے۔"

البتہ اگر اسے اکراہ تام نہ ہو بلکہ ناقص ہوتو پھر ان میں سے کوئی بھی کام جائز نہیں ہوگا کیونکہ ظلم چاہے بڑا ہو یا چھوٹا، زیادہ ہو یا کم، بہر حال ظلم ہے اور حرام ہے، اور رخصت صرف ضرورت کی حالت میں ہی ہوتی ہے، جبکہ اکراہ ناقص کی صورت میں ضرورت متحقق نہیں ہوتی۔

اسی طرح اگر اکراہ تام کے ذریعے کسی کو مجبور کیا گیا کہ وہ کسی پر جھوٹا الزام رکھے تو ”امید ہے کہ اسے رخصت ہوگی“ کیونکہ جب اضطرار کی حالت میں وہ کفر کا کلمہ بول کر اللہ پر جھوٹ باندھ سکتا ہے تو اس حالت میں کسی انسان پر بھی جھوٹا الزام رکھ سکتا ہے۔ تاہم چونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے اور جس پر الزام رکھا جائے وہ دلوں کے حال سے واقف نہیں ہوتا اس لیے امام شیبانی نے یہاں پھر جزم کے ساتھ کہنے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ ”امید ہے۔“

آگے امام شیبانی قرار دیتے ہیں کہ اگر کسی کو اکراہ تام کے ذریعے مجبور کرکے شراب پینے کا کہا جائے اور وہ شراب پینے سے باز رہے جس کے نتیجے میں وہ قتل کیا جائے تو ”مجھے اندیشہ ہے کہ مقتول گنہگار ہوگا۔“ اس کی وجہ اوپر اضطرار کی بحث میں گزر چکی ہے۔

اسی صیغے میں امام شیبانی قرار دیتے ہیں کہ اگر کسی کو اکراہ تام کے ذریعے مجبور کیا جائے کہ وہ کسی کا مال چھین کر مجبور کرنے والے کو دے تو امید ہے کہ مجبور کیا جانے والا شخص گنہگار نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ بھی وہی ہے کہ اضطرار کی حالت میں کسی دوسرے کا مال کھا کر اپنی جان بچانا جائز ہے۔ تاہم اس صورت میں ضمان تو واجب ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ ضمان کون ادا کرے گا؟ حکم دینے والا یا مجبور کیا گیا شخص؟

اکراہ اور حکومتی اہلکاروں کی ذمہ داری
امام شیبانی نے تصریح کی ہے کہ اس صورت میں ضمان کی ادائیگی کی ذمہ داری اس حکومتی اہلکار پر ہی ہوگی جس نے ایک شخص کو دوسرے کے خلاف تعدی پر مجبور کیا:
" اس نقصان کی تلافی کا ذمہ دار حکم دینے والا شخص ہوگا۔ "

اس کی وجہ یہ ہے کہ اکراہ تام کی وجہ سے فعل اسی کی طرف منسوب کیا جائے گا اور مجبور کیا گیا شخص اس کے ہاتھ میں ایک آلے کی طرح ہے۔ یہاں فقہاء نے یہ اہم اصول ذکر کیا ہے کہ مجبور کیا گیا شخص صرف اسی وقت اس جرم کی سزا سے بچے گا جب وہ مجبور کرنے والے کے قبضے میں ہو، بایں طور کہ مجبور کرنے والا یا تو خود اس کے سر پر کھڑا ہو یا اس نے اپنے کسی نمائندے کو اس پر مسلط کیا ہو۔ پس اگر کسی حاکم نے مثال کے طور پر کسی ماتحت کو بھیجا کہ وہ کسی شخص پر ظلم کرے تو ماتحت ظلم کی سزا سے تبھی بچ سکے گا جب وہ ظالم حاکم سے بچنے کی راہ نہ پاتا ہو اور اسے یقین ہو کہ حکم عدولی پر ظالم حاکم اسے فوری طور پر یا تو قتل کردے گا یا شدید زخمی کردے گا۔
"کیونکہ اکراہ صرف اسی وقت پائی جاتی ہے جب وہ مجبور کرنے والے شخص کے قبضے میں اس طور پر ہو کہ وہ اپنی دھمکی کو فوری طور پر عملی جامہ پہنانے کی قدرت رکھتا ہو۔ "

یہاں امام سرخسی ظالم حکمرانوں کے ظالم عمال کے متعلق کہتے ہیں: "اس مسئلے سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے اموال چھیننے میں ظالموں کے مددگاروں کے لیے کوئی عذر نہیں ہے۔ پس ہوتا ایسا ہے کہ ظالم اپنے کسی عامل کو کسی کا مال چھیننے کے لیے بھیج دیتا ہے اور وہ عامل اس کے حکم کی پابندی کرتا ہے کیونکہ اسے خوف ہوتا ہے کہ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ ظالم اسے سزا دے گا۔ یہ اس کے لیے کوئی عذر نہیں ہے، سوائے اس حالت کے جب حکم دینے والا ظالم وہاں موجود ہو۔ جب وہ ظالم سے دور ہے تو اسے عذر حاصل نہیں ہے، سوائے اس حالت کے جب اس نے اپنے کسی نمائندے کو اس کے ساتھ بھیجا ہو کہ اگر وہ اس حکم پر عمل نہ کرے تو اسے گرفتار کے اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ پس اس آخری حالت میں اس کی مثال ایسی ہوگی کہ گویا حکم دینے والا خود وہاں موجود ہے کیونکہ اس کا ظالم کے نمائندے کے قبضے میں ہونا اور خود ظالم کے قبضے میں ہونا برابر ہے۔ "
اسی طرح اگر کسی ایک کو مال دینے پر دوسرے کو اسے لینے پر مجبور کیا اور پھر لینے والے سے وہ مال ضائع ہوگیا تو ضمان لینے والے پر نہیں بلکہ حکم دینے والے پر ہوگا:
"کیونکہ دینے والے اور قبضے میں لینے والے میں ہر ایک مجبور کرنے والے کی جانب سے بے بس ہے۔ پس دینے اور قبضے میں لینے کے فعل میں سے ہر ایک کو مجبور کرنے والے کی طرف منسوب کیا جائے گا۔"

مال لینے والا اگرچہ مجبور ہے لیکن ناجائز طور پر مال لینے کے گناہ سے بچنے کے لیے لازم ہوگا کہ وہ یہ مال کو قبضہ کرنے کی نیت سے نہ لے بلکہ اسے اصل مالک کی طرف واپس لوٹانے کی نیت سے لے: "اس کے لیے مجبور ہوکر اس مال کو قبضے میں لینا صرف اس نیت سے جائز ہوگا کہ وہ اسے اصل مالک کی طرف لوٹائے گا، اور اس کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ وہ اسے مجبور کرنے والے کو برضا و رغبت دینے کی نیت سے لے۔ اس کا دین اور اس کی عقل دونوں اس کے لیے جائز اور ناجائز میں فرق واضح کرتے ہیں۔"

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.