افغان امن عمل میں مثبت پیش رفت - آصف خورشید رانا

سال 2018ء کا اختتام افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمہ کی نوید کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ماسکو کانفرنس، سہ فریقی مذاکرات کے بعد امریکہ طالبان مذاکرات نے ایک افغانستان میں امن کا سورج طلوع ہونے کا اشارہ دے دیا ہے ۔ افغانستان کے لیے مقرر کردہ امریکی نمائندے زلمے خلیل ذاد کی جانب سے دوحہ میں ہونے والے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں بہت سی باتیں سامنے آرہی ہیں جس سے ثابت ہو رہا ہے کہ افغان مسئلہ کا حلہ اب قریب آتا جا رہاہے۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے اس دور میں بہت سی اہم باتوں پر پیش رفت مثبت سمت میں جانا شروع ہو گئی ہے۔

ابو ظہبی میں ہونے والے ان مذاکرات میں طالبان، امریکہ کے علاوہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں بھی شامل ہیں۔ ان مذاکرات کی اہم بات طالبان کی جانب سے سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت کے نمائندوں کا بھی شامل ہونا ہے ۔ طالبان کی عسکری قیادت کا فیصلہ پاکستان کے دباؤ کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے تاریخ میں پہلی دفعہ پاکستان کو باقاعدہ درخواست کی کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کامیاب کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ اس سے قبل امریکہ کی جانب سے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ ہی سامنے آتا رہا ہے ۔ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ان مذاکرات سے پہلے امریکی نمائندہ خلیل ذاد نے مختلف اوقات میں اسی ماہ تین دفعہ طالبان کے نمائندوں سے ملاقاتیں کی تھیں جس سے یہ بھی ثابت ہو رہا ہے کہ امن مذاکرات کا عمل تیزی کے ساتھ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ ان مذاکرات میں ابتدائی طور پر افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ، فوجی کارروائیوں کا خاتمہ ، قیدیوں کا تبادلہ ، مستقل جنگ بندی اور قیام امن کے لیے سیاسی عمل پر بات کی جارہی ہے تاہم امریکہ کی طرف سے اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ طالبان چھ ماہ کے لیے جنگ بندی پر تیار ہو جائیں۔

طالبان نے بھی اس جنگ بندی پر حامی بھر لی ہے تاہم انہوں نے پاکستان ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کی حکومتوں کی جانب سے ضمانت طلب کی ہے۔ دوسری جانب طالبان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ کابل میں ایک عبوری حکومت کا قیام بھی ہے جس میں طالبان کو اہم نمائندگی دی جائے ۔طالبان نے افغان حکومت کی خواہش کے باوجود ان سے براہ راست مذاکرات کرنے میں کسی قسم کی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا ۔ طالبان کا موقف ہے کہ افغان حکومت کے پاس اختیار نام کی کوئی چیز نہیں ہے یہ ایک کٹھ پتلی حکومت ہے جس کی ڈور امریکہ کے ہاتھ میں ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ وہ براہ راست امریکہ سے بات کریں جو ہر قسم کا اختیار رکھتے ہیں ۔طالبان ابھی تک موجودہ سیاسی عمل میں بھی کسی طرح شامل ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں تاہم سیاسی عمل میں شامل ہونے کے لیے مذاکرات کا کسی نتیجہ پر ہونا ضروری ہے ۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ ان مذاکرات میں پاکستان بھی اپنا اثر ورسوخ استعمال کر رہا ہے ۔ بنیاد ی طور پر پاکستان اس سارے عمل کا ایک اہم سٹیک ہولڈر ہے۔ امریکہ نے اس خطے میں اپنے اثروروسوخ کے لیے بھارت کو افغانستان میں اہم کردار دینے کی کوشش کی ۔ اس کے باعث پاکستان کو مختلف قسم کی پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑا ان میں ایک اہم مسئلہ بھارت کی جانب سے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینا تھی۔ امریکہ کو اب آہستہ آہستہ سمجھ آرہی ہے کہ خطے میں امن کے لیے جہاں پاکستان کا تعاون ضروری ہے وہیں یہ بات بھی مسلم ہے کہ طالبان پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہواوے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر امریکہ کا شب خون

افغان جنگ کے لیے یہ سال نہایت مہلک ثابت ہوا ہے۔ جنگ سے تباہ حال افغانستان کے لیے خوشی کی خبر اس وقت پیدا ہوئی جب طالبان نے عید کے موقع پر تین روزہ جنگ بندی کا علان کیا ۔اگرچہ افغان حکومت اور امریکہ کی خواہش تھی کہ اس مدت کو بڑھایا جائے تاہم طالبان نے اس سے انکار کر دیا ۔ اسی سال سب سے اہم پیش رفت امریکہ کی جانب سے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کا فیصلہ تھا ۔ گزشتہ سولہ برسوں میں امریکہ اور دیگر اتحادیوں کی جانب سے طالبان کو نظر انداز کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے افغانستان کے امن عمل میں کسی قسم کی پیش رفت نہ ہوسکی ۔امریکہ کی اس پالیسی کی وجہ سے داعش کو افغانستان میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ طالبان اور داعش کے ایجنڈے میں واضح طور پر فرق تھا تاہم یہ بات شاید امریکہ کے پالیسی ساز سمجھ نہیں پا رہے تھے ۔ روس کی جانب سے یہ الزامات بھی تھے کہ داعش کو امریکہ کے عسکری حلقے تعاون دے رہے ہیں اور شاید طالبان کا اثر کم کرنے کے لیے پینٹاگان کے بعض طاقتوروں نے داعش کو متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ۔ اس الزام کی تائید سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی کی جب انہوں نے کہا کہ بعض امریکی فوجی اڈوں سے داعش کے جنگجوؤں کو تعاون دیا جا رہا ہے۔ تاہم اسی سال امریکہ نے یوٹرن لیا اور اپنا سولہ سالہ فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے طالبان کو ایک قوت تسلیم کر لیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ جنوبی ایشیا کے لیے جاری کی گئی پالیسی میں جنگ جاری رکھنے کا عزم کیا تھا تاہم یہ بھی درست ہے کہ افغان جنگ نے امریکہ کی نہ صرف معاشی حالت کو بری طرح متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر اس کی سپر میسی کو بھی ختم کر دیا۔ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہی پنٹاگان نے فیصلہ کر لیا تھا کہ کسی طرح افغان جنگ سے نکلنے کا باعزت راشتہ تلاش کیا جائے ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ باراک اوباما کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنا پالیسی بیان دیتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ اب ان کی تمام تر توجہ کا مرکز جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی بجائے ایشیا پیسیفک کا خطہ ہو گا ۔ انہوں نے ایشیا پیسیفک میں موجود اپنے اتحادیوں کو یقین دلایا تھا کہ امریکہ نائن الیون کے بعد جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو اپنی توجہ کا مرکزبنانے کی غلطی کا ازالہ کرے گا ور دوبارہ سے ایشیا پیسیفک میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پارٹنر شپ کو مضبوط کرے گا۔ ہیلری کلنٹن کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتاتھا کہ امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے ۔ سترہ سالہ جاری جنگ سے باعزت واپسی کا مرحلہ امریکہ کے لیے خاصا دشوار تھا جس کے لیے امریکہ کو اپنے ہی کئی اہم فیصلوں سے یوٹرن لینا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہواوے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر امریکہ کا شب خون

افغان امن کے لیے اہم بات یہ بھی ہے کہ اس سال خطے کے تمام ممالک امن کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اپنی اپنی جگہ کوششوں میں مصروف ہیں ۔ روس کی میزبانی میں ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں بھی خطے کے تمام ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشاء کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس مسئلہ کا پرامن حل دیا جائے ۔یہ پہلی دفعہ تھا کہ عالمی سطح پر ہونے والی اس کانفرنس میں طالبان کو بھی شامل کیا گیا ۔ ابھی حال ہی میں کابل میں ہونے والے سہ ملکی مذاکرات میں پاکستان ، چین اور کابل انتظامیہ نے بھی اتفاق کیا کہ امن کے لیے ہر طرح کی کوششوں کو تیز کیا جانا ضروری ہے ۔ دیر آید درست کے مصداق اگرچہ امریکہ اب درست ٹریک پر چل پڑا ہے تاہم امن عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے خطہ کے دیگر ممالک کو بھی ساتھ ملا کر چلنا ضروری ہے ۔ بارود، بم دھماکوں ، میزائل حملوں ، گولیوں کی گن گرج سے مفلوج افغان قوم کی نگاہیں اب امن کے لیے ترس رہی ہیں اس لیے طالبان ، امریکہ سمیت سب کو مل کر امن کوششوں کو نتیجہ خیز بنانا ہو گا ۔