شمِ ما روشن‘ دلِ ماشاد! حافظ محمد ادریس

یامرحبا! ربیع الاوّل کا ہلالِ مبارک‘ ہم پر پر طلوع ہوگیا ہے۔ اسی مہینے میں خاتم النبیینﷺ دنیا میں تشریف لائے اور اسی میں رفیقِ اعلیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا؛ اگرچہ امت ِ مسلمہ جشن تو مناتی ہے ‘مگر سیرتِ نبویؐ کے سنہری ابواب اور ایمان افروز دروس پر عمل کرنے میں کوتاہی کرتی ہے۔ پروفیسر عنایت علی خاں نے کیا خوب کہا ہے:؎
تیرےؐ حسنِ خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا
سعادت مندی یہ ہے کہ آنحضورؐ کے اسوۂ حسنہ کے پوری روح کے ساتھ سمجھا جائے اور اسے حرزِ جان بنایا جائے۔ آپ اپنے صحابہ خصوصاً نوجوانوں سے بڑی محبت کرتے تھے اور ان کی تربیت کرکے انہیں ہیرے موتی بنا دیتے تھے۔

نوجوان‘ قوموں کا اثاثہ اور حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں۔ آج شیطان امت مسلمہ پر حملہ آور ہے اور بالخصوص ہمارے اس سرمائے پر ڈاکہ ڈالنے کے پورے جتن کررہا ہے۔ اصلاحی تحریکوں کے نتیجے میں مسلم نوجوانوں کی ایک معقول تعداد اپنے دین اور اپنی اساس کی طرف رجوع کررہی ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ کئی نوجوان واقعی گہرے غوروفکر سے قرآن و سنت کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان سے کبھی مکالمہ اور سوال و جواب ہو تو قلبی و روحانی مسرت ہوتی ہے۔ ان نوجوانوں کو کئی امور میں بڑا اشکال محسوس ہوتا ہے۔ وہ اسلام کی عظمت اور اپنے اسلاف کی شوکت کو کتابوں میں دیکھتے ہیں اور پھر آج امت کی زبوں حالی کا منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے ‘تو انہیں عجیب تضاد محسوس ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تضاد کیوں ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ اس موضوع پر سیرتِ رسول کی روشنی میں غورو فکر کیا جائے؛اگر ہم صحیح تناظر میں ماضی و حال کا تجزیہ کریں اور جذباتیت سے بالاتر ہو کر حقائق و بصائر کا انطباق کرتے ہوئے معروضی حالات کا مطالعہ کریں ‘تو ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے اور ہر گرہ کا سرا ہاتھ آ جاتا ہے۔

بلاشبہ اہلِ ایمان سے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ غلبہ ان کا مقدر ہو گا اور اللہ کی نصرت ان کے شاملِ حال ہو گی۔ ان کے دشمن ان کے سامنے مغلوب رہیں گے‘ مگر اس کے لیے صرف ایمان کا دعویٰ ہی کافی نہیں‘ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنا اور وہ جوہر اپنے اندر پیدا کرنا ضروری ہے‘ جس کی بدولت نبی رحمتؐ اور ان کے جاں نثار صحابہ ان بشارتوں کے مستحق و مصداق بنے تھے۔ گویا یہ مدد یقینی ہے ‘ لیکن مشروط! اس میں شرط تعداد اور سازوسامان کی کثرت و فراوانی نہیں‘ بلکہ ایمان و عقیدے کی پختگی اور عمل کا اخلاص و مداومت ہے۔

حضور نبی کریمؐ کے دورِ سعید میں اہلِ ایمان پر سخت ترین آزمائشیں آئیں۔ آنحضورؐ خود بھی انتہائی جاں گسل مرحلوں سے گزرے۔ اس سب کچھ کے باوجود ان لوگوں کے حوصلے ہمیشہ بلند رہے۔ آنحضورؐ نے صحابہ کو سخت نامساعد حالات میں بھی بشارتیں سنائیں۔ صادق الایمان صحابہ کرام ہمیشہ بشارتوں کو سچ جانتے تھے۔ ایک مرتبہ مکی دور میں آنحضورؐ کے صحابی حضرت خبابؓ بن ارت‘ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ اس وقت کعبے کی دیوار کے سایے میں تشریف فرماتھے۔ حضرت خبابؓ کو آگ کے انگاروں پر لٹایا جاتا تھا کہ وہ ایمان سے برگشتہ ہوجائیں‘ مگر وہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔

بہرحال ان حالات میں پریشانی فطری امر تھا۔ اس پریشانی کی کیفیت میں انہوں نے آنحضورؐ سے عرض کیا: ''یارسول اللہ! آپؐ ہمارے لیے دعا نہیں فرماتے کہ اللہ ہمیں ان سختیوں سے نجات دے دے‘‘۔ یہ بات سن کر آنحضورؐ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا۔ آپؐ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا: ''تم سے پہلے جو اہلِ ایمان گزرے ہیں‘ ان پر اس سے بھی زیادہ سختیاں کی گئیں۔ ان میں سے بعض کو زمین میں گڑھا کھود کر بٹھایا جاتا اور ان کے سرپر آرا چلا کر اس کے دو ٹکڑے کردیے جاتے۔ کسی کے جوڑوں پر لوہے کے کنگھے گھسے جاتے ‘تاکہ وہ ایمان سے باز آجائے۔ خدا کی قسم! یہ کام پورا ہو کر رہے گا یہاں تک کہ ایک شخص (یا ایک عورت) صنعا سے حضر موت تک بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا کوئی نہ ہوگا‘ جس سے وہ خوف کھائے‘‘(بخاری‘ کتاب الاکرہ‘ باب اختار الضرب والقتل والہوان علی الکفر)۔

اللہ کا ارشاد ہے: ''دل شکستہ نہ ہو‘ غم نہ کرو‘ تمہی غالب رہو گے‘ اگر تم مومن ہو‘‘(آلِ عمران۳:۱۳۹)۔ دوسرے مقام پر ارشادِ ربانی ہے ''اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے‘ پھر جنہوں نے جرم کیا‘ ان سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق ہے کہ ہم مومنوں کی مدد کریں‘‘(سورۃ الروم‘ آیت نمبر۴۷)۔ اسی مضمون کی مزید تشریح سورۃ المومن میں ملتی ہے‘ جہاں ارشاد فرمایا: ''یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد‘ اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں‘ اور اس روز بھی کریں گے‘ جب گواہ کھڑے ہوں گے‘‘ (آیت نمبر۵۱)۔

رب رحیم و کریم کا وعدۂ نصرت صرف اس دنیا کی زندگی تک محدود نہیں‘ بلکہ روزِ حشر جب سب مادی امیدیں ٹوٹ چکی ہوں گی اور ظاہری سہارے چھوٹ چکے ہوںگے ‘تو بھی وہ اپنے بندوںکا دوست ہوگا۔ارشادِ ربانی ہے۔ ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قولِ ثابت کی بنیاد پر دنیا و آخرت‘ دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے۔ اللہ کو اختیار ہے‘ جو چاہے کرے۔ (سورۂ ابراہیم‘ آیت نمبر ۷۲)۔ قرآنِ مجید کی یہ بشارتیں پوری امت کے لیے ہیں‘ جس قلبِ مصفی پر نازل ہوئیں‘ اس کا بڑا عظیم مرتبہ اور اعلیٰ مقام ہے۔
رسولِ اکرمؐ ان بشارتوں کی مجسم تفسیر تھے اور آپؐ نے اپنے گرد جن لوگوں کو اکٹھا کیا تھا‘ شمع ِ رسالتؐ کے وہ سبھی پروانے ان بشارتوں کے نور سے مالامال اور حلاوتِ ایمان سے سرشار تھے۔

امت جیسے جیسے اس نور سے محروم اور اس حلاوت سے بے گانہ ہوتی چلی گئی‘ اللہ کی رحمتیں بھی روٹھ گئیں اور نصرتِ الٰہی سے محرومیاں ہمارا مقدر بن گئیں۔ ذرا غور کیجیے کہ صحابہ کرامؓ نے جو کلمہ پڑھا تھا‘ وہی کلمہ آج ہم بھی پڑھتے ہیں۔ جس قرآن نے ان کی زندگیاں بدل ڈالی تھیں‘ وہی قرآن انھی الفاظ میں آج بھی پڑھا جاتا ہے‘ لیکن بنیادی فرق یہ ہے کہ ہم نہ اس کلمے کی قدروقیمت کو پہچانتے ہیں‘ نہ قرآن کے انقلابی پیغام کو لے کراٹھتے ہیں۔

حضور اکرمؐ صحابہ سے جو بات کہتے‘ ظاہری حالات کی مکمل ناموافقت کے باوجود‘انہیں اس کے برحق ہونے کا کامل یقین ہوتا تھا۔ ان کا ایمان کبھی متزلزل ہوا‘ نہ ان کے قدم کبھی ڈگمگائے۔ ۵ھ میں جب غزوۂ خندق کا مشکل مرحلہ پیش آیااور آنحضورؐ نے صحابہ کے ساتھ مل کر مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے خندق کھودی‘ تو اس عمل کے دوران بھی کئی معجزات رونما ہوئے۔ مورخ ابن اسحاق کی ایک روایت سیرت نگار ابن ہشام نے اپنی سیرت نبوی میں نقل کی ہے۔ اس کے راوی حضرت سلمان فارسی ؓہیں۔

حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں: ''خندق کی کھدائی کے دوران ایک سخت چٹان آ گئی ۔ میں نے اسے توڑنے کی کوشش کی ‘مگر کامیابی نہ ہوئی۔ رسول اللہ مجھ سے قریب ہی کھدائی میں مصروف تھے۔ جب آپؐ نے صورتِ حال دیکھی تو میری مدد کو تشریف لائے اور کدال پکڑ لی۔ آپؐ نے پتھر پر ضرب لگائی تو کدال کے نیچے سے بجلی کا شعلہ نکلا‘ پھر دوسری ضرب سے ایسا ہی شعلہ نکلا۔ تیسری ضرب لگی تو بھی بجلی کی سی چمک پیدا ہوئی اور چٹان ٹوٹ گئی۔

میں نے عرض کیا: ''میرے ماںباپ آپؐ پر قربان‘ یا رسول اللہ جب آپؐ ضرب لگا رہے تھے‘ تو کدال کے نیچے‘ میں نے شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے۔ یہ شعلے کیسے تھے‘‘؟۔
آپؐ نے فرمایا: ''سلمان! کیا واقعی تم نے یہ شعلے دیکھے ہیں‘‘؟۔
میں نے اثبات میں جواب دیا تو حضورؐ نے کہا: ''پہلی ضرب پر جو شعلہ نکلا تو اس سے اللہ تعالیٰ نے یمن پر مجھے فتح عطا کی۔ دوسرے شعلے پر میرے لیے اللہ تعالیٰ نے شام کی فتح کا راستہ ہموار کر دیا اور تیسرے شعلے پر اللہ تعالیٰ نے مشرق کے ممالک کی فتح میرے لیے مقدر فرما دی‘‘۔

ابن اسحاق مزید بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ثقہ راویوں کی زبانی حضرت ابوہریرہؓ کی یہ روایت سنی ہے کہ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں ہونے والی ہر فتح پر وہ کہا کرتے تھے: ''جتنے علاقے بھی چاہو فتح کرتے چلے جائو۔ خدا یہ فتوحات مبارک کرے۔ مدینہ سے لے کر اقصائے عالم تک اور آج کے دن سے یومِ قیامت تک جتنے علاقوں پر بھی تم فتوحات کے پرچم لہرائو گے‘ ان سب کا حال اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوؐب کو بتا دیا تھا۔ مالکِ ارض و سماء نے ان علاقوں کی چابیاںاپنے نبی کو عطا فرما دی تھیں‘‘۔ ( معجزات سرور عالم‘ صفحہ ۷۹۔۸۰)

برادرانِ اسلام! صحابہ کے اندر ایمان اور عمل ‘ظاہر اور باطن‘ عبادت اور معاملات غرض ہر پہلو سے یک رنگی تھی۔ انہوں نے جو کہا‘ وہی کیا‘ جو مانا اسے ہی حق جانا اور جدوجہد سے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ آج ہم محض گفتار ہیں‘ کردار نہیں۔ یہی کمی دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ وہی خالق آج بھی اپنے انعامات سے نوازنے میں کیوں دیر کرے گا؟۔بقول شاعر؎
میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا
تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا